مصر میں جاری ظلم کا نظام اور مغربی منافقت

195

سمیع اللہ ملک
مصرمیں شروع ہونے والی سیاسی فعالیت کی لہرجو2011ء کے انقلاب کے دوران اپنے عروج پرتھی، 2013ء کی فوجی بغاوت کے بعدماند پڑتی جا رہی ہے۔ مخالفین پرسخت حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث سیاسی کارکنان سیسی حکومت کا مقابلہ کرنے سے کترارہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام والے افرادکوبھی حکومت کی طرف سے جبری گمشدگیوں،گرفتاریوں اورتشددکاسامناہے۔ ان سخت حالات کے باوجودایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔ مصر میں6فروری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مختصر دورانیے کی وڈیو شیئرکی گئیں، جن میں لوگ ایک ہی بات کہہ رہے تھے اوروہ یہ کہ میں مصرکاایک عام شہری ہوں اورمیں آئینی ترامیم کومستردکرتا ہوں۔ وڈیو میں ان آئینی ترامیم کاحوالہ دیاگیاجن کے منظورہونے کے بعد صدر سیسی کے لیے 2034ء تک ملک کا صدررہنے کی راہ ہموارہوگئی ہے۔
مصرکاموجودہ آئین فوجی بغاوت کے بعد2014ء میں نافذ ہوا تھا، جس میں صدارت کی مدت 4 سال مقررہے اورکوئی شخص 2 بارسے زیادہ صدر منتخب نہیں ہوسکتا۔ سیسی کی حامی قوتیں اسی شق میں ترمیم کرناچاہتی تھیں۔ ان ترامیم کوپارلیمان سے عارضی منظوری بھی حاصل ہوچکی تھی اور ان ترامیم پر ایک پارلیمانی کمیٹی نے غورکرکے گی انہیں حتمی ووٹنگ کے لیے پارلیمان میں پیش کیا تھا۔ پارلیمان سے منظوری کی صورت میں ایک متنازع قومی ریفرنڈم کروایاگیا جس میں سرکاری ملازمین کو سیسی حکومت کی طرف سے جبری طورپرحصہ لینے کے لیے مجبورکیاگیا۔ بدقسمتی سے جمہوریت اورانسانی حقوق کادرس دینے والے مغربی حکمران سیسی کے اقدامات پر خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں جب کہ مصری شہری دنیا بھر کے سامنے ان ترامیم کی کھل کر مخالفت کرچکے ہیں، جس سے اس نام نہاد ریفرنڈم اور اس کے پہلے سے طے شدہ نتیجے کی حقیقت عیاں ہو چکی ہے۔ ان وڈیو میں نظرآنے والے اکثرافرادعام شہری ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی معروف سیاسی وسماجی افرادیاتوقیدمیں ہیں یاپھرجلاوطن اور جولوگ ملک میں موجود بھی ہیں وہ بھی حکومتی اداروں سے بچنے کے لیے اپنی سرگرمیاں محدود کیے ہوئے ہیں جب کہ کوروناوباکاخطرہ بھی اس وقت ان کے راستے میں حائل ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کی گئی کچھ وڈیوز میں لوگوں نے اپنی شناخت چھپانے اورحکومتی ردِعمل سے بچنے کے لیے صرف اپنی آوازریکارڈکی ہے۔ صارفین نے ان پرتبصرہ کرتے ہوئے نظرآنے والے افرادکی حفاظت کی دعا بھی کی ہے۔ وڈیو میں نظرآنے والے افراد کے خلاف اب تک کوئی کارروائی ہو چکی ہے یا نہیں، اس حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ سیسی حکومت کی مخالفین کے خلاف کارروائیوں سے دنیا واقف ہے، اور جو لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بدترین تشدداوربے رحمی کاسامناکرناپڑتا ہے۔ فوجی بغاوت کے بعدسے اب تک تقریباً 60 ہزار افراد کو سیاسی بنیادوں پرگرفتارکیاجاچکا ہے۔
خالدیوسف ایک فلم ڈائریکٹرہیں، جو فوجی بغاوت کے بعدسیسی کی حمایت کرنے والی پارلیمان کے رکن بھی تھے۔ اس کے علاوہ وہ آئین سازکمیٹی کے رکن بھی تھے۔3فروری کو انہوں نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاونٹ پرآئینی ترامیم کی مخالفت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ان کے موقف کے سبب انہیں جھوٹے الزامات میں گرفتاربھی کیاجاسکتا ہے۔ان کی یہ بات کسی حد تک درست بھی ثابت ہوئی کیوں کہ ان کی کردار کشی کے لیے وڈیو لیک ہونے سے متعلق ایک کیس میں انہیں گرفتار کرکے نہ جانے کہاں پہنچا دیا گیا ہے، اس کے بعد سے اب تک ان کی کچھ خبر نہیں۔
ہیثم الحریری بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہوگئے۔ وہ ایک وکیل ہیں، جنہوں نے آئینی ترامیم کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان پرایک حکومت نواز وکیل نے اپنی خاتون آفس منیجر کو فون پرہراساں کرنے کاالزام عائدکیا اور فون کال کی ریکارڈنگ بھی پیش کردی گئی۔ ان کے ساتھ بھی خالدیوسف والامعاملہ پیش آیا اور انہیں بھی اس خبرکے بعدآج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ یہ ریکارڈنگ اصلی ہیں یاجعلی، اورکیا خالد یوسف اور ہیثم الحریری واقعی اس کردارکے حامل ہیں یانہیں، ان سوالات سے زیادہ اہم ان الزامات کوعائد کرنے کاوقت ہے۔مصرکا موجودہ عدالتی نظام اور سلامتی کے ادارے ہراسگی کاشکارہونے والی خواتین کی مددکرنے کے حوالے سے کوئی اچھاریکارڈ نہیں رکھتے تاہم حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ان کاروائیوں کے بعدبھی سوشل میڈیاپرآئینی ترامیم کے خلاف وڈیو آنے کاسلسلہ جاری ہے۔ بظاہر یہ سلسلہ کسی تبدیلی کی وجہ بنتا نظر نہیں آ رہا تاہم یہ بات اہم ہے کہ مصری عوام کواس بات کاادراک ہوچکاہے کہ وہ حکومت کوچیلنج کرسکتے ہیں بلکہ ان کی اس سلسلے میں اجتماعی کوششوں میں اضافہ ہوگیاہے۔
عوام میں غم وغصہ بڑھتاجارہاہے اوراسی وجہ سے مغرب نواز صدر سیسی کی نام نہاد مقبولیت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ مصر میں موجود سروے کے ادارے بصیر کے مطابق سیسی کی مقبولیت2014ء میں54فی صد سے کم ہوکر2016ء میں27 فی صد رہ گئی تھی۔ 2016ء میں سیسی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پربرسوں سے عائد سبسڈی کوختم کردیااورمصری کرنسی کی قدر میں بھی کمی کردی۔ اس کے نتیجے میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہوااورلوگوں کا طرززندگی متاثرہوا اورآج سیسی کی مقبولیت کاگراف سرکاری اداروں کے ملازمین کی مجبوری کے سوا کہیں نظرنہیں آتا۔
رواں برس بحیرہ احمرمیں موجود 2 جزیروں کاکنٹرول سعودی عرب کودینے کے خلاف بڑے عوامی مظاہرے ہوئے۔ حکومت نے مظاہرین کوتوکچل دیالیکن ان مظاہروں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سیسی کو آیندہ بھی اپنے نامناسب اور غیر حقیقی فیصلوں کے خلاف شدید عوامی مزاحمت کاسامناکرناہوگا۔ بدقسمتی سے بین الاقوامی برادری مصری عوام کی مرضی کے خلاف سیسی کاساتھ دے رہی ہے۔ کوروناوباسے قبل اس حمایت کا مظاہرہ فرانسیسی صدرکے دورہ مصرمیں بھی نظرآیا۔ فرانسیسی صدرمصرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ چند برس سے مصرکواسلحہ فراہم کرنے والے ممالک میں فرانس سر فہرست ہے۔ مصر نے فرانس سے رافیل جنگی طیارے، جہازاورفوجی سیٹلائٹ خریدے ہیں۔ فرانس نے مصرکوبکتربند گاڑیاں بھی فراہم کی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان گاڑیوں کواسکندریہ اورقاہرہ میں مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔
امریکی صدرٹرمپ نے ستمبر2018ء میں سیسی سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مصراورامریکا کے تعلقات آج جتنے مضبوط ہیں اتنے ماضی میں کبھی نہیں رہے۔ ہم مصر کے ساتھ دفاعی اور تجارتی شعبوں کے علاوہ دیگر کئی معاملات میں بھی تعاون کررہے ہیں۔ ہمیں دوبارمصر کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے۔ تاہم اس کے بعد آج دیکھا جائے تو ٹرمپ بھی سیسی سے بیزار نظر آرہا ہے۔ 10 فروری کو صدر سیسی افریقی یونین کے سربراہ بنے۔ 2002ء میں افریقی یونین کے قیام کے بعد مصرکوپہلی مرتبہ اس کی قیادت ملی ہے۔افریقی یونین کے سربراہ بننے کے بعد خطاب کرتے ہوئے سیسی کاکہناتھا کہ افریقا کو دہشت گردی سے خطرہ لاحق ہے لیکن دوسری طرف اپنے 5 سالہ اقتدار کے باوجود بھی وہ اپنے مخالفین کو داعش کانام دے کر جہاں ان کے خلاف بدترین کریک ڈائون کاجوازحاصل کررہے ہیں وہاں اقوام عالم کودھوکا بھی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو داعش کااتحادی قرار دے کرظلم وستم کا بازارگرم کررکھاہے۔
اخوان المسلمون تنظیم جو ہمیشہ پرامن جدوجہد اور اصول پسند سیاس کی بات کرتی آئی ہے، سیسی حکومت نے کے کارکنان اور رہنماؤں کو بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ 2013ء کی فوجی بغاوت اوراس کے نتیجے میں اخوان کے سیکڑوں کارکنا ن کی گرفتاری کی وجہ سے تنظیم کو کمزور ضرور کردیا گیا ہے، تاہم ظالم حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم اور ناانصافی ہمیشہ ناراضی کو جنم دیتی ہے جو بالآخر طاقتور ہوکر نظام پلٹ سکتی ہے۔
مصر میں نام نہاد ریفرنڈم ایک پریشان کن سیاسی پس منظرمیں منعقد کرایا گیا جبکہ قاہرہ حکومت کے ہزاروں مخالفین کئی برس سے جیلوں میں قید ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ کو بھی محدود کیا جا چکا ہے۔ اس وقت مصرمیں آمریت کی بدترین صورتحال کی وجہ سے سیسی حکومت اپنے مخالفین کوچن چن کر بدترین ظلم کانشانہ بنارہی ہے جس کے نتیجے میں مصری نوجوانوں کی کثیرتعداداس تلخ حقیقت کی وجہ سے اپنی ہمت کھوبیٹھے ہیں کہ ان کے ملک میں اسرائیلی تحفظ کی وجہ سے مغرب اورامریکانے 1952ء میں ہونے والی فوجی افسروں کی بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعدسے آج تک 70 برس میں (مرسی شہیدکے دورحکومت کے ایک محدودسے وقت کوچھوڑکر) صرف خود پسند اور مطلق العنان حکمران ہی اقتدارپرقابض رہے ہیں۔
مصری ریاست کے لیے جبرو تشدد اور ظلم ایک ایساکارآمدنظام ہے، جس کے ذریعے وہ یہ طے کرتی ہے کہ ملک میں کب کیا ہو گا۔ کسی دوسرے نظام کے لیے ریاست نے کوئی جگہ چھوڑی ہی نہیں۔ مصر میں آمروں کے اقتدار کا سلسلہ اتنا طویل ہو چکا ہے کہ عوام ان تمام کو ’’فراعین‘‘ کے ناموں سے پکارتے ہیں۔ ان حکمرانوں نے ہراس نئی امید کا گلا گھونٹ دیا ہے، جس کے تحت عوام کسی ’’تبدیلی‘‘ کی توقع کر سکتے تھے۔ نئی صدی کے آغازپرشمالی افریقا کی اس عرب ریاست میں عوام نے ایک بارپھر تبدیلی کی خواہش کی تھی جو 2011ء میں عرب بہار کی صورت میں اپنے عروج کوپہنچ گئی تھی، پھراس کے بعد سابق منتخب صدرمحمد مرسی کی حکومت کا اپنے بیرونی آقائوں کی مددسے تختہ الٹ کر اقتدار میں آنے والے فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی جس طرح اقتدار پر قابض ہوئے اور تب سے مصر میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اس بات کاثبوت ہے کہ کسی انقلاب کاتوکوئی ذکرہی نہیں، اس ملک میں جو اصلاحات مرسی شہیدنے متعارف کروائی تھیں، وہ بھی دوبارہ کسی جن کی طرح بوتل میں بند کردی گئی ہیں۔
آج کے مصرمیں جوکچھ ہورہاہے، وہ بذات خودایک بڑا ظلم ہے۔ مورخ جب بھی اس خطے کی تاریخ مرتب کرے گا، مرسی شہیدکی حکومت کوگرانے والے امریکااورمغرب کے علاوہ خطے کے ان ممالک کے سربراہوں کانام بھی انسانیت کے بدترین مجرموں لکھاجائے گا، جنہوں نے اس ظالم نظام کی مدد اور حمایت کی۔