حکومت کیمبرج یونیورسٹی سے نتائج پر نظرثانی کا مطالبہ کرے، حیدرعلی

196

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدر علی نے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر کیمبرج یونیورسٹی سے نتائج پر نظر ثانی کا مطالبہ کرے۔کیمبرج یونیورسٹی نے اپنے ہی فارمولے کی نفی کرتے ہوئے لاکھوں طلباء کے مستقبل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی نے اے اور او لیول کے نتائج سے ملک بھر کے ہزاروں طلبا میں مایوسی پھیل گئی ہے۔کیمبرج یونیورسٹی نے طلبا کو 40 فیصد ڈاؤن گریڈنگ کے ذریعے کم گریڈ دیئے ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کے نتائج کے حوالے سے طلبا کو اپیل کرنے کے حق سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ’اے‘ اور ’او‘ لیول کے نتائج پرآل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدرعلی اور مرکزی رہنماؤں شہاب اقبال،محمد یونس،محمد اسلم،ڈاکٹر نجیب میمن،دوست محمد دانش،مرتضی شاہ،محمد سلیم،اعجاز علی،محمد ساجد،مسعود شاہ،منیر عباسی،شکیل سومرو، اشفاق بیگ،اختیار مارکھانی،توصیف شاہ اور دیگر ایگزیکٹو ممبران نے پیر کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کےرہنماؤں نےکہا کہ کیمبرج امتحانات کی مانیٹرنگ اور کوآرڈینشن کےلیے کوئی بھی ادارہ ذمے دار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف اسکولز کو مجموعی طور پر اپیل کرنے کی اجازت کی بات ہورہی ہے۔دیگر ممالک میں بھی نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہاہے ۔پاکستان میں لاکھوں طلبہ ان امتحانات میں شریک ہوتےہیں۔

ان رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ سب اس لیے ہوا کہ پاکستان میں کیمبرج یونیورسٹی سے لائزن اور ریگولیشنز موجود ہی نہیں ہیں۔کیمبرج امتحانات کی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن کےلئے کوئی بھی ادارہ ذمہ دار نہیں ہے۔ لاکھوں طلبہ کو اسٹینڈرڈائزیشن کے نام اور کیمبرج یونیورسٹی کے اپنے مفروضوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سینٹرز سے مانگے گئے نتائج کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کیمبرج یونیورسٹی سے نتائج پر نظرثانی کا مطالبہ کرے جبکہ مقامی جامعات میں داخلے کی مطلوبہ شرائط میں بھی نرمی کروائی جائے۔ایسا ذمہ دار ادارہ قائم کیا جائے جہاں ان طلبہ کی دادرسی ہو اور آئندہ کیمبرج امتحانات کی ملکی سطح پر مانیٹرنگ اور کوارڈینیش ہو سکے۔