اسرائیل کو تسلیم کریں،دیگر عرب ممالک پر امریکی دبائو

210
لندن/ تیونس سٹی: اسرائیل کو تسلیم کرنے کیخلاف برطانوی شہری مظاہرہ کررہے ہیں‘ تیونسی چینل کا میزبان براہِ راست نشریات میں صہیونی اماراتی رہنماؤں کی تصاویر پھاڑ رہا ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد اب دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر باقاعدہ تسلیم کریں۔ مائیک پومپیو نے پیر کے روز پہلے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک ملاقات کی اور پھر دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل اور خلیجی عرب ریاست متحدہ عرب امارات کے مابین طے پانے والے حالیہ معاہدے پر نیتن یاہو حکومت اور اسرائیلی عوام کو مبارک باد دی۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ مجھے قوی امید ہے کہ مزید عرب اقوام بھی اس عمل میں شامل ہو جائیں گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ عرب ریاستوں کا اسرائیلی ریاست کو تسلیم کر لینا ان کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع بھی ہو گا، اور یوں مشرق وسطیٰ میں بہت سے نئے مواقع اور امکانات
بھی پیدا ہوں گے۔ خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ کے 5 روزہ دورے کا آغاز پر مقبوضہ بیت المقدس میں کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابقممائیک پومپیو سوڈان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گے۔ پومپیو نے اسرائیل میں اپنے ہم منصب گبی اشکنازی اور وزیر دفاع بینی گینٹس سے بھی ملاقاتیں کیں۔ دوسری جانب فلسطین کی سیاسی جماعت جمہوری محاذ برائے آزادی فلسطین نے امریکا کی طرف سے خطے کے ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبائو ڈالنے کی شدید مذمت کی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمہوری محاذ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور صدر ٹرمپ کے مشیر وداماد جیرڈ کشنر کے مشرق وسطیٰ کے تازہ دورے کا مقصد مزید عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ دوستی معاہدوں پر مجبور کرنااور ان پر دبائو ڈالنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا خطے کے ممالک پر دبائو ڈال رہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں، ورنہ انہیں علاقائی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ طرز عمل امریکا کی طرف سے بلیک میلنگ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد دیگر علاقائی ممالک کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبائو میں لانا امریکا کا اولین مقصد ہے۔