سگریٹ نوشی اور ذہنی صحت

334

سگریٹ نوشی کے عادی افراد کی جسمانی صحت کو جہاں خطرہ ہے وہیں ذہنی صحت پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اکثر لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی زہنی مریض ہونے کے ساتھ ساتھ سگرٹ نوشی بھی کرتا ہے تو شائد اس کا کوئ حل نھیں مگر یہ خیال درست نہیں۔ ایسے بہت سے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جو ذہنی مریض ہیں اور کامیابی سے سگرٹ نو شی ترک کر چکے ھیں۔ یہ لوگ زیادہ بہتر اور لمبی زندگی یسے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اگر آپ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ دوسرے لوگوں کی نسبت آپ زیادہ سگرٹ پیتے ہوں گے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی سگرٹ نوشی زیادہ نقصان دہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ آپکا شمار بھی  ان 000 ,100 لوگوں میں ہو جن کی ہر سال سگرٹ نوشی کے باعث موت ہو جاتی ھے۔

اگر کوئی ذہنی مریض سگریٹ نوشی کا عادی ہوگا تو ممکن ہے کہ اس کے ڈپریشن میں اضافہ ہو، بے چینی، خودکشی اور اقدام خود کشی کے خیالت اس کے اندر جنم لیں۔ لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کہ ایسے ذہنی مریض بھی موجود ہیں جنہوں نے مظبوط قوت ارادی سے اپنی سگریٹ نوشی کی عادت ترک کردی ہے اور بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔

سگریٹ نوشی کیسے چھوڑیں:

جب سگرٹ پینے کا خیال دل میں آۓ تو یہ 3 باتیں یاد رکھیں۔

1) اپنا دھیان بٹائیں۔ جب بھی سگرٹ خیال دل میں آۓ تو کچھ اور کرنا یا سوچنا شروع کر دیں اور اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔

2) کچھ پینا شروع کردیں۔ کسی جوس یاشربت کا گلاس ہاتھ میں تھام کر آہستہ آہستہ پئیں اور ہر گھونٹ کومنہ میں چند لمحوں کے  لیے رکھیں۔ یہ آپ کو آپ کے ہاتھ میں سگریٹ کا اور منہ میں دھویں کا متبادل احساس دے گا۔

3) انتظارکریں۔ جب بھی آپ کے دل میں سگرٹ پینے کی خواہش پیدا ہو تو فورآ پینے کے بجاۓ تھوڑا اتظار کریں۔ اس سے خواہش خود بخود ختم ہو جائے گی۔

اگریٹ نوشی چھوڑنے کے بعد:

اگر آپ سگریٹ نوشی کی عادت پر قابو پالیتے ہیں تو سگرٹ چھوڑنے کے بعد کچھ لوگ تھوڑے عرصے کے لیے اچھا محسوس نہیں کرتے۔ عام طور پریہ جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اگر آپ اسے برداشت نہ کر سکیں تو کسی دوست یا ہمدرد سے مدد لے لیں۔

سگرٹ چھوڑنے کے کچھ عرصے بعد تک تھوڑی بہت کھانسی رہتی ہے جوعام طور پر عارضی ہوتی ہے مگر کبھی کبھی ٹھیک ہونے میں کچھ مہینے لگ جاتے ہیں جبکہ آپ کا وزن بھی تھوڑا بڑھ سکتا ہے مگر متوازن غذا اور ورزش سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔