صدرمملکت وسیاسی رہنماؤں کا میر حاصل خان بزنجو کے انتقال پر اظہار افسوس

210

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملک کے سیاسی رہنماؤں نے نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سیاسی رہنما میر حاصل خان بزنجو کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل پارٹی (این پی) کے سربراہ میر حاصل بزنجو کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مرحوم وضع دار سیاست دان تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ مرحوم کی سیاسی اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انھوں نے میر حاصل خان بزنجو کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا۔صدرِ مملکت نے مرحرم کے درجات کی بلندی اور ان کے خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم اور نائب امیر لیاقت بلوچ کا نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ سربراہ نیشنل پارٹی کی سیاسی خدما ت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ قوم سینئر سیاست دان سے مرحوم ہو گئی۔ میر حاصل بزنجو نے ہمیشہ رواداری کی سیاست کو فروغ دیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میر حاصل بزنجو کا انتقال میرے لیے باعثِ صدمہ ہے، پاکستان آج ایک معتدل مزاج، بہادر اور دور اندیش رہنما سے محروم ہو گیا۔‘ان کا کہنا ہے کہ میر حاصل بزنجو ’ایک عظیم آدمی کا قابلِ فخر فرزند تھے، اپنے والد کی طرح زندگی بھر جدوجہد میں رہے۔ وہ جمہوریت کے وکیل اور بلوچستان کی عوام سے ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف توانا آواز تھے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے تعزتی پیغام میں کہا کہ سینیٹر میرحاصل بزنجو پاکستان سےمحبت کرنےوالے جمہوریت پسند رہنما تھے۔حاصل بزنجوکی وفات پاکستان اورجمہوریت کےلیےبڑانقصان ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے میر حاصل بزنجو کے صاحبزادے کو ٹیلی فون کرکے ان سے اظہارتعزیت کی اور کہا اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور خاندان کوصبر دے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی بلوچ سیاستدان کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ بہت بہادری سے سرطان جیسے مرض سے لڑے، ان کی عوامی زندگی ترقی پسند اور اصولی سیاست پر مبنی تھی جبکہ وہ کمزوروں کی آواز تھے، ان کے انتقال کے ساتھ ایک دور ختم ہوگیا۔

اپنے تعزیتی پیغام میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ میرحاصل بزنجو ایک زیرک سیاستدان اور پر خلوص شخصیت کے حامل تھے۔ میرحاصل بزنجوکےانتقال کی خبرسن کردل گرفتہ ہوں۔ میر حاصل بزنجو کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیےدعاگو ہوں۔ اللہ تعالیٰ لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے میرحاصل بزنجو کی وفات پر تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اپنے والد کی طرح حاصل بزنجو بھی مظلوم قومیتوں کے حقوق کےعلمبردارتھے۔ میرحاصل بزنجو پارلیمنٹ میں جمہوریت کی توانا آواز تھے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹر پر میر حاصل بزنجو کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت و پسماندگان کو صبر جمیل کی دعا کی۔

خیال رہے کہ نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینئر نائب صدر سینیٹر میر حاصل بزنجو آج انتقال کرگئے۔حاصل خان بزنجو کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔

حاصل بزنجو سینٹ کے رکن اور نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر تھے۔ ان کا شمار بلوچستان کے معتبرسیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ میرحاصل خان چیئرمین سینیٹ کے لیے حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار بھی رہے لیکن وہ انتخابات ہار گئے۔

میرحاصل خان بزنجو کے والد میرغوث بخش بزنجو قوم پرست رہنما تھے جو بلوچستان کے پہلے گورنر تھے۔

میر حاصل بزنجو 3 فروری 1958 کو خضدار کی تحصیل نال میں پیدا ہونے والے حاصل بزنجو بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی اجتماعات میں شرکت کرتے رہے۔

انہوں نے سیاست کا باقاعد عملی آغاز اس وقت کیا جب وہ وہ چھٹی جماعت کے طالب علم تھے، اس مقصد کے لیے انہوں نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کا پلیٹ فارم منتخب کیا۔

سال 1975 میں اسلامیہ ہائی سکول کوئٹہ سے میٹرک پاس کرنے کے بعد میر حاصل بزنجو نے کراچی یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے انہوں نے 1982 میں فلسفے کا امتحان پاس کیا، 1988 میں وہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔

1989 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد میر حاصل بزنجو نے باقاعدہ طور پر ملکی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور پاکستان نیشنل پارٹی ( بی این پی ) کا حصہ بن گئے۔ 1990 میں پاکستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار انتخابات میں اور قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

1993 کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی- سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے لیے جدوجہد کے دوران وہ کئی بار جیل کے سلاخوں کے پیچھے گئے۔ میر حاصل بزنجو زندگی میں پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں گرفتار ہوئے، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے علاقائی دفتر کو جلایا ہے۔

میر حاصل بزنجو تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ بی ایس او کے متحرک طالبعلم رہنما تھے، دو بار وہ کراچی یونیورسٹی سے گرفتار ہوئے۔

سال 1980 میں وہ چار مہینے کے لیے اے آر ڈی تحریک کے دوران کراچی سے گرفتار ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے- میر حاصل بزنجو کی جماعٹ نیشنل پارٹی نے 2018 میں عام انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ قومی و صوبائی اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکے۔

1997 میں وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ اسی سال وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو چھوڑ کر منحرف اراکین کے گروپ بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہو گئے۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دوراقتدار میں میر حاصل بزنجو نے ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی۔ آئین و قانون کی بالادستی کی اس جدوجہد کے دوران انہیں کئی روز جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی گزارنے پڑے۔

2003 میں انہوں نے نئی سیاسی جماعت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2008 میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور 2009 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔

2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مدد سے بلوچستان میں نیشنل پارٹی اقتدار میں آئی اور یوں اس کی قیادت نے قومی توجہ حاصل کی، میر حاصل بزنجو 2014 میں اس کے صدر بنے۔

2015 میں وہ دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے، اس دوران وہ وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی بھی رہے۔میر حاصل بزنجو کو 2018 کے عام انتخابات میں شکست ہوئی۔

ان کی میت کراچی سے ان کے آبائی علاقے نال منتقل کی جائیگی جہاں جمعے کی شام پانچ بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔