امریکا ،مظاہروں پر قابو پانے کیلئے پھر نیشنل گارڈز تعینات

174
وسکانسن: مظاہرین پولیس کے تشدد سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں‘ نیشنل گارڈز سڑکوں پر موجود ہیں

میڈیسون (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ایک اور سیاہ فام پر پولیس کے تشدد کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کرلی گئی۔ ریاست وسکونسن میں جیک بلیک نامی سیاہ فام شخص پر پولیس کی فائرنگ کے خلاف شہری شدید غم و غصہ کی کیفیت میں ہیں اور گزشتہ روز شہر میں کرفیو کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل خلاف کیا۔ واقعہ وسکونسن کے شہر کینوشا میں پیش آیا تھا،جب خاندانی تنازع کی شکایت پر طلب کیے گئے پولیس اہل کاروں نے زیر حراست 29 سالہ جیکب بلیک کو مزاحمت نہ کرنے کے باوجود 7 گولیاں ماری تھیں۔ اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں وہ زندگی و موت سے نبرد آزما ہے۔ پیر کے روز حکام نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا تھا تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد میں شہری باہر نکلے اور احتجاج کے دوران اہل کاروں پر چیزیں اچھالیں۔ ادھر امریکی حکومت نے مظاہرین کو طاقت سے کچلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک بار پھر ریاست وسکونسن میں نیشنل گارڈ ز تعینات کردیے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست وسکونسن کے واقعے کے ردعمل میں ایک بار پھر تشدد کی لہر ملک کے طول و عرض میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پیر کے روز نیویارک میں بھی مظاہرین نے سڑکو ں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ریاست لوزیانا میں بھی 2پولیس اہل کاروں نے تشدد کرکے سیاہ فام جارج فلوئیڈ کو قتل کردیا تھا۔