لبنان پر صیہونی جارحیت سرحدی علاقے میں خوف و ہراس

225
لبنان: اسرائیل کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے فضا روشن ہے‘ شہری گرنے والا ناکارہ گولہ دکھا رہے ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی، جس کے باعث مقامی باشندوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرحدی علاقوں پر گولہ باری کی۔ اسرائیلی فوج نے روایتی الزام لگایا کہ اس کے اہل کاروں کی جانب فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم داغے گئے گولہ آبادی پر گرتے رہے۔ اسرائیل نے یہودی بستیوں کی آبادی سے مطالبہ کیا کہ وہ گھروں میں ہی رہیں اور بتیوں کو بجھا دیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے ساتھ سرحد پر تمام راستے بند کر دیے۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے ملک کیجنوب میں پروازیں کیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے سرحد کے نزدیک واقع لبنانی قصبے میس جبل میں روشنی کے گولے داغے اور بھاری آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ فائرنگ کی۔ اس کے بعد طیاروں نے بدھ کو علی الصبح بم باری بھی کی گئی، جس میں حزب اللہ کی پوسٹوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل سرکاری طور پر حالت جنگ میں ہیں۔ 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان خوں ریز جنگ 33 روز تک جاری رہی تھی۔ اس دوران لبنان میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت شہریوں کی تھی۔ دوسری جانب اسرائیل میں 160 افراد مارے گئے تھے، جن میں زیادہ تعداد فوجی اہل کاروں کی رہی۔ گزشتہ ماہ 27 جولائی کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کی لبنانی سرحد پر جھڑپ ہوئی ہے۔