اسرائیل، 25 ہزار فلسطینی بچوں کو ماننے سے انکار

575

رام اللہ: فلسطینی وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ ‘اسرائیل نے حالیہ  مہینوں میں پیدا ہونے ووالے 25 ہزار فلسطینی بچوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیاہے’۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز اپنے میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اسی پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ بیرون ملک سفر نہ کرسکیں ، فلسطینی اتھارٹی باضابطہ طور پر اسرائیل کو نام فراہم کرے تو اسرائیل بچوں کو تسلیم کرتا ہے ۔

Palestinian child death toll rises to 70 after Israel's Gaza ...

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکومت کے مابین  مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی کے باعث یہ عمل روک دیا گیا جبکہ تل ابیب نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے ملانے کے منصوبوں کا اعلان کرنے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ رابطہ منقطع کردیا ہے۔

فلسطینی وزارت داخلہ کے سیکرٹری اطلاعات یوسف ہارب نے فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ  وزارت فلسطینیوں کے لئے پاسپورٹ ، شناختی کارڈ، دیتھ سرٹیفکیٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات جاری کرتا ہے ، اگر کشیدگی نہ ہوتی تووزارت  مئی سے پہلے تقریبا 25 ہزار سے زائد بچوں کے  پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کردیتی۔

NYT presents murder of a Palestinian boy as 'national trauma'—for ...

یوسف ہارب نے مزید کہا کہ اسرائیل اس مسئلے کو فلسطینیوں کو دباؤ اور بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے جہاں اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر بچوں کے والدین ہیں جو ان کے ساتھ سفر نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہمیشہ سے فلسطینیوں کے ساتھ بلیک میلنگ کرتا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ۔