شوگر انکوائری کمیشن اور انکوائری رپورٹ کالعدم قرار

242

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کے خلاف شوگر ملز مالکان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اداروں کو چینی کی قلت اور قیمت بڑھنے پر نئی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے نیب حکام ، ایف آئی اے، ایف بی آر کوعلیحدہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نظام پارلیمانی ہو تو کابینہ میں غیر منتخب افراد کی موجودگی کی کوئی گنجائش نہیں،احتساب کے لیے مشیر رکھنا نیب کے غیر جانبدارانہ کردار کو مشکوک بناتاہے،وزیر اعظم کے مشیر احتساب کارویہ مشکوک ہے۔

حکم نامے میں واضح کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن میں انڈسٹری سے متعلق معلومات رکھنے والے اراکین کوشامل کیا جائے،کسی کو غیر قانونی سبسڈی دی گئی ہے تو پتا لگا یا جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات شوگر ملز مالکان کے خلاف نہیں تھیں بلکہ چینی کی قلت کی وجوہات جاننے کے لیے کی گئیں، کمیشن کی رپورٹ میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا پتا لگایا گیا ہے، شوگر ملز مالکان کے خلاف کوئی براہ راست الزام نہیں ہے اور نہ ہی انکو کام سے روکا گیا ہے۔