پاکستانی سیاستدانوں کے مضحکہ خیز بیانات

296

ویسے تو کئی پاکستان کی تاریخ ایسے سیاستدانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے ایسے مضحکہ خیز بیانات دئیے ہیں کہ عام آدمی بھی سر کھجانے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر اس نے کہا کیا اور کہا کیوں؟۔ اس قسم کے بیانات کی چند مثالیں نیچے دی جارہی ہیں۔

1) ایک شو کے دوران جے یو آئی کے سابق ایم این اے مفتی کفایت اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وکی لیکس کا وِکی جمائمہ خان کا کزن ہے جس پر جمائمہ نے کہا تھا اس وقت کا انتطار کیجیے جب انھیں میرے دوسرے کزنز پاناما لیکس اور وکی پیڈیا کے بارے میں پتہ چلے گا۔

2) اسی طرح پکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر تحریکِ انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی آمین گنڈا پور نے جوش میں آکر یہ کہ دیا تھا کہ کشمیر کا نقشہ تبدیل کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اب ہم مقبوضہ کشمیر جا سکتے ہیں۔ اب میں وہاں گھوم پھر سکتا ہوں جیسے بھارتی فوج وہاں گھوم پھر رہی ہے۔

3) عمران خان نے انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد ایک اعلان کیا تھا کہ جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیرِ اعظم ہاؤس کو تعلیمی ادارے میں تبدیل کریں گے اور خود منسٹر انکلیو میں رہائش اختیار کریں گے جس پر آج تک درآمد نہ ہوسکا اور عمران خان وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہی رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

4) ایک ٹی وی شو کے دوران فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا تھا پی ٹی آئی حکومت میں تین مہینے کے اندر اندر اتنی نوکریاں ہوں گی کہ بندے کم پڑ جائیں گے۔ اگر ایسا نہ ہو تو میری تکہ بوٹی کر دیجیے گا۔ آج لوگ انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

5) ایک ٹی وی پروگرام کے دوران زرتاج گل نے کہا کہ میں میاں جاوید لطیف صاحب کو مبارک باد دینا چاہتی ہوں کہ آج ان کی پارٹی جسے جنرل ضیا الحق نے بنایا تھا، ان  کا یومِ پیدائش ہے۔ میزبان نے فوراً تصریح کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا نام لیں، آج 17 اگست، جنرل ضیا کا یومِ وفات ہے۔