مقناطیسی شخصیت۔اطہرہاشمی

203

گھنے سفید بال، کشادہ پیشانی، علم کی روشنی سے منور آنکھیں، ستواں ناک چہرے کو پروقار، بناتی ہوئی بھری ہوئی ڈاڑھی مونچھ درمیانہ قد کاٹھ سادہ لباس دھیما لہجہ، لہجے میں شائستگی اور متانت میدان صحافت کے استاد جن کے قلم کی کاٹ تلوار سے تیز، حق اور سچ لکھنے اور کہنے میں کسی کو خاطر میں نہ لانے والے سید اطہر علی ہاشمی المعروف اطہر ہاشمی بھی ہمیں 6 اگست کی صبح داغ مفارقت دے گئے اناللہ وانا الیہ راجعون، ہاشمی صاحب سے راقم الحروف کا تعلق کم و بیش نو سال کے عرصے پر محیط تھا، جسارت کے دفتر میں اْن سے متعدد مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ہر ملاقات میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھی، اْن کی متاثر کن شخصیت میں مجھے ہمیشہ ایک مقناطیسی کیفیت محسوس ہوئی دل چاہتا تھا کہ اْن سے دیر تک گفتگو کی جائے بلکہ اْن کی گفتگو سنی جائے۔ 2012 کے اوائل کا ذکر ہے میں نے اپنا ایک طویل مضمون جسارت سے وابستہ ایک صحافی چنا صاحب کو دیا کہ وہ اْسے شائع کروا دیں۔ چنا صاحب ہی نے مجھے بتایا کہ جسارت کے مدیر اعلیٰ اطہر ہاشمی صاحب ہیں واضح رہے کہ اْس وقت تک میں ذاتی طور پر ہاشمی صاحب سے واقف نہیں تھا۔ چنا صاحب نے کہا کہ کچھ دن گزرنے کے بعد آپ ہاشمی صاحب سے فون پر رابطہ کرکے کہ اْنہیں مضمون سے متعلق یاد دہانی کرا دیں، چناںچہ تقریباً ایک ہفتے بعد میں نے فون پر ہاشمی صاحب سے رابطہ کیا اور نہایت محتاط انداز میں ڈرتے ڈرتے اْن سے مضمون کی اشاعت کے بارے میں دریافت کرنے کی جسارت کی، ہاشمی صاحب نے دوستانہ انداز میں کہا کہ بھائی ابھی تک تو آپ کا کوئی مضمون میرے پاس نہیں پہنچا ہے اور اسی دوران چیزیں ادھر سے اْدھر رکھنے کی کھٹر پٹر سنائی دی جس سے اندازہ ہوا کہ ہاشمی صاحب اپنی میز پر مضمون کا مسودہ تلاش کر رہے ہیں پھر انہوں نے حتمی انداز میں فرمایا کہ مضمون ہنوز اْن تک نہیں پہنچا، چند دن گزرنے کے بعد ایک دن میرے سیل فون کی گھنٹی بجی فون آن کیا تو ایک آواز سنائی دی بھئی حسن افضال تمہارا مضمون آج ملا ہے اور یہ چند دن میں لگ جائے گا، میں سمجھ گیا کہ ہاشمی صاحب بات کر رہے ہیں لیکن پھر بھی تصدیق کرنے کے لیے میں نے پوچھا کہ کیا ہاشمی صاحب فرما رہے ہیں جواب توقع کے مطابق اثبات میں ملا۔
انتہائی مختصر دورانیے کی یہ گفتگو لفظ بلفظ میری یاداشت میں آج تک محفوظ ہے اور شاید ہمیشہ رہے۔ ایک اہم اور معتبر قومی اخبار کے مدیراعلیٰ کا مجھ ایسے عام شخص کو خود فون کرنا اور مضمون کی اشاعت کے متعلق بتانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہاشمی صاحب ایک نہایت سادہ اور منکسر المزاج شخصیت کے ما لک تھے۔ ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل میں اْن کے کالم بعنوان خبر لیجیے زباں بگڑی کو ادبی اور صحافتی حلقوں میں بڑی پزیرائی حاصل ہوئی، بلا شبہ مزکورہ عنوان کے تحت دل چسپ پیرائے میں تحریر کیے گئے اْن کے معلوماتی کالمز اردو صحافت، اردو ادب اور زبان سے دلچسپی رکھنے والوں کے اذہان کے لیے ٹانک کا درجہ رکھتے ہیں۔ اردو زبان کو مروجہ اغلاط سے پاک کرنے کے ضمن میں ہاشمی صاحب نے بڑا اہم اور بنیادی کام کیا ہے۔ صد افسوس کہ اْن کی وفات کہ بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا کاش کہ اردو لسان کے ماہرین کی توجہ اس سمت مبذول ہوسکے۔ یہ بات بلا کسی شک و شبہ کے کہی جاسکتی ہے کہ ہاشمی صاحب اردو صحافت سے وابستہ افراد کے لیے ایک شجر سایہ دار تھے جس کی علمی چھائوں اس رہ گزر کے ہر راہی کو بقدر ظرف میسر تھی۔ اداریہ نویسی میں ہاشمی صاحب درجہ کمال پر پہنچے ہوئے تھے اْن کے تحریر کردہ اداریے نہایت جامع مربوط، جان دار اور زبان و بیان کے لحاظ سے دریا کو کوزے میں بند کرنے کہ مصداق ہوا کرتے تھے، اپنے اداریوں میں وہ بڑی خوبی اور چابکدستی سے عوامی اور قومی مسائل کا ذکر اس پیرائے میں کرتے تھے کہ وہ عوام کے دل کی آواز محسوس ہوتے تھے۔ روز نامہ جسارت کے حق اور سچ کی راہ کے سفر میں ہا شمی صاحب کی قلمی خدمات تا دیر یاد رکھی جائیں گی۔ اْنہوں نے ایک سادہ لیکن بھرپور زندگی گزاری اور اپنے حصے کا کام پوری دیانت داری اور جانفشانی سے کیا شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اْنہیں کسی کا محتاج نہیں کیا اوراْن کے سفر آخرت کو نہایت آسان کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ ربّ العزّت اْن کے درجات بلند کرے اور اْن کے جسارت کے ساتھیوں، دوستوں، عزیزوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین