کراچی میں 7ویں نئے ڈسٹرکٹ کے قیام کی منظوری ، مقصد پی پی پی کا غیر مقامی میئر لانا ہے ۔

178

کراچی میں 7ویں نئے ڈسٹرکٹ کے قیام کی منظوری ، مقصد پی پی پی کا غیر مقامی میئر لانا ہے ۔

 کراچی کو کنٹرول کرنے کی بازگشت میں اسے مزید تقسیم کرکے صوبائی حکونت نے اپنے بااختیار ہونے کا پیغام دے دیا ۔ 

نئے ضلع کے قیام سے ایک اور ڈی ایم سی بھی قائم ہوگی ، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی متاثر ہوگا، صوبے پر مالی بوجھ بڑھے گا ۔محمد انور کا تجزیہ 

کراچی : حکومت سندھ نے جمعرات کو کراچی میں ساتویں ضلع کے قیام کی منظوری دے دی ۔ پہلے سے چھ ڈسٹرکٹ ایسٹ ، سنٹرل ، ساوتھ ، ویسٹ ، ملیر اور کورنگی کی موجودگی میں ساتویں ضلع کیماڑی کی منظوری سندھ کابینہ نے کمال ہوشیاری سے اس وقت دی جب وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے امور کو کنٹرول کرنے کے بارے میں بازگشت چل رہی تھی ۔ سندھ کابینہ کے جمعرات 20 اگست کے لیے جاری کیے گئے 15 رکنی ایجنڈے کے اجلاس میں نئے ڈسٹرکٹ کے قیام کا کوئی ذکر نہیں تھا تاہم وزیراعلٰی کی خصوصی اجازت سے دوران اجلاس اسے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا تھا۔ جبکہ اس ضلع کے قیام کے حوالے سے آوازیں گزشتہ چند روز شہر میں ارہی تھیں ۔صوبائی حکومت نے ضلع کیماڑی کے قیام کی باقاعدہ منظوری عین اس وقت دیکر وفاق اور کراچی والوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ” وہ  جب چاہے کراچی کی تقسیم کرسکتی ہے کیونکہ وہ آئین کی 18 ویں ترمیم  کے تحت ایسا کرنے کا اختیار رکھتی ہے “۔ خیال رہے کہ وفاق کی جانب سے جب کراچی کا کنٹرول حاصل کرنے کی بات چلی تو سندھ گورنمنٹ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ اس کی ماں ہے اسے توڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، مگر دوسری طرف یہی حکومت صوبائی دارالحکومت کے مسلسل ٹکڑے کرنے میں مصروف ہے گزشتہ بارہ سال میں ڈسٹرکٹس ملیر اور کورنگی کے بعد اب ضلع کیماڑی بنارہی ہے ۔ نیا ضلع بنانے کا مقصد خالصتا سیاسی لگتا ہے جس کے تحت اب نئی ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ( ڈی ایم سی ) بھی تخلیق کرنا ہوگی ۔ اس مقصد کے لیے بلدیہ عظمٰی کراچی کی کونسل کی نشستوں میں اضافہ کرنا ہوگا جو اس وقت 243 ہے ۔ تاہم اس نئے ضلع کے قیام سے عام لوگوں سے زیادہ بیورو کریسی کا فائدہ ہوگا اور نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی جس سے مالی بحران سے دوچار سندھ پر مزید مالی بوجھ پڑے گا ۔ اس نئے ضلع کے قیام کے اعلان کے بعد اگرچہ جناعت اسلامی ، متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی سخت رعمل ظاہر کررہی ہے مگر امکان  ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت خود اس فیصلے سے مشکلات کا شکار ہوجائے گی کیونکہ اس ضلع کے قیام کے نتیجے میں حکومت کو ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کی حدود میں بھی رد و بدل کرنا ہوگا جو اس وقت مجوزہ کیماڑی ضلع  ہاربر کیماڑی سائٹ، بلدیہ اور کیماڑی سب ڈویژنز پر مشتمل ہوگا ۔ ہاربر سب ڈویژن  میں ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے بابا بھٹ شاہ اور منوڑہ کے علاقے پہلے سے شامل ہیں جن میں رد و بدل کرنا ناگزیر ہوگا ۔ اگر ایسا کیا گیا تو ڈسٹرکٹ کونسل کی نشستیں اور حدود کا تنازع پیدا ہوسکتا ہے ۔ خیال ہے کہ پی پی پی حکومت نیا ڈسٹرکٹ بناکر بلدیہ عظمٰی کراچی میں اپنا میئر لانا چاہتی ہے جو بغیر کسی پارٹی کے اشتراک کے ممکن نہیں ہوسکے گا ۔ #

Sent from my Samsung Galaxy smartphone.