وفاقی کابینہ کااپوزیشن کی سرگرمیوں پرغور‘ نوازشریف کو واپس لانے کی منظوری

156
اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) وفاقی کابینہ کا اپوزیشن کی سرگرمیوں پر غور۔نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو فوری وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے ، اس حوالے تمام قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیاجائے ، کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کروں گا ۔منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی کی سیاسی ،معاشی صورت حال سمیت مختلف چیلنجز زیر بحث رہے ۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی اور مریم نواز کی حالیہ سرگرمیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں وزراء نے گزشتہ روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں افسوسناک کا معاملہ بھی اٹھایا ۔وزراء نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے انتہائی افسوسناک زبان استعمال کی اور اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کا بھی خیال نہیں رکھا اس پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا برہم نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گالیاں سننے کے لیے عوام سے ووٹ نہیں لیے تھے ،قومی اسمبلی میں ہونے والا بدزبانی کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے آئندہ ایسی حرکت کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دوں گا ۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بدزبانی کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو فوری ایکشن لینا چاہیے اور اس کی رکنیت کو ختم ہونا چاہیے۔ اسد عمر کی اس تجویز پر اجلاس کے شرکاء نے حمایت کی ۔اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے منصب کا خیال نہیں رکھا گیا یہ ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے ۔فیصل واوڈا نے مریم نواز کی نیب پیشی کا معاملہ بھی اٹھایا ۔ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈرامہ رچایا اور اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومتی مشینری حرکت میں نہیں آئی ،مریم نواز نے نیب دفتر کے باہر جو کچھ اس پر قانون حرکت میں آتا اور اس کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جاتی لیکن افسوس سے کہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو کسی صورت ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری ،میڈیکل رپورٹس ،لندن سے جاری کی گئی تصاویر اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی رہنمائوں سے رابطوںپر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اجلاس کے شرکاء نے نواز شریف کی واپسی کیلیے تمام قانونی آپشنز استعمال کرنے پر زور دیا ہے ۔کابینہ نے گیارہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں مالیاتی پالیسی بورڈز میں معروف معیشت دانوں کی نامزدگیوں کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر سرکاری تقرریوں کا معاملہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ذرائع نے بتایا کابینہ نے بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف سی کی خدمات لینے کی منظوری بھی دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز کے 20 اگست کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی ہے۔وفاقی کابینہ میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 12 اور 13 اگست کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔ کابینہ کو تعمیرات سے متعلق پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت پیپرا رولز پر بریفنگ دی گئی۔وفاقی کابینہ نے کے پی ٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں چیئرمین پی این ایس سی کی تقرری کی منظوری دیدی۔چیئرمین پی این ایس سی پاکستان شپ اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندگی کرے گا۔فوڈ اور نان فوڈ آئٹمز کو لازمی سرٹیفکیشن کی لسٹ سے نکالنے کی منظوری دی گئی ہے۔علاوہ ازیں وفاقی کابینہ نے تعمیرات کے بارے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت پیپرا رولز میں نرمی کی بھی منظوری دے دی۔کابینہ نے حکومت بلوچستان کی درخواست پر بلیدا ٹائون انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیلیے فرنٹیئر کور بلوچستان سائوتھ کی دو پلاٹونوں کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں کراچی سمیت صوبہ سندھ کے عوام کو مشکلات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ازالے کیلیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے تجویز دی کہ ایم ایل ون منصوبہ میں پشاور تا طورخم سیکشن شامل کیا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایم ایل ون میں پشاور سے طورخم کا سیکشن بھی شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، احتساب کا عمل جاری رہے گا، کوئی این آر او نہیں ہوگا، نواز شریف سمیت ہر ملزم کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا۔ نواز شریف کو فوری وطن واپس لانا چاہیے، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانے کے لیے قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے۔