حیات بلوچ قتل: قصہ ختم نہیں ہوا

297

نوجوان حیات بلوچ کی افسوسناک شہادت کے بعد ایک بار پھر باوردی اہلکاروں کے اختیارات اور ان کے احتساب کا طریقہ کار زیر بحث ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اسی طرح کے ماضی کے واقعات کی یاد دلاتا ہے، ان واقعات پر بھی خوب شور مچاتھا، لیکن شور تھمنے اور توجہ ہٹنے کے بعد پس پردہ ان واقعات میں ملزمان کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا اس سے آج بھی اکثر لوگ بے خبر ہیں۔ حیات بلوچ کے معاملے میں ایسا کوئی گھنائونا کھیل نہ کھیلا جائے اس لیے سابقہ واقعات کی یاد دہانی ضروری ہے۔ لیکن ان واقعات کے ذکر سے قبل ایک واقعہ اس ملک کا بھی پیش خدمت ہے جس کی ترقی کے اسباب پر غور اور ان کے تجربے سے سیکھنے کے بجائے اس ملک سے جڑی سازشی نظریات کا تذکرہ ہمارا قومی مشغلہ ہیں۔
جارج فلائڈ امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کا شہری تھا۔ ٹیکساس میں اسکول کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے فٹبال اور باسکٹ بال کا کھلاڑی رہا۔ جوانی سے فلائڈ غیر قانونی کاموں اور چھوٹے جرائم میں ملوث رہا۔ 1997 سے 2005 کے درمیان فلائڈ آٹھ مختلف جرائم کا مرتکب پایا گیا جس کے بعد قانونی تصفیے کے نتیجے میں اس نے چار سال جیل میں گزارے۔ 2014 میں اس نے رہا ہوکر اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کیا، ٹرک ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ کی نوکریاں کی تاہم 2020 میں کورونا وائرس کے معاشی اثرات کے پیش نظراس کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بیروزگاری کے اس زمانے میں فلائڈ کا ایک دکاندار سے جھگڑا ہوگیا جس کا الزام تھا کہ فلائڈ اس کو جعلی چیک دے رہا تھا، دکاندار نے پولیس کو طلب کیا اور فلائڈ کو حراست میں لے لیا گیا، دوران حراست گرفتاری سے قبل سڑک پر پولیس اہلکار نے فلائڈ کو زمین پر اوندھے منہ لٹاکر اس کی گردن پر اپنا گھٹنا آٹھ منٹ تک رکھا، اس دوران جارج فلائڈ اہلکار سے منتیں کرتا رہا کہ اس کو سانس نہیں آرہا وہ اس کو چھوڑ دے لیکن پولیس اہلکار نے اپنا گھٹنا نہیں ہٹایا یہاں تک کہ فلائڈ اس کے اثر سے جان کی بازی ہار گیا۔
اس واقعہ کی ویڈیو سامنے آئی تو امریکا میں تہلکہ مچ گیا، شہر شہر مظاہرے ہونے لگے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے سرکاری اور ذاتی املاک پر حملہ کیا، پولیس اور مظاہرین میں پر تشدد چھڑپیں ہوئیں، پورے ملک میں یہ آگ پھیل گئی اور گویا فلائڈ کی موت پر ایک تحریک شروع ہوگئی۔ 200 امریکی شہروں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا جبکہ مختلف ریاستوں میں 62ہزار خصوصی اہلکار امن وامان کی صورتحال قابو کرنے کے لیے تعینات کیے گئے۔ واضح رہے کہ واقعہ میں ملوث اہلکار کو حراست میں لیا جاچکا تھا، اب ریاست کی کوشش ہے کی نہ صرف اس کو بلکہ اس کے ساتھیوں کو بھی سخت سزائیں دلوائیں۔ ایسے واقعات پر امریکی اور پاکستانی عوام کے ردعمل میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دونوں ملکوں میں ہے۔ ہمارے ملک میں باوردی طاقتوروں کو خلاف ضابطہ مدت ملازمت میں توسیع دلوانے کے لیے بینرز لگتے ہیں، ان کی حقیقی اور غیر حقیقی کامیابیوں کی خوشی میں ریلیاں تو نکلتی ہیں، ان کی مدح سرائی میں مسلک، فرقے، نظریہ اور طبقہ کے فرق سے قطع نظر ایک ہی لائن میں کھڑے نظر تو آتے ہیں، لیکن یہی وردی جب کسی کا حق مارنے کا سبب بنتی ہے تو چار سوں خاموشی پھیل جاتی ہے۔
2011 میں کراچی کے ایک پارک میں رینجرز اہلکاروں نے سرفراز نامی 22سالہ نوجوان کو گولی مار کر قتل کیا، اس ہولناک واقعہ کی ویڈیو آج بھی لوگوں کو نہیں بھولتی۔ حیات بلوچ کی طرح سرفراز کے معاملہ پر بھی خوب شور مچایا گیا، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ واقعہ کی ویڈیو بنانے والے صحافی عبدالسلام سومرو کو اول روز سے دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوگئیں، مجبوراً سومرو کو روپوش ہونا پڑا۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے واقعہ انسداد دہشت گردی عدالت کے حوالے کرنے کا حکم دیا، عدالت کے دبائو پر چیف رینجرز سندھ کو عہدہ سے ہٹایا گیا اور تحقیقات میں بے ضابطگی پر آئی جی سند ھ کو بھی فارغ ہونا پڑا۔ یہ 2011 کی بات ہے جب عدلیہ کا کچھ بھرم تھا، اب جبکہ ہم ’قمری‘ دور میں ہیں اور سیاسی ایوانوں سے لیکر عدالتی بینچوں تک ہر جگہ ’’ڈاکٹرائن‘‘ کی چھاپ ہے تو عدلیہ بھی اتنی متحرک ومتاثر نہیں رہی۔ بہرحال سرفراز قتل کے ذمے دار رینجر اہلکار کو سندھ ہائیکورٹ نے سزائے موت سنائی جبکہ دیگر اہلکاروں کو قید کی سزا سنائی گئی تاہم 2019 میں یہ خبر سامنے آئی کہ ملزمان کو صدارتی معافی دے دی گئی ہے! صدر عارف علوی کی جانب سے اس کی تردید کی گئی لیکن حقیقت کچھ واضح نہیں ہوسکی، مقتول کے بھائی جو مقدمہ میں مدعی تھے ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے (پاکستان میں ہر کمزور کی طرح جو طاقتور کے خلاف مقدمہ کرتا ہے) کہا کہ انہوں نے ملزمان کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کردیا ہے۔
2019میں کائونٹر ٹیر ارزم پنجاب کے اہلکاروں کو خفیہ معلومات ملی کہ چند دہشت گرد ساہیوال کے قریب گاڑی میں کسی مقام پر جارہے ہیں، یاد رہے کہ حساس معلومات حساس ادارے فراہم کرتے ہیں جن کی پیشہ ورانہ اور مافوق الفطرت صلاحیتوں کے قصے ہمیں رٹائے جاتے ہیں۔ معلومات کی بنیاد پر اہلکاروں نے کاروائی کی، مشتبہ گاڑیوں کو روک ان میں سوار لوگوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ گاڑی میں کوئی خطرناک دہشت گرد نہیں بلکہ ایک خاندان کے افراد اور ان کا دوست سوار تھے جو کسی تقریب میں جارہے تھے، فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چار بے گناہ افراد شہید ہوئے جبکہ بچے زخمی ہوئے۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی پوری کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی، یہاں بھی مقتولین کے خاندان کے دھمکیاں دی گئی، ان کو اسلام آباد بلا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ ذلیل و خوار کیا گیا، ایک مقتول ذیشان کو تو پوری ریاست نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے دہشت گرد قرار دے دیا جبکہ اس کے گھر والے آج بھی انکاری ہیں۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا، عدالت میں مقدمہ چلا اور کاروائی کے بعد عدالت نے تمام اہلکاروں کو تمام الزامات سے بری کردیا! جب عوام کے رد عمل کا خوف نہیں ہوتا تو اشرافیہ اسی طرح کے فیصلے کرتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان مجرموں کو بھی بے نقاب کیا جاتا جن کی غلط اطلاع پر یہ کاروائی کی گئی اور اہلکاروں کو بھی قرار واقعی سزا دی جاتی لیکن یہاں
الٹی گنگا بہتی ہے، اے چاند یہاں نہ نکلا کر
حیات بلوچ کا قاتل ایف سی اہلکار عوامی دبائو کے نتیجے میں گرفتار ہوگیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس واقعہ کو بھولے نہیں، اور جب تک ملزموں کو سزا نہیں ملتی اپنی آواز اٹھاتے رہیں، ورنہ حیات کے بوڑھے ماں باپ کے آسمان کی جانب اٹھے ہاتھ ہم سب کو اٹھا لے جائیں گے۔