قتل عام کی تیسری برسی روہنگیاں انصاف کے منتظر

187
کاکسس بازار: میانمر کی ریاستی دہشت گردی اور قتل عام کی تیسری برسی پر روہنگیا پناہ گزیں مظاہرے کررہے ہیں‘ کیمپوں میں آویزاں کارڈز پر مطالبات بھی درج ہیں

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں حکومتی کریک ڈاؤن اور فوج کے ہاتھوں نسل کشی کے واقعات کو 3 برس مکمل ہو گئے، جس کے بعد سے آج تک روہنگیا مسلمان انصاف کے منتظر ہیں۔ میانمر کی ریاست راکھین میں فوج کی جانب سے املاک نذر آتش کیے جانے، روہنگیاؤں کو زندہ جلانے، ان کے قتل عام اور خواتین کی بڑے پیمانے پر عصمت دری کے دوران لاکھوں افراد جان بچا کر بنگلادیش پہنچے تھے، جہاں وہ آج تک بنیادی ضروریات کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انسانی اور شہری حقوق سے محروم روہنگیا مہاجرین نے گزشتہ روز اپنی بربادی کے 3 سال مکمل ہونے پر خاموش احتجاج کرکے یادگاری دن منایا جہاں کورونا کے نام پر انہیں جمع ہوکر اپنا حق مانگنے کی بھی اجازت نہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ روز اپنے ساتھ پیش آنے والے خوں ریز واقعات کو یاد کرتے ہوئے روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا تھا کہ ہمیں ہماری دھرتی سے زبردستی نکال کر دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق گنجان آباد کیمپوں میں صحت و صفائی کی حالت انتہائی ابتر ہے جب کہ لاکھوں لوگ اپنے علاقوں میں واپسی کے منتظر ہیں تاہم بنگلادیش اور میانمر میں کئی مرتبہ مذاکرات کے باوجود دونوں جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی جس کے نتیجے میں لاکھوں مجبور انسانوں کو ان کی زمین یا شناخت میسر آ سکے۔ دوسری جانب بنگلادیش حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مہاجر کیمپوں میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ پر عائد پابندی جلد ہٹا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمر کی فوج کے کریک ڈاؤن کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا تھا جب کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیاؤں پر ڈھائے گئے مظالم پر ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث 13فوجی جنرلوں کے نام شامل کیے تھے۔ ’’ہم سب کچھ تباہ کر دیں گے‘‘ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ الفاظ میانمر کے ایک فوجی جنرل کے ہیں، جو اس نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہے اور جس کی ریکارڈنگ اس تنظیم کے تفتیش کاروں کے ہاتھ لگ گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ الفاظ روہنگیا مسلمانوں کے لیے میانمر کی افواج کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کے عکاس ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضروریات سے محروم لاکھوں افراد کے حقوق کے لیے عالمی ادروں کی شرمناک اور پراسرار خاموشی باعث افسوس ہے۔