ایسی ہولناک آفت جس میں 92,000 افراد لقمہ اجل بن گئے

498

1815 میں انڈونیشیا کے جزیرے سمباوا پر موجود تمبورا نامی آتش فشاں پہاڑ پھٹا تھا جس کے نتیجے میں 92,000 افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

جس وقت آتش فشاں پہاڑ پھٹا تھا اُس وقت 10,000 مقامی افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ باقی 82,000  افراد اس حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوکر اور خورد و نوش اشیاء کی قلت ہونے کی وجہ سے بھوک سے مارے گئے تھے۔

آتش فشاں کے پھٹنے سے جو زمیں کی فضا میں دھواں خارج ہوا تھا اس سے انڈونیشا کے علاوہ یورپ اور شمالی امریکہ کی آب و ہوا بھی شدید متاثر ہوئی تھی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ایک سال یعنی 1816 کو دھوئیں کی مقدار کی وجہ سے سورج کی تپش نہ ہونے کے برابر تھی اور ایک سال تک متاثرہ ممالک موسمِ گرما سے محروم رہے۔