امریکا ،پر تشدد احتجاج میں 2 افراد ہلاک،ایمرجنسی نافذ

96
وسکانسن: نسل پرستی سے جنم لینے والی پولیس گردی کے خلاف مظاہروں کے دوران جھڑپیں ہو رہی ہے‘ جلاؤ گھیراؤ میں کئی گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں

میڈیسون (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست وسکونسن میں ایک سیاہ فام شہری پر پولیس کی فائرنگ کے بعد پُرتشدد احتجاج روکنے کے لیے ایمرجنسی لگادی گئی ہے۔ ریاست کے گورنر ٹونی ایورز نے کہا ہے کہ املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، لہٰذا پُرتشدد اور پُرامن احتجاج میں فرق روا رکھا جانا ضروری ہے۔ اس شہر میں اتوار کو پولیس نے 29 سالہ جیکب بلیک پر اس وقت فائرنگ کی تھی، جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ جیکب اس وقت شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے، جب کہ اس واقعے کے خلاف ریاست میں شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاج کی اس تازہ لہر کے تیسرے روز مزید 2 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ مظاہرین کا کہناہے کہ یہ افراد پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ پولیس نے براہِ راست مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا، جب کہ فائرنگ سے ہونے والی دھکم پیل میں بھی کئی افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ربر کی گولیاں استعمال برسائی گئیں۔ مظاہرین اپنی ہی گولیوں کا نشانہ بنے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین شدید خوف کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں اور گولیوں کی ترتڑاہٹ سنائی دے رہی ہیں۔ جب کہ خواتین کے رونے اور بچوں کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔