حکومت کے دو سال مکمل: بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا: مشیر خزانہ

214

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، حکومت نے بڑے فیصلے کیے، آئی ایم ایف سے تعلق بنایا۔

تحریک انصاف کی حکومت کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے قرض لے کر خود کو بہت کمزور کرلیا تھا، دوست ممالک نے آگے بڑھ کر ہماری مدد کی۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 5 ہزار ارب روپے ماضی میں لیا گیا قرض ادا کیا، فیصلہ کیا تھا آزاد بنیاد پر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے، 20 ارب ڈالر خسارہ کو کم کر کے 3 ارب کر دیا گیا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے مراعات دیں، رواں سال اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا، ٹیکسز کے نظام کو بہتر کرنےکی کوشش کی، ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے اخراجات میں کمی کی، صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے فنڈز کم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی ادارے، کسی وزارت کو سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ٹیکس ریونیو متاثر ہوا، کورونا سے پہلے ٹیکس بڑھنے کی سطح 17 فیصد تھی، کورونا کے دوران ایک ہزار 240 ارب کا پیکج دیا۔

مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت نے بلاتعصب ایک کروڑ 60 لاکھ پاکستانیوں کو امداد دی، ملکی تاریخ میں پہلی بار 250 ارب روپے لوگوں کو دیئے گئے، کورونا سے بے روزگار ہونے والوں کو نقد امداد دی گئی، زراعت کے لیے 280 ارب روپے کا پیکج دیا، حکومت نے کاروباری طبقے کو سستے قرضے فراہم کیے، چھوٹے کاروبار کے 3 ماہ کے بجلی بل خود بھرے۔

دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات شبلی فراز، حماد اظہر، اسد عمر و دیگر شرک تھے۔