امریکی زوال کا افسانہ امریکی پروفیسر کی زبان پر

652

امریکا کا زوال اتنا عیاں ہوچکا ہے کہ وہ اب امریکی پروفیسر کی زبان پر بھی آگیا ہے۔ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جیفری ڈی سیکس نے ایک لیکچر میں صاف کہا ہے کہ امریکی قیادت میں کام کرنے والی دنیا قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ اب امریکا دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز نہیں۔ یہاں تک کہ اب امریکا کو ’’تعمیری‘‘ کہنا بھی ممکن نہیں رہا۔ امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک خطرناک قوت بن چکا ہے۔ اب ہم مابعد امریکا کہلانے والی دنیا کا حصہ ہیں۔ یک قطبی دنیا ختم ہوچکی، اب کثیر قطبی دنیا کا ظہور ہورہا ہے۔ اس دنیا میں بہت سے ’’Risks‘‘ ہیں۔ اس دنیا میں ہماری اُمید مشترک اقدار کا تصور ہے۔ امریکی پروفیسر نے کہا کہ امریکا میں کورونا کی وبا قابو سے باہر ہوچکی ہے۔ امریکا میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پاکستان میں ہلاک ہونے والوں سے دس گنا اور ایشیا پیسفک کے ممالک سے 100 گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معاشرہ ہولناک حد تک عدم مساوات کا شکار ہوچکا ہے۔ امریکی معاشرہ منقسم بھی بہت ہے۔ اس میں نظریاتی تفریق بھی ہے اور مذہبی تفریق بھی۔ اس میں آمدنی اور دولت کا فرق بھی ہے۔ یہاں تک کہ امریکا میں ’’فیس ماسک‘‘ لگانا بھی سیاسی تنازع کا سبب بن رہا ہے۔ (ڈان کراچی۔ 12 اگست 2020ء)
سوویت یونین 1991ء میں ختم ہوا۔ سوویت یونین کے ختم اور سوشلزم کے تحلیل ہوتے ہی امریکی دانش وروں نے بغلیں بجانا شروع کردیں۔ فوکویاما نے تاریخ کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ اس نے کہا کہ تاریخ کا سفر سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلزم کی کشمکش کا حاصل تھا۔ اس کشمش میں سرمایہ دارانہ نظام نے سوشلزم کو شکست دے دی ہے۔ چناں چہ تاریخ کا سفر تمام ہوگیا ہے۔ امریکا کے کچھ اور دانش وروں نے فرمایا کہ 20 ویں صدی بھی امریکا کی صدی تھی اور اب 21ویں صدی بھی امریکا کی صدی ہوگی۔ انہوں نے فرمایا کہ اب دنیا کے پاس کرنے کے لیے صرف ایک ہی کام ہے اور وہ یہ کہ وہ مغربی اقدار کے مطابق زندگی بسر کرے۔ اس سلسلے میں امریکا کا کردار قائدانہ ہوگا۔ لیکن سوویت یونین اور سوشلزم کے خاتمے کے صرف 28 سال بعد منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے اور اب امریکی پروفیسر خود کہہ رہے ہیں کہ امریکا ایک عالمی طاقت نہیں رہا۔ امریکا کے زوال کی پیشگوئی نئی نہیں۔ امریکا کے ممتاز مورخ پال کینیڈی نے اپنی تصنیف بڑی طاقتوں کا عروج و زوال میں صاف لکھا ہے کہ سلطنت عثمانیہ، سلطنت برطانیہ اور سوویت یونین کی طرح امریکا بھی زوال پزیر ہوچکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکا کے جنگی اخراجات اس کے مالی وسائل پر بوجھ بن گئے ہیں اور امریکا نے خود کو اتنا پھیلا لیا ہے کہ وہ اپنے پھیلائو کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ پال کینیڈی کا یہ تجزیہ وقت گزرنے کے ساتھ درست ثابت ہوتا چلا گیا اور اب امریکی پروفیسر ڈاکٹر جیفری ڈی سیکس بھی کہہ رہے ہیں کہ دنیا پر امریکی غلبے کا عہد تمام ہوچکا ہے۔ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ کثیر قطبی ہوگئی ہے۔ ایک طرف چین بڑی طاقت بن کر اُبھر چکا ہے۔ دوسری طرف روس اپنے ماضی کی عظمت کی بازیافت کے لیے کوشاں ہے۔ تیسری طرف بھارت اور برازیل بڑی معاشی طاقتیں بن کر ابھر رہے ہیں۔ امریکی پروفیسر کے مطابق امریکا کے زوال کی ایک علامت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت سب سے بڑی جنگی طاقت کورونا سے بُری طرح پٹ رہی ہے۔ امریکا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 51 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ امریکی اب تک کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ اس سے کہیں بہتر صورت حال تو پاکستان جیسے غریب ملک کی ہے۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے امریکا کا ایک ممتاز پروفیسر کہہ رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے مجبوراً کہہ رہا ہے۔ امریکا زوال پزیر ہوگیا ہے تو اس کی تکلیف ہر باشعور امریکی کی زبان پر آرہی ہے۔ امریکی پروفیسر کا کہنا ہے کہ امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ’’خطرناک قوت‘‘ بن گیا ہے۔ یہ ایک غلط بیانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکا کب خطرناک قوت نہیں تھا۔ کیا امریکیوں نے 10 کروڑ ریڈ انڈینز ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانے میں ہلاک کیے؟ کیا امریکا نے کوریا کی جنگ میں 30 لاکھ افراد کو ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانے میں مارا؟ کیا ویت نام میں 15 لاکھ لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مارے گئے؟ کیا امریکا نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بم کا استعمال ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں کیا؟ کیا امریکا نے عراق میں 10 لاکھ افراد کو دوائوں اور غذا کی قلت سے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں قتل کیا؟ ایسا نہیں ہے اور یہ تمام حقائق بتارہے ہیں کہ امریکا ہر دور میں ایک خطرناک قوت رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کی کوئی اخلاقیات ہی نہیں۔ امریکی خود کو کسی بین الاقوامی قانون اور ضابطے کا پابند ہی نہیں سمجھتے۔ ان کے لیے ان کی ’’طاقت‘‘ اور ’’قومی مفاد‘‘ ہی سب کچھ ہے۔ امریکا کا قومی مفاد اگر ایک ارب انسانوں کو قتل کرنا ہو تو امریکا ایک ارب انسانوں کو مارنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ جو قوت 10 کروڑ سے زیادہ انسانوں کو مار سکتی ہے وہ 100 کروڑ لوگوں کو بھی ہلاک کرسکتی ہے۔
معاشرے کی اصل طاقت اس کی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بھی امریکا زوال آمادہ ہے۔ ڈاکٹر جیفری ڈی سیکس کہہ رہے ہیں کہ امریکی معاشرہ ہر بنیاد پر منقسم ہے۔ امریکی دنیا بھر میں معاشروں کو تقسیم کرنے اور اس تقسیم سے فائدہ اٹھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ امریکی مسلم معاشروں میں مذہبی اور سیکولر کی تفریق کو ہوا دیتے ہیں۔ وہ کھل کر ہر مسلم معاشرے میں سیکولر اور لبرل مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ وہ چین کو کمزور کرنے کے لیے تائیوان اور ہانگ کانگ کے چینیوں کو چین کے خلاف کھڑا کررہے ہیں۔ امریکیوں نے آج تک چین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا مگر چوںکہ اب انہیں چین کو گرانا ہے اس لیے امریکیوں کے دل میں چینی مسلمانوں کی محبت کا سمندر موجزن ہوگیا ہے۔
امریکی پروفیسر نے اپنے لیکچر میں ایک اور عجیب بات کہی ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ امریکا سے پاک دنیا میں Risks بہت بڑھ گئے ہیں۔ چناں چہ ایسی دنیا میں ہماری واحد امید مشترک اقدار کا تصور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پوری مغربی دنیا بالخصوص امریکا نے کبھی مشترک اقدار کے تصور کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ اس سلسلے میں دو تین مثالیں عرض ہیں۔ مغربی اقوام بالخصوص امریکا کہتا ہے کہ مغربی جمہوریت پوری دنیا کی مشترک قدر ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جمہوریت عالمی قدر نہیں ہے۔ جمہوریت مغربی تصور ہے۔ اس کی پشت پر اس کی الٰہیات اور تصور انسان کھڑا ہے لیکن بالفرض ہم یہ مان بھی لیں کہ جمہوریت ایک مشترکہ عالمی قدر ہے تو یہ حقیقت عیاں ہے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک مسلم دنیا میں جمہوریت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر جمہوری طریقے سے کوئی سیکولر یا لبرل شخصیت یا جماعت اقتدار میں آجاتی ہے تو مغربی دنیا اس پر بھنگڑا ڈال دیتی ہے لیکن اگر انتخابات میں کوئی اسلامی تحریک کامیاب ہوجائے تو مغربی دنیا بالخصوص امریکا اس تحریک کی کامیابی کو قبول ہی نہیں کرتا۔ کر بھی لے تو اس کے خلاف سازشیں جاری رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ فوج کے ذریعے اس حکومت کو ناکام کردیا جاتا ہے۔ الجزائر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں اسلامی فرنٹ نے دوتہائی اکثریت حاصل کی تو مغرب نے فوج کشی کرادی اور انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ترکی میں نجم الدین اربکان کی حکومت کو ایک سال میں گرادیا گیا۔ مصر میں صدر مرسی کو ایک سال میں اقتدار سے باہر کردیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت مسلم دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان قدر مشترک نہیں ہے۔ یہی قصہ انسانی حقوق کا ہے۔ مسلم دنیا میں ایک عیسائی پر بھی آنچ آجائے تو انسانی حقوق پامال ہوجاتے ہیں اور اس ملک کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن اسرائیل اور بھارت میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے لیکن مغربی دنیا کے رہنما اس پر احتجاج کا حق تک ادا نہیں کرتے۔ حالاں کہ وہ انسانی حقوق کو عالمی قدر کے طور پر پیش کرتے ہیں اور خود کو انسانی حقوق کا چمپئن باور کراتے ہیں۔ خود امریکا کا اس حوالے سے یہ حال ہے کہ اس نے ابوغرائب جیل ’’تخلیق‘‘ کی۔ اس نے گوانتا ناموبے ’’ایجاد‘‘ کیا۔ ابوغرائب میں مسلم قیدیوں پر کتے چھوڑے گئے، انہیں ننگا کرکے برف پر لٹایا گیا۔ گوانتا ناموبے میں تشدد کی ہر صورت کو آزمایا گیا۔ یہاں تک کہ قیدیوں کو اذیت دینے کے لیے قرآن کے صفحات فلش میں بہائے گئے۔ کیا انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ رفتہ رفتہ سہی امریکا کا سورج غروب ہورہا ہے اور اب امریکی زوال کا افسانہ امریکی پروفیسر تک کی زبان پر آگیا ہے۔