مکہ،طائف اور مدینہ کی تحریک کا تسلسل

230

سینیٹر سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان

جماعت اسلامی منصئہ شہودپر تو 26اگست 1941ء کو آئی مگر یہ اس تحریک کا آغاز نہیں تھا ،جماعت اسلامی اسی تحریک کا تسلسل ہے جو مکہ کے غاروں ،طائف کے بازاروں ، مدینہ کی گلیوں،ہجرت کی سختیوںاور بدر و حنین کے معرکوں سے نبرد آزما ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے ۔یہ تحریک انسانیت کی رہنمائی کافریضہ انجام دے رہی ہے اور قیامت تک اپنی یہ ذمہ داری نبھاتی رہے گی ،اس تحریک کا آغاز خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے 14سوسال قبل کیا،پھر یہی تحریک خلافت راشدہ ،صحابہ کرامؓ ،تبع تابعین ، آئمہ کرام اورمشائخ عظام کی محنتوں سے ہم تک پہنچی ہے،اس تحریک کی قیادت امام ابو حنیفہ ،ؒامام ،شافعی ؒ ،امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالک ؒنے کی ،یہی تحریک لیکر امام ابن تیمیہ ؒ آگے بڑھے ،پھر یہ تحریک سیدعبد القادر جیلانی ؒ،سیدمجدد الف ثانی ؒ سے ہوتی ہوئی سید علی ہجویر یؒ ،بابا بلھے شاہؒ ،سید حسن البناشہیدؒاور سید مودودی ؒ تک پہنچی اور آج یہ تحریک دنیا بھر میں جماعت اسلامی کے نام سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ بقول علامہ محمد اقبال ؒ بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ جماعت اسلامی وطن عزیز کی واحد دینی جماعت ہے جو ہر قسم کے مسلکی ،علاقائی اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہے ۔اس کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں ،جماعت اسلامی میں شورائی نظام ہے جس میںکارکنان کی مشاورت کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ جماعت اسی منہج پر کاربند ہے جس کی تعلیم حضور ﷺ نے اپنی سنت مبارک سے دی تھی وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب اور فرستادہ ہونے اور براہ راست اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے امین ہونے کے باوجود صحابہ کرام ؓ سے ہر معاملے میں مشاورت کرتے حالانکہ ان پر وحی الٰہی نازل ہوتی تھی اور وہ انسانی مشوروں سے بے نیاز تھے مگر انہوں نے کبھی بھی صحابہ کرام ؓ کی آرا کو نظر انداز نہیں کیا اور ان کا پورا پورا احترام کیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا کہ ’’ اپنے معاملات میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کرو‘‘۔ملک کو اس کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ کرنے اور عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کیلئے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا اعتراف اس کے مخالفین بھی کرتے ہیں ۔قرار داد مقاصد ،تحریک نظام مصطفیٰﷺ ، تحریک ختم نبوت،بنگلا دیش نامنظور اور دیگر قومی تحریکوں میں جماعت اسلامی نے ہمیشہ صف اول میں رہتے ہوئے اپنا شاندار کردار نبھایا ہے ۔جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں موروثیت کا کوئی شائبہ تک نہیں ،یہاں ہر کارکن قائد اور قائد کارکن ہے ۔کوئی کارکن بھی قیادت کے منصب تک پہنچ سکتاہے ۔دیگر جماعتوں خواہ وہ سیاسی ہوں یا دینی،ان میںجمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ،موروثیت نے پارٹیوں پر قبضہ جما کر انہیں خاندانی پراپرٹی بنا رکھا ہے ،باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتاپارٹی قیادت پر قابض ہوجاتا ہے اور اگر بیٹا یا پوتا اس قابل نہ ہو تو بیٹی نواسی یا پوتی اس منصب جلیلہ پر فائزہوجاتی ہے اور کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں ہوتی۔ ایک طبقہ اشرافیہ نے ان پارٹیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ، کہیں جاگیردار ہیں کہیں وڈیر ے اور سرمایہ دار اور کہیں قومیت و مسلک کے علمبردار ! جبکہ جماعت اسلامی نے ان موروثی خرابیوں اور خاندانی تسلط سے پاک ایک آئینی و جمہوری راستے پر چلتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے ۔بانیٔ جماعت اسلامی سید مودودیؒ ،میاں طفیل محمد ؒ ،قاضی حسین احمد ؒ اور سید منور حسن کے کسی بیٹے ،بیٹی ، پوتے یا نواسے نے کبھی خواب میں بھی جماعت اسلامی کا امیر بننے کے متعلق نہیں سوچا ۔ جماعت اسلامی کی دعوت کا مرکزو محور ہی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے ۔ اس کی دعوت کا مرکزی نقطہ ہی یہ ہے کہ ــ’’اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیا ں جمع نہ کرو‘‘ہم کسی کو اپنے امیر کی طرف نہیں بلاتے اور نہ کسی خاص شخصیت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے کارکن اپنے امیر کی اطاعت بھی معروف میں کرتے ہیں ،مجہول اور منکر کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے ۔ ( سید مودودی ؒ )۔جماعت اسلامی عالمی اسلامی تحریکوں کی سرخیل کا کردار ادا کررہی ہے۔ اندرون ملک جماعت اسلامی کے شاندا رماضی نے اس کے تابناک مستقبل کی راہ متعین کردی ہے۔ آج ایک زمانہ جماعت اسلامی کی خدمات، خواہ وہ خدمت خلق کے حوالے سے ہوں ، دفاع وطن کے حوالے سے ہوں، جمہوریت کی بحالی اور اسلامی نظام حکومت کے قیام اور آئین پاکستان کی تدوین کے لئے ہوں یا ملک میں سیکولرزم اور فاشزم کا راستہ روکنے کے حوالے سے ہوں کا معترف ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیم ’طریقہ کار‘اپنے کاز سے کمٹمنٹ ، خدمت و اخلاص اور صلاحیتوں کا دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں۔ جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں جماعت اسلامی نے بنیادی کردار ادا کیاہے۔یہ جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت اور جدوجہد کا بین ثبوت ہے کہ آج بھی مسئلہ کشمیر کو ایک قومی مسئلہ کی حیثیت حاصل ہے اور حکمران تمام تر عالمی دبائو کے باوجود اس سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتے ۔
جماعت اسلامی کی تنظیم ہمیشہ قابل رشک رہی ہے ۔ جماعت اسلامی کے کارکنان کے نظم و ضبط کی مثالیں دی جاتی ہیں ،جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کے سامنے ایک واضح نصب العین ہے جس کو وہ کسی بھی صورت نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے ۔جماعت اسلامی کے سینکڑوں ارکان و کارکنان سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کے ممبر رہے مگر کسی کے دامن پر کرپشن ،کمیشن ،اقربا پروری کا کوئی داغ نہیں ،یہ محض اللہ تعالیٰ کی کرم نواز ی اوراس کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے ،ورنہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں سیاستدان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت لوٹ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی مظلوم طبقہ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ہم اقتدار کے ایوانوں کے دروازے عام آدمی پر کھولنے کی جدوجہد کررہے ہیں تاکہ غریب مزدور ،ہاری اور کسان کے بیٹے کو بھی زندگی گزارنے کی وہی سہولتیں مل سکیں جن سے وزیروں مشیروں اور حکمرانوں کے بیٹے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کی سیاست کا بنیادی مقصد ملک میں شریعت کا نفاذہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم مقصد جس کیلئے ہمارے بڑوں نے بے انتہا قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ یہاں مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی حکومت قائم نہیں ہوجاتی ۔ایک ایسی حکومت جس کے پیش نظر معاشرے کے پسے ہوئے طبقہ کی فلاح و بہبود ہو ،جس میں یتیموں ،بیوائوں مسکینوں اور غریبوں کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں اور ریاست ان کی کفالت کی ذمہ داری پوری کرے ۔یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک کہ عوام اس کے حصول کیلئے ایک بڑی جدوجہد کیلئے تیار نہ ہوں ۔ مفہوم آیت، ’’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا‘‘ نومبر2015 میں جماعت نے مینار پاکستان لاہور کے سبزہ زار میں کل پاکستان اجتماع منعقد کیا اور ملک بھر سے عوام کو اسی میدان میں اکٹھا کیا جس میں کھڑے ہوکر ہمارے آبائو و اجداد نے ایک اسلامی ریاست کے حصول کا عہد کیا تھا ۔ہم نے قوم کو ’’اسلامی پاکستان ۔خوشحال پاکستان کا ایجنڈا دیا ۔جس میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت اسلامی کو اقتدار دیا اور عوام نے ہم پر اعتماد کیا تو ہم پاکستان کو مدینہ کی اسلامی و فلاحی ریاست کا نمونہ بنا ئیں گے ۔سودی معیشت کا خاتمہ کیا جائے گا ،عورتوں اور طالبعلموں کو غیر سودی قرضے مہیا کئے جائیں گے ۔عام آدمی کے حقوق کا تحفٖظ کریں گے ،مزدوروں کسانوں اور محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دلائیں گے ۔مزدور کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار مقر ر کریں گے اور غریبوں کو پانچ بنیادی ضروریات زندگی ،چاول چینی آٹا گھی اور دالیں ارزاں نرخوں پر مہیا کریں گے اور پانچ بڑی بیماریوں دل گردے ہیپاٹائٹس،کینسر اور تھیلیسمیا کا تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہوگا۔غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرے گا ۔مدارس کو بھی وہی سہولتیں دیں گے جو بڑے تعلیمی اداروں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو حاصل ہیں ۔تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم ہوگا۔آئمہ کرام اور خطباء کو سرکاری خزانے سے تنخواہ دی جائے گی تاکہ وہ ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کریں اور مسلکی ،علاقائی اور قومیتوں کے تعصبات کو ختم کرکے ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھا جاسکے ۔ہمیں امید ہے کہ قوم اسلامی پاکستان۔خوشحال پاکستان کے ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دے گی اور پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا عزت و وقار دوبارہ حاصل کرسکے گا۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی زندگی تاریخ کے آئینے میں

25 ستمبر 1903 ء کو حیدر آباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے ۔
1906 تا 1913 ء ابتدائی تعلیم کے مراحل سے گزرے ۔
1918 ء میں صرف پندرہ سال کی عمر میں صحافت کا آغاز ’’ اخبار مدینہ ‘‘ سے کیا ۔
1920 ء میں مولانا مودودیؒ کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔
1925 ء میں ’’ الجمعیۃ ‘‘ دہلی کی ادارت سنبھال لی جو چار سال تک جاری رہی ۔
1932 ء میں حیدر آباد دکن سے ماہنامہ ’’ ترجمان القرآن ‘‘ کا اجرا کیا ۔
26 ؍اگست 1941 ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔
11 مئی 1953 ء کو فوجی عدالت نے مولانا مودودی ؒ کو سزائے موت سنا دی ۔
1957 ء میں ماچھی گوٹھ میں جماعت اسلامی کا چوتھا کل پاکستان اجتماع ہوا ۔
1963 ء میں لاہور میں مولانا سید مودودی ؒ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔
1967 ء میں بحالی جمہوریت کے لیے دوسری جماعتوں سے مل کر تحریک جمہوریت پاکستان ( پی ڈی ایم) کی تشکیل کی ۔
1970 ء میں مولانا مودودیؒ کے اعلان پر بے مثال یوم شوکت اسلام منایا گیا ۔
1973 ء میں 31 سال تک تحریک کی رہنمائی کرنے کے بعد مسلسل علالت کی وجہ سے جماعت اسلامی کی امارت سے معذرت کر لی ۔
1979 ء میں علاج کی غرض سے مولانا مودودی ؒ امریکہ گئے ۔ 22 ستمبر 1979 ء کو بفیلو ہسپتال امریکہ میںانتقال فرما گئے ۔

جماعت اسلامی کیا چاہتی ہے !

سید منور حسنؒ سابق امیر جماعت اسلامی
جماعت اسلامی پاکستان متحرک اور فعال تحریک کا نام ہے۔ جمود کے نام سے یہ آشنا نہیں ہے، جہاں اس کی قیادت مسلسل متحرک و فعال رہتی ہے وہیں جماعت اسلامی کے کارکنان کوا سلامی انقلاب کے غلبے کی جدوجہد میں ہمہ وقت مصروف رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لئے اجتماعات، دروس قرآن و حدیث اور شب بیداریاں ہماری تحریک کا وطیرہ ہیں۔جماعت اسلامی کی دعوت، اﷲ کی بندگی اور بندوں کو بندوں کے ظلم سے نجات دلا کر اسلام کے نظام عدل و انصاف کو قائم کرنے کی دعوت ہے۔ ہم جس کلمہ کو پڑھ کر مسلمان کہلاتے ہیں، یہ کلمہ ہمیں جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔ہرظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد ، ہر مظلوم کی داد رسی، ہر دکھی کی آواز پر اٹھنا اور ضعیف و بے سہارا کی مدد کرنا، معاشرے سے غربت و افلاس کو ختم کرنا، راحت و سکون پرمبنی معاشرہ قائم کرنا اور اپنے رب کی جنتوں کی طرف لپکنا، بڑھنا اور ’’ففرو الی اﷲ‘‘ کا مصداق بن جانا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دعوت الی اﷲ پر لبیک کہیں، انفاق فی سبیل اﷲ کی پکار پر تن من دھن قربان کریں، جہاد فی سبیل اﷲ کی صدا بن کر اپنی جان ہتھیلی پر لیے میدان میں نکل آئیں اور پکار اٹھیں کہ:۔
اِنّ صلوتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین
(میری نماز میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اﷲ رب العالمین کے لئے ہے)
جماعت اسلامی ایک علمی ، فکری اور انقلابی تحریک ہے ۔ ذہنوں کو جِلا بخشنے والا اس کا فکر انگیز لٹریچر آج بھی دنیا کی تقریباً46 بڑی زبانوں میں موجود ہے اور چار دانگ ِعالم میں اس کا چرچا ہے ۔ ہر جگہ اسلامی ، جہادی اور انقلابی تحریکوں کی یہ جان ہے ۔ آج دنیا سمٹ گئی ہے اور ایک ’’ گلوبل ویلج ‘‘ بن گئی ہے ۔ امریکہ اور اس کے حواری گلوبلائزیشن کے نام پر اپنا ’’ نیا عالمی نظام ‘‘ بزور طاقت اس گلوبل ویلج پر نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم اپنے ایمان اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے عہد و پیمان کی بنیاد پر پابند ہیں کہ پوری دنیا میں کلمہ ٔ طیبہ کی حکمرانی قائم کریں۔ مغرب کے پاس عقیدہ ہے نہ پیغام و دعوت ، اس لیے وہ تباہی پھیلانے والے آلات کے ذریعے دنیا فتح کرنا چاہتا ہے جبکہ امت مسلمہ عالمی ، آفاقی اور عالمگیر پیغام کی بنیاد پر دلوں کو جیتنے اور ذہنوں کو مسخر کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے اور امریکی استعمار کے استحصالی اور ظالمانہ نظام کا مقابلہ نہتے اور بے سرو سامانی کے عالم میں اللہ کی نصرت و تائید کے سہارے کر رہی ہے ۔
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے