شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

230

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ سماعت پر درخواست گزار پرویز ظہور بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے ابتدا پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر وزیراعظم کسی کو بھی مشیر رکھ سکتا ہے اور اگر وزیر اعظم نے ایک اہل شخص کو اپنا مشیر نہیں رکھا تو یہ ان کی صوابدید ہے۔

درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر وفاقی کابینہ کا رکن ہے، غیر منتخب نمائندوں کو رکھنا آئین اور قومی اسمبلی کے رولز کے بھی خلاف ہے، قومی اسمبلی میں کل وفاقی وزیر کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے جواب دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے امان اللہ کنرانی سے استفسار کیا کہ یہ عدالت قرار دے چکی ہے کہ شہزاد اکبر وفاقی حکومت نہیں ہیں، وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں ہو سکتے، ہم نے اپنے شوگر ملز کے فیصلے میں یہ لکھ دیا ہے، اب کیا ایسی چیز ہوئی کہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ نیب میں مداخلت کر رہے ہیں؟ محض ایک نام رکھ دینے سے کسی کی مداخلت ثابت تو نہیں ہو جاتی، کیا انہوں نے چیئرمین نیب کے معاملات میں مداخلت کی؟ کیا ایف آئی اے میں مداخلت کی؟ لیکن ایسا آپ نے کچھ ہمارے سامنے نہیں رکھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آئینی طور پر وزیراعظم کسی کو بھی مشیر رکھ سکتا ہے، اگر وزیر اعظم نے ایک اہل شخص کو اپنا مشیر نہیں رکھا تو یہ ان کی صوابدید ہے، وزیراعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، گورننس کی کمی اور قوانین کے عدم عمل درآمد کی وجہ سے بعض ایشوز پیدا ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ قانونی کی حکمرانی کا معاملہ ہے تو بہتر نہیں کہ آپ اسے اپنی بار کونسلز کے پاس لے کر جائیں، کیا ہمیں یہ وقت اس طرح کے معاملات میں لگانے کی بجائے عام سائلین کے لیے نہیں دینا چاہئے، آپ کے لیے ہم آبزرو کر دیتے ہیں کہ نیب آزاد ادارہ ہے اس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔

عدالت نے فریقین کی جانب سے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔