اقامت دین کی جدو جہد کے79سال

212

لیاقت بلوچ
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان
جماعت اسلامی کا یوم تاسیس 26اگست 1941ء ہے ،79 سال الحمدللہ مکمل ہوئے اور یہ 80واں یوم تاسیس ہے۔جماعت اسلامی گزشتہ صدی کی اہم ترین اسلامی تحریکوں میں سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مفکر اسلام مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دعوت پر 26/25اگست 1941ء کو لاہور میں پورے برصغیر سے 100کے لگ بھگ افراد سے شرکت کے دو روزہ اجلاس میں اس کاقیام عمل میں آیا۔ 75افراد نے باقاعدہ تجدید ایمان و عہد کا حلف اٹھایا ، جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔ لاہور کے اس منعقدہ اجلاس میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو جماعت کا اسلامی تاسیسی امیر منتخب کیا گیا ۔ 27اگست 1941ء کو امارت جماعت کا حلف ہوا۔ جماعت نے اپنے تاسیسی اجلاس میں ہی طے کرلیا کہ یہ روایتی انداز کی قومی، ملی ، مذہبی اور سیاسی جماعت نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقی اسلامی روح کے ساتھ ایک نظریاتی تحریک ہوگی ، جس کی جدوجہد ،دعوت دین ، اصلاح فکر و کردار کی ترجیح ،انسانوں کی اصلاح ، اقامت دین اور ریاستی نظام میں مکمل اسلامی تعلیمات کی تنفیذ کی جدوجہد ہوگی۔
جماعت اسلامی نے اپنے قیام کے ساتھ ہی مشاورت ، شورائیت ، جمہوری اسلامی قدروںکے نظام کو بتدریج مستحکم کیا، جماعت اسلامی کی تمام سرگرمیوں کو ایک دستور اور ضابطوں کا پابند کیا گیا ، جماعت اسلامی میں موروثیت تاحیات قیادت کے تصورکی بجائے شورائی ، انتخابی روایات کو مستحکم کیا۔ الحمدللہ جماعت اسلامی ان روایات پر کامیابی سے عمل پیرا ہے۔ حالات جس نوعیت کے بھی ہوں جماعت اسلامی کی ہر سطح کی قیادت ، شوراؤں کے انتخاب ، استصواب کاعمل جاری رہتاہے اس میں کبھی کوئی رخنہ نہیں پڑا ۔ 75ارکان سے جس قافلہ کے سفر کاآغاز ہوا آج الحمدللہ جماعت اسلامی کے 35260مرد ارکان ، خواتین ارکان 5154(کل ارکان 40,414)،مرد و خواتین اُمیدواررکنیت 12891کارکنان 207065 اور ممبران 26,11,734 میں جماعت اسلامی کی امارت ، شوریٰ کے انتخاب کے لیے دستور کے تحت آزاد ، با اختیار الیکشن کمیشن قائم ہے۔ دستور جماعت میں انتخاب و دستور پر الحمدللہ اس کی روح کے مطابق عمل ہوتاہے جماعت اسلامی کے اندرونی حلقوں میںکامل اطمینان ہے۔ دینی ،سیاسی ،جمہوری جماعتوں کے لیے جماعت اسلامی کاانتخابی، جمہوری عمل رہنمائی کاباعث ہے۔ 27اگست 1941ء سے امارت جماعت کاانتخاب متعین مدت کے مطابق جاری ہے۔ اب تک پانچ امراء منتخب ہوئے جن کی ترتیب یہ ہے ۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ(26اگست 1941ء تا 1972ء) ،میاں طفیل محمدؒ مرحوم (نومبر1972ء تا1987ء )قاضی حسین احمد ؒ(نومبر1987ء تا اپریل 2009ء ) ، سیدمنورحسن ؒ(اپریل 2009ء تا اپریل 2014ء )۔ اس وقت سراج الحق صاحب جماعت اسلامی کی امارت کے منصب پر فائز ہیں۔ بلاتعطل جاری اس با اعتماد عمل نے جماعت اسلامی کو زندہ ، مؤثر اور متحرک تحریک کامقام دیا ہے۔
14اگست 1947ء کو دنیا کے نقشہ پر آزاد اسلامی ریاست پاکستان وجود میں آگئی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دیں ، آزادی اور اسلامی ریاست سب کی منزل تھی ، بڑی تعداد میں ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مشرقی اور جنوبی پنجاب میں فسادات کی وجہ سے گونا گوں پیچیدگیاں اور خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ شہر ،بستیاں اور آبادیاں ، مہاجرین کیمپ ،گندگی ، تعفن کی وجہ سے ایسی کیفیت میں گھر گئے کہ سڑکوں ، راستوں سے گزرنا محال ہوگیا۔ ہیضے کے واقعات اس قدر ہوئے کہ لاشوں کو اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کاکوئی بندوبست نہ تھا۔ قیادت اور مسلم لیگ کانظام بے بسی کے عالم میں تھا۔ بد انتظامی اور منتظمین کی ناکامی اور نا اہلی کے خدشات تو تھے لیکن اس قدر جلدیہ رونما ہوں گے اس کاکسی کو تصور بھی نہیں تھا۔ان حالات میں قیام پاکستان کے ابتدائی ایام ( اگست ،ستمبر1947ء) میں مسلمانوں کی اخلاقی حالت کی کمزوریوں کے پیش نظر جماعت نے اپنی سرگرمیوں اور کاموں کے لیے یہ رہنما اصول طے کیے جو جماعت اسلامی کے ہمیشہ کے لیے استحکام اور انسان و پاکستان دوستی کا مظہر بن گئے ۔ اس پروگرام کے مطابق کارکنان کے لیے درج ذیل ترجیحات طے کردی گئیں۔
۱۔ہندوستان کے مختلف حصوں سے جو لوگ مصائب کا شکار ہو کر آ رہے ہیں ، ان کی جس حد تک بھی ممکن ہو مدد و خدمت کرنا۔
۲ ۔مسلمانوںکے اندر تقسیم کے موقع پر ظاہر ہونے والی کمزوریوں کاپتہ چلا ہے ۔ اُن کے علاج کی فکر اور جن لوگوں کی آنکھیں اس سے کھل گئی ہیں انہیں راہ عمل دکھانا ،ہمارا فرض ہے کہ ان کی اصلاح کریں اور ان کو راہ راست دکھائیں ۔
۳۔جن کے ہاتھوں میں پاکستان کانظام ہے ،اُن پر جو مصائب آن پڑے ہیں ، اب یہ سب بے بس نظر آ رہے ہیں اور وہ ان سے عہدہ برآہونے میں ناکام ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں کہ پاکستان بنانے میں حصہ لینے یا نہ لینے کی بحث میں پڑا جائے ، اب ہم سب اس کشتی کے سوار ہیں ۔ ہمار ا فرض ہے کہ اسے ڈوبنے سے بچائیں ،سب کا رکنان اس کام کو دینی ، انسانی اور ملی فریضہ ادا کرنے پر کمربستہ ہوگئے ۔ ان ابتدائی ایام میں ہی جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس (30ستمبر1947ء ) نے طے کیاکہ ہم موجودہ حکومت کے ساتھ نظام حکومت میں تعاون کرسکتے ہیں۔ (۱)۔ پاکستان کے تحفظ اور اس کی سا لمیت کو یقینی بنانا ۔ (۲)۔تمام باشندوں کے مورال کو بلا امتیاز بحال کرنے کی کوشش کرنا۔ (۳)۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل کی جدوجہد کرنا۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے شوریٰ کو آگاہ کیا کہ انہوںنے وزیراعلیٰ پنجاب نواب افتخار حسین ممدوٹ سے ملاقات کی ہے اور انہوںنے جماعت اسلامی کے عملی تعاون کی تجاویز کا خیرمقدم کیاہے لیکن اس کی عملی صورت وہ بھی نہیں بتاسکے۔ جماعت اسلامی آج بھی اپنے اولین دور میں پاکستان کی اسلامی ،فلاحی ، خوشحالی و استحکام کے لیے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں برسرپیکار ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آج بھی جماعت اسلامی متحرک نظر آتی ہے ، مقبوضہ ریاست جموںوکشمیر کے مظلوم عوام کی مدد ،پشتی بانی کے لیے جماعت اسلامی کاکردار ،اپنوں اور غیروں ، خاص و عام میں بالکل عیاں اور تسلیم شدہ ہے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ ریاست جموںوکشمیر کشمیریوںکا ہے ،بھارت ناجائز قابض ہے ،بھارتی ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی صریحاً ظلم اور مجرمانہ چشم پوشی ہے ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطالبہ حق خود ارادیت کشمیریوں کابنیادی حق ہے ۔ یہ بھی تاریخی ریکارڈ ہے کہ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ 30اگست 1947ء کو پاکستان پہنچے اور دوسرے دن ہی 31اگست کو آپ وزیراعلیٰ پنجاب نواب افتخار حسین ممدوٹ سے ملاقات کرنے گئے اور انہیں کشمیر کی صورت حال پرتوجہ دلاتے ہوئے کہاکہ ریڈ کلف ایوارڈ کااعلان ہوچکاہے ۔ اس نے گورداسپور ضلع اسی لیے ہندوستان کودیا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ کے راستے کشمیر پر قبضہ کرسکے۔ اب وقت ضائع کیے بغیر پنجاب کے ہزاروں سابق فوجیوں کو متحرک کرکے جلد از جلد کشمیر بچانے کی فکر کی جائے ، ان فوجیوں کے پاس کچھ نہ کچھ اسلحہ ہوتاہی ہے اس وقت اسی سے کام چلایاجاسکتا ہے۔ یہ ہی تجویز لے کر مولانا مودودیؒ چوہدری محمدعلی سے ملنے گئے اور ان سے کہاکہ میری تجویز لیاقت علی خان تک پہنچا دی جائے اور مزید یہ کہ فی الفور کشمیر کی فکر کیجیے اور مہاراجہ کشمیر سے موجودہ صورت حال کو برقرار رکھنے کاکوئی معاہدہ نہ کیاجائے۔ جماعت اسلامی نے بر وقت مسئلہ کشمیر پر قابل عمل ، جرأت مندانہ مؤقف پیش کردیا لیکن یہ امر بڑے افسوس کا باعث تھاکہ اس وقت بیشتر حکمران طبقہ ہندوئوں ، سکھوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں پر قبضہ کرنے میں لگا ہوا تھا۔ اور ان میں کچھ ایسے لوگ تھے جو مہاجرین کے کیمپوں میں ان مسلمان لڑکیوں کو تلاش کرتے پھرتے تھے جوہندوئوں اور سکھوں سے بچ کر آگئی تھیں۔ کشمیر پر اول مرحلہ پر ہی غیر ذمہ دارانہ روش نے اس صورت حال سے دوچار کیاہے۔
مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مسلم قیادت سے ہر طرح رابطہ رکھا ، لیکن جذباتی ، دور رس اصلاحات سے عاری نظام کے کارپرداز کو ئی خیر کی معقول بات سننے کو تیار نہ تھے۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر آخرکار سید مودودی ؒ نے اذان بلند کردی کہ نجات اور فلاح کاراستہ انبیاء ،خاتم الانبیاء ، خلفائے راشدین ؓ ،صحابہ کرام ؓ کے راستہ پر چلنے میں ہے۔ انہوںنے پکار دی کہ آؤ نجات و فلاح کے راستہ پر آؤ۔ یہ آواز سن کر وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے جن کے دل و دماغ سید مودودیؒ کی دعوت مسخر کرچکی تھی جو بے تاب بیٹھے تھے کہ پکارنے والا پکارے اور وہ اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے قافلے کی صورت اختیارکریں ، وسط اگست تک ترجمان القرآن میں تقریباً سوا صحاب کی فہرست تیار ہوگئی جنہوں نے اس قافلے میں شریک ہونے کا عزم کیاتھا۔ سید مودودیؒ نے 25اگست 1941ء کو ان حضرات کو مدعو کرلیا ، اسلامی تحریک اپنے تاریخ ساز لمحات کی طرف بڑھ گئی۔ اسی عرصہ میں مستری محمدصدیق اور قمر الدین خان نے مولاناابوالکلام آزاد ؒ سے ملاقات کی انہیں سید صاحب کی فکر اور دعوت سے آگہی دی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا ہم نے حزب اللہ اسی مقصد کے لیے قائم کی تھی۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ بہت اچھا کام کررہے ہیں لیکن میں یہ کوشش کرکے مایوس ہوچکاہوں، مسلمان اس عظیم الشان کام کے اہل نہیں ہیں اب میں جو کام کررہاہوں اسے کافی سمجھتاہوں۔ مولانا مودودی ؒ کے لیے یہ دعاہے کہ اللہ انہیںکامیاب کرے۔
جماعت اسلامی گزشتہ79سال سے اقامت دین کی جدوجہد کررہی ہے ، جماعت اسلامی جس مقصد کے لیے قائم ہوئی وہ یہ کہ انسانی زندگی کے پورے نظام کو اس کے تمام شعبوں جو فکر ونظر ،عقیدہ وخیال ، مذہب و اخلاق ، سیرت و کردار ،تعلیم و تربیت ، تہذیب و ثقافت ، تمدن و معاشرت ، معیشت و سیاست ، قانون و عدالت ، صلح و جنگ اور بین الاقوامی تعلقات پر محیط ہیں کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے بتائے ہوئے اصولوں کاپابند بنادیاجائے۔ جماعت اسلامی کو اس پوری مدت میں فوجی ، سول آمریتوں ، سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ناروا رویوںکا سامنا رہاہے لیکن اللہ کے دین کی دعوت کو گھر گھر ، فرد فرد تک پہنچانے کا فریضہ جاری رکھاگیا۔ جماعت اسلامی نے انسانی معاشرہ اور ریاستی نظام کی ہمہ گیراصلاح کے لیے طلبہ ، مدارس ، خواتین ،نوجوانوں ،کسانوں ،ہاریوں ،ڈاکٹرز ،انجینئرز ،اساتذہ ، سائنسی ماہرین ،وکلاء ،تاجروں ، صنعت کاروں ، زرعی ماہرین ،سنجیدہ فہمیدہ سول سوسائٹی میں دین کی دعوت ،اصلاح فکر و کردار کے لیے ہمہ جہت کوششیں جاری رکھی ہیں، ریاستی نظام کے چلانے کے لیے اہل بااعتماد صاحب کردار مردان کار کی تیاری کے لیے تربیت کا مؤثر ہمہ گیر نظام دیا ہے ،علمی ، فکری مباحثوں ،تحقیقی مقالہ جات اور جدید تقاضوں کے مطابق فکری غذا کی تیاری کے لیے تحقیقاتی ادارے قائم کیے ہیں۔ الحمدللہ جماعت اسلامی نے اللہ کے فضل و کرم سے وسعت اور عملی اقدام کے مراحل جاری رکھے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اللہ ہی کے فضل و کرم سے کارکنان میں سمع و اطاعت ، خدمات انسانیت اور امانت و دیانت کی احساس ذمہ داری کا جذبہ پیدا کیاہے ۔ اللہ کی یہ خاص عنایت ہے کہ ریاستی نظام کے فرسودہ ماحول میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنان ،قیادت ،امانت ،دیانت ، سلیقے اور احساس ذمہ داری کا عمل پیش کرتے ہیں ،ان شاء اللہ اب یہ یَدْخُلُوْن فِیْ دِیْنِ اللّٰہ کامرحلہ ہے۔ ہر کارکن کا یہ یقین کامل ہے کہ اللہ کا دین غالب ہونے کے لیے ہے اور باطل نظریات اور طاقت کو مٹ ہی جانا ہے۔
جماعت اسلامی نے 79سالوں میں اپنی دعوت ، اتحاد اُمت کے جذبہ ، سیدمودودیؒ کی تحریروں کے ذریعے شرق وغرب میں اسلام کی حقانیت کاپیغام عام کیاہے ، خصوصاً پاکستان ،بھارت، بنگلہ دیش ،ریاست جموںو کشمیر میں یہ اثرات بہت گہرے ہیں ، اسی جدوجہدمیں اشتراکیت ، مغربی تہذیبی سرمایہ دارانہ نظام، متعصب قوم پرستی ، ظلم و جبر کے خلاف مدلل اور جرأت مندانہ پیغام منظم کرکے ان فتنوں کامقابلہ کیاہے۔ جماعت اسلامی نے عالمی استعماری طاغوت کے مقابلہ میں عالم اسلام کے اتحاد ، دینی مشترکات ، وحدت واتحاد کے لیے ملت اسلامیہ کو قرآن و سنت کی بنیادپر متحد کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ پاکستان میں قرار داد مقاصد ،علماء کے 22نکات ، آئین ،تحفظ عقیدۂ ختم نبوت و ناموس رسالت ؐ، مسالک و فرقوںکے درمیان اتحاداحترام وبرداشت کے لیے ملی یکجہتی کونسل کے 17نکات ، جہاد کامحاذ ہو ، یا دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قومی اتفاق رائے ہو جماعت اسلامی نے فعال اور ہراول دستہ کاکردار ادا کیاہے ۔ جماعت اسلامی نے اپنے دینی ، قومی اور جمہوری مزاج کی بنیاد پر آئین و قانون کی بالادستی ،عدل وانصاف ، اسلام کے معاشی نظام کے لیے اقامت دین کو ترجیح دی ۔ آمریتوں اور آئین سے کھلواڑ کرنے والی قوتوں کے مقابلہ میں ہمیشہ حکمت ، تدبر سے کامیاب جمہوری جدوجہد کی ہے۔ اسی وادیٔ پُر خار میں جماعت اسلامی کی قیادت ، کارکنان کو قید و بند ، سزائے موت ،ظلم و تشدد ، شہادتوں سے گزرنا پڑاہے۔ لیکن حق کا سفر جاری رہا۔ آج 80ویں یوم تاسیس کے موقع پر ہر کارکن کا اللہ سے یہ عہد ہے کہ اسلام کی حکمرانی ، اسلامی پاکستان ،خوشحال پاکستان کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔