ن لیگ اور پی پی آؤٹ‘ فضل الرحمن نے 10چھوٹی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا

114
اسلام آباد: لیگی رہنما شہباز شریف فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں

اسلام آباد(آن لائن/صباح نیوز ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی 10 چھوٹی جماعتوں کا اجلاس کل (جمعرات کو ) طلب کر لیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہوگا جس کے لیے مولانا فضل الرحمن نے 2 بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اجلاس سے آؤٹ کردیا ہے۔ اجلاس میں جماعت اسلامی ، نیشنل پارٹی اور اے این پی کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے جبکہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت اہلحدیث ،جے یو پی ، قومی وطن پارٹی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ حکومت سے الگ ہونے والی جماعت بی این پی مینگل کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے اس کے علاوہ بی این پی عوامی کے میر اصرار اللہ کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ ذرائع کا کہناہے کہ اپوزیشن کی 10 چھوٹی جماعتوں کے اجلاس میں آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا اور حکومت مخالف تحریک سمیت ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ کے صدر اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کو اپوزیشن کے اتحاد کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے نئے اتحاد کی تیاری پر اپوزیشن لیڈر جے یو آئی کی قیادت کو منانے کے لیے متحرک ہوگئے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فضل الرحمن پارلیمنٹ میں دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے اپوزیشن کے حکومت کے خلاف غیرموثر کردار پر انتہائی ناراض ہیں، گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں اہم معاملات پر ہونے والی قانون سازی کے حوالے سے بھی اپوزیشن کے رسمی احتجاج پرا پوزیشن قائدین کو خدشات سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ فضل الرحمن اس بار تحریری طورپر تمام بڑی جماعتوں سے حکومت کیخلاف سرگرمیوں سے متعلق ٹائم فریم اور تحریک کے لائحہ عمل کا اعلان کروانا چاہتے ہیں۔ان کی طرف سے نئے اتحاد کی کوششیں تاحال جاری ہیں، 7جماعتیں اس اتحاد پر آمادہ ہیں۔فضل الرحمن ان جماعتوں کے رہنمائوں کو شہباز شریف سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی اعتماد میں لیں گے اور ان جماعتوں کے رہنمائوںکا الگ سے مشاورتی اجلاس کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جس میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا جائے گا ۔ اس مشاورتی اجلاس کی تجاویز سے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو آگاہ کیا جائے گا اور ان سے واضح حکمت عملی کے بارے میںدوٹوک بات کی جائے گی تاکہ بغیر کسی تاخیر، رکاوٹ کے حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک شروع کردی جائے۔ دریں اثناء شہبازشریف نے پارٹی وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر جو اپوزیشن جماعتیں ہیں ان سب کو ہم اکٹھا کریں گے اور اس مشاور ت کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کے لیے یکسوئی دکھانی ہوگی۔