خطے میں بھارت کی چال بازیاں

223

سمیع اللہ ملک
چین بھارت سرحدی تصادم کے بعدتہران بیجنگ تزویراتی معاہدے کی روشنی میں اس خبرکونمایاں اہمیت ملی اوریہ تاثرلیاگیا کہ بھارت چا بہاربندرگاہ منصوبے سے باہر ہوگیا ہے، تاہم بھارت کے مشہور حکومت نوازاخبار ’’دی ہندو‘‘ میں ریل منصوبے سے باہرکیے جانے کی خبرشائع ہونے کے دوسرے دن ایران کی خبر رساں ایجنسی مہرنے اطلاع دی کہ ایران کے راستے افغانستان کی تیسری ٹرانزٹ کنسائنمنٹ چا بہاربندرگاہ سے بھارت کی مندرہ اور جواہر لعل نہرو پورٹس کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔ اس خبرسے یہ واضح ہوگیاکہ اب تک چا بہاربندرگاہ سے بھارت مکمل باہرنہیں ہوا۔ بھارت نے2014ء میں چابہار پرکام شروع کیااوربندرگاہ کی تعمیر کے لیے 8کروڑ50لاکھ ڈالرسے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ دسمبر2018ء میں بھارت نے چا بہار بندرگاہ کاانتظام سنبھالا۔ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو 18 ماہ کی لیزملی جوبعدمیں10سال کردی گئی۔ ریل منصوبے سے باہرکیے جانے کے بعد اب تک بندرگاہ کے کنٹرول میں تبدیلی یااس لیزسے متعلق کوئی نئی خبرنہیں آئی۔
چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی وجہ سے بھارت کوافغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی میں مشکلات کاسامنارہاہے۔ وسطی ایشیاکے ساتھ تجارت بھارت کے لیے اہم ہے اور چابہار بندرگاہ کے کنٹرول کے ساتھ بھارت کوافغانستان تک براہ راست رسائی مل رہی ہے۔ چابہار بندرگاہ کوافغانستان سے منسلک کرنے کے لیے کئی روڈ اور ریل منصوبے ہیں، جن میں زرنج دیلارم روڈ جسے روٹ606کانام بھی دیا گیا ہے، وہ بھارت نے بنوائی۔یہ سڑک قندھار ہرات شاہراہ سے جا ملتی ہے اوروسطی ایشیاتک رسائی کاذریعہ بن جاتی ہے۔
خلیجِ عمان میں ہونے کی وجہ سے چابہار کی تزویراتی اہمیت بھی ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمزکے دہانے پر ہے اور گوادر سے صرف 100 میل کی دوری پر ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی سب سے بڑی گزرگاہ ہے لیکن ایران سعودی عرب کشیدگی کے دوران بھارت نے چابہارکے کنٹرول کی بنیادپرآبنائے ہرمزمیں بحری گشت بڑھا دیا تھا۔ چابہار زاہدان ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہرکیے جانے کا محرک تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدہ بتایا جاتا ہے۔ اس اقتصادی اورسیکورٹی معاہدے کاحجم400 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے لیکن نیویارک ٹائمزکادعوی ہے کہ اس معاہدے کی مکمل تفصیل اس کے پاس موجودہے جبکہ چین نے اس معاملے میں مکمل خاموشی اختیارکررکھی ہے۔اس معاہدے کے تحت چین ایران میں انفرا اسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گااور25سال تک ایران کاتیل خریدے گا۔ ایران میں چین کی دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ پاکستان میں سی پیک منصوبے میں سست روی بھی ہے۔
2018ء میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعدسی پیک کوکئی دھچکے لگے۔ حکومتی عہدیداروں نے پچھلی حکومت کی مخالفت میں سوچے سمجھے بغیربیانات داغے اورسی پیک منصوبوں پردوبارہ مذاکرات کے اعلانات کیے۔ چین بھی اس صورتحال سے پریشان ہوااورسی پیک سے متعلق منصوبوں پرکام تعطل کاشکارہوگیا۔چین نے خطے میں اپنی موجودگی اور اثربرقراررکھنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش شروع کی اورپچھلے سال اگست کے آخرمیں ایران کے وزیرِخارجہ جوادظریف کے دورہ بیجنگ کے موقع پرچین نے ایران کو 400 ارب ڈالرسرمایہ کاری کی پیشکش کی اوریہ معاہدہ جوادظریف کے اسی دورے کاثمرہے۔
چین نے ایران کے تیل اور گیس کے شعبوں میں280 ارب ڈالراورٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں 120 ارب ڈالرسرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔ چین نے امریکاکی نئی پابندیوں کے باوجودایرانی تیل کی درآمدجاری رکھنے کابھی وعدہ کیا جب کہ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری سے ہٹ رہا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران میں چین کے منصوبوں میں چین کی کمپنیوں کاپہلاحق تسلیم کیا گیا ہے، اب اگر چین کی کمپنیاں کسی منصوبے سے خود پیچھے ہٹ جائیں تواس کے بعدمنصوبے کی کھلی بولی ہوسکتی ہے۔ مبینہ طورپرچین نے منصوبوں کی سیکورٹی کے لیے 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی بات بھی منوالی ہے۔
چین کو سی پیک اور گوادر بندرگاہ سے جوفوائدمل سکتے تھے، ایران کا تزویراتی محل وقوع اسے تمام ترفوائدمہیاکرتاہے بلکہ اضافی فائدہ آبنائے ہرمز تک رسائی ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کی طرح ایران سے بھی ممکن ہے۔ چین کا ایران کے ساتھ براہِ راست زمینی راستہ نہیں ہے لیکن ایران کامحل وقوع اسے زیادہ پرکشش بناتاہے کیونکہ اس کی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ہے اور اگر افغانستان میں امن نہیں ہوتاتب بھی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ممکن رہے گی۔ چین کی سرمایہ کاری سے ایران کی معیشت کوسہارا ملے گاجبکہ ایران کی بندرعباس اور چابہارکے ریل اورروڈرابطے بڑھیں گے۔ ازبکستان اورقازقستان کے ذریعے ریل رابطے چین اورافغانستان کوملاتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کی حکومت نے سی پیک منصوبے کوتقریباً لپیٹ دیاتھالیکن پچھلے سال5 اگست کومقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعدپاکستان کوایک بارپھرچین کی طرف دیکھنا پڑا۔ چین کو فوری قائل کرناآسان نہیں، اسی لیے سی پیک اتھارٹی بنائی گئی اور گوادر میں کام کرنے والی چین کی کمپنیوں کو23سال کی ٹیکس چھوٹ کااعلان کرتے ہوئے سی پیک پرکام تیزکرنے کے اشارے دیے گئے۔ سی پیک اتھارٹی کے قیام اوربعدازاں اسے خودمختاری دینے کے لیے اس قدرتیزی سے کام کیاگیا کہ پارلیمان سے منظوری کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ابھی تک سی پیک پرکام دوبارہ اس تیزی سے ہوتانظرنہیں آرہاجس تیزی سے پچھلی حکومت میں ہورہاتھا۔ سی پیک پریہ سست روی پاکستان کواقتصادی اورسفارتی حوالوں سے مہنگی بھی پڑسکتی ہے اورایران خطے میں چین کے شراکت دارکی حیثیت سے پاکستان کی جگہ لے سکتا ہے۔
ایران چین اقتصادی راہداری کے باوجود پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ چین کی لائف لائن آبنائے ملاکا ہے۔ اگربھارت اور امریکا مل کرکسی موقع پرآبنائے ملاکاکوچین کے لیے بندکردیں تواسے سی پیک اورگوادرکی ضرورت پڑے گی۔ آبنائے ملاکاکے بالکل قریب بھارت کے جزائر انڈیمان نکوبارمیں فوجی اڈے موجودہیں اور لداخ میں حالیہ تصادم کے بعدبھارت نے جزائرانڈیمان نکوبارمیں اضافی فورسزتعینات کرنے کے ساتھ وہاں عسکری انفرااسٹرکچر کو بہتربنانے اورتوسیع کاعمل تیزکردیاہے۔آبنائے ملاکامیں کوئی ہنگامی صورتحال درپیش ہونے پرچین گوادربندرگاہ اورسی پیک کواستعمال میں لاکراپنی سپلائی لائن کھلی رکھ سکتاہے۔
بھارتی میڈیا یہ تاثردینے کی کوشش کررہاہے کہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری خلیجی ملکوں میں چین کے تعلقات پراثر اندازہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسانہیں ہوگا کیونکہ چین کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پہلے ہی معاہدے موجودہیں اور اسٹریٹجک تعاون کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔ چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔ ایران چین تزویراتی معاہدے کی شہ سرخیاں جب دنیابھرکے میڈیامیں شائع ہورہی تھیں، اسی دوران چین اورعرب ریاستوں کے تعاون کے لیے بنائے گئے فورم کااجلاس جاری تھا۔ اس فورم کااجلاس ہر 2 سال بعدہوتاہے جس میں اگلے2سال کے لیے تعاون کے منصوبوں پر بات ہوتی ہے۔
ایران کے ساتھ اسٹریٹیجک معاہدے کے باوجودچین ایران اورعرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقراررکھنے کی کوشش کرے گا۔ چین عشروں سے جاری عرب ملکوں کے ساتھ شراکت داری کوایران کے لیے قربان نہیں کرے گااورتہران بھی اس بات کو سمجھتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ تاثرہے کہ ایران کے ساتھ تعاون شایدعرب دوستوں کوناراض کر دے گالیکن ایساہوتامشکل دکھائی دے رہا ہے۔ چین کی طرف سے خطے میں اہم اسٹریٹیجک معاہدے بھارت کی طرف سے چلی گئی چالوں کاتوڑ ہیں۔ بھارت نے بھی چین کے گھیراؤکی ایک پالیسی وضع کررکھی ہے اوراس پرعمل پیرا ہے۔ چین نے اگر ہمبنٹوٹا، چٹا گانگ، کولمبو اور جبوتی میں قدم جمائے ہوئے ہیں اورپاکستان اس کااتحادی ہے توبھارت بھی بحرہند میں اہم اسٹریٹیجک بندرگاہوں پرفوجی سہولتیں حاصل کرچکا ہے۔
مودی نے2018ء میں سنگاپور کے ساتھ ایک معاہدے پردستخط کیے تھے،جس سے بھارتی بحریہ کوچانگی نیول بیس تک براہِ راست رسائی ملی اوربھارتی بحریہ اس بحری اڈے سے ری فیول اوردوبارہ مسلح ہونے کی سہولیات پاچکی ہے۔2018ء ہی میں بھارت نے انڈونیشیاکے ساتھ معاہدہ کیاجس کے تحت بھارت کوآبنائے ملاکاکے داخلی راستے پرواقع سبانگ پورٹ تک رسائی ملی۔ یادرہے کہ آبنائے ملاکاچین کے درآمدی تیل کاسب سے بڑاراستہ ہے۔ 2018ء ہی میں بھارت نے عمان کے ساتھ معاہدہ کرکے الدقم پورٹ تک رسائی حاصل کی۔ الدقم پورٹ چین کے جبوتی میں بحری اڈے اورگوادر پورٹ کے وسطی حصے میں ہے۔ منگولیا، جاپان اور ویتنام کے ساتھ بھی بھارت کے بحری تعاون کے معاہدے موجود ہیں لیکن ان سب کوششوں کے بعدیہ بات یقینی ہے کہ بھارت چین کااکیلے گھیراؤکرنے کی پوزیشن میں نہیں،اس لیے وہ 4 فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ کابھی حصہ ہے، جس میں بھارت کے علاوہ امریکا،جاپان اورآسٹریلیاشامل ہیں۔
بھارت ایک عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ اس 4 فریقی غیررسمی فورم کوباقاعدہ فورم کی شکل دے دی جائے۔ اس 4 فریقی فورم کے رکن آسٹریلیانے چین کے ساتھ کوروناکے مسئلے پرتعلقات بگاڑلیے ہیں اوراس ماہ کے آغازمیں آسٹریلوی وزیرِاعظم نے ملک کے دفاعی بجٹ میں10سال کے دوران40فیصد اضافے کااعلان کرتے ہوئے اسے 270 ارب ڈالرتک لے جانے کافیصلہ سنایا۔ اس اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے آسٹریلیانے انڈوپیسفک میں درپیش خطرات کاحوالہ دیتے ہوئے چین بھارت سرحدی تصادم کا بھی حوالہ دیا۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے دورمارمیزائل حاصل کرنے کابھی اعلان کیاتاکہ مستقبل کے تنازعات کامقابلہ کیاجاسکے۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم نے کہاکہ امریکا چین کشیدگی بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ کوروناوبانے اس صورتحال کومزیدبگاڑاہے اورعالمی سیکورٹی آرڈرکوانتہائی غیرمستحکم مقام پرلاکھڑاکیاہے۔
خطے میں فوجی ماڈرنائزیشن بھی غیرمعمولی شرح سے بڑھی ہے۔ دیوارِبرلن کے گرنے اورعالمی معاشی بحران کی وجہ سے آسٹریلیاکوجوسیکورٹی ماحول میسرتھاوہ اب ختم ہوچکاہے۔ آسٹریلوی فوجی بجٹ میں امریکی بحریہ سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کی خریداری شامل ہے،اس کے علاوہ آسٹریلیاہائپرسونک ویپن سسٹم بنانے کاارادہ رکھتاہے جو ہزاروں کلومیٹرتک مارکی صلاحیت کاحامل ہوگا،اس کے ساتھ سائبر وار فیئر کے لیے 15 ارب ڈالررکھے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے نومبر کے انتخابات سے پہلے چین کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہوئے ہانگ کانگ کے حوالے سے دباؤبڑھادیاہے اورچین کے خلاف پابندیوں کے اعلانات بھی ہورہے ہیں۔ تائیوان کواسلحہ بیچاجارہاہے،جنوبی بحیرہ چین میں چین کی فوجی مشقوں کے دوران امریکی بحریہ کا اسٹرائیک گروپ خطے میں بھیجا گیااورمائیک پومپیونے پہلی بارجنوبی بحیرہ چین میں چین کی عملداری کونہ ماننے کاپالیسی بیان بھی دیا۔ ان حالات میں دنیاایک بارپھردوکیمپوں میں تقسیم ہورہی ہے اوراس بدلتی صورتحال میں نئے اتحادبن بھی رہے ہیں اور پرانے بکھربھی رہے ہیں۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ خطے کی نازک صورتحال کاصحیح ادراک کرتے ہوئے فوری طورپر اپنی خارجہ پالیسیوں کاازسرنوجائزہ لیتے ہوئے جہاں جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کے ساتھ قریبی روابط کوبڑھایاجائے وہاں سی پیک منصوبوں کی تکمیل کوہنگامی بنیادوں پرمکمل کرکے ہماری طرف سے ہونے والی تاخیرکاازالہ کرکے چین کے اعتماد کو تقویت بخشی جائے۔ یادرہے کہ کامیاب خارجہ پالیسی کاراز’’دشمن کے دشمن کواپنادوست‘‘ بنانے میں ہے اورچین اس میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے۔ بھارت کے تمام ہمسایہ ممالک سری لنکا،بھوٹان اورنیپال اس کی بہترین مثال ہیں۔