مسلم نسل کشی میں بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر

334

سید امجد حسین بخاری
یہ منظر ہے بھارتی وزیراعظم کے دورہ اسرائیل کا، جنہیں تل ابیب میں بھرپور پروٹوکول دیا گیا۔ دورے کے اختتام پر دونوں وزرائے اعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ جس میں اسرائیلی وزیراعظم کے الفاظ انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں چند جملے کہے۔ یہ جملے درحقیقت کشمیر کو ایک اور فلسطین بنانے کی ابتدا تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل اپنی دنیا تبدیل کر رہے ہیں اور شاید دونوں ممالک دنیا کے حصے تبدیل کررہے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مثال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد شاید کاتب تقدیر نے روز اول سے لکھ دی ہے، جو ہم دنیا میں مکمل کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کو اس وقت زیادہ اہمیت نہیں دی گئی لیکن گزشتہ برس 5 اگست کو بھارتی حکومت کے اقدامات نے اس بیان کو حقیقت کا رنگ دے دیا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کس طرح ایک دوسرے کے ساتھی ہیں؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر دوسرا فلسطین کیسے بن رہا ہے؟
اس سلسلے میں گزشتہ برس 5 اگست کے بعد سے بھارتی حکومت کے اقدامات اور ان 4 امور پر بات کرنے کی ضرورت ہے، جن کی بنیاد پر کشمیر اور فلسطین میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ کشمیر اور فلسطین دونوں مقبوضہ علاقے ہیں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور یہ دنیا کا سب سے بڑا خطہ ہے جہاں پر بھارتی فوج سے کھلے عام دہشت گردی کرائی جا رہی ہے۔ بھارت نے کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے کھلے پنجرے میں تبدیل کردیا ہے، جہاں انسان قید ہیں۔ اس وقت ہر 6 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترامیم کے بعد سے کشمیریوں کے وہ حقوق بھی سلب کرلیے گئے ہیں، جو انہیں علاحدہ شناخت دیتے تھے۔ پنجرہ ہی سہی لیکن اپنی زمین پر ان کا حق ملکیت تھا۔ ان سے رائے شماری کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اگر اسرائیل کا جائزہ لیا جائے تو یہ ملک نو آبادیاتی طریقہ کار کے تحت قبضے کی زمین پر قائم کیا گیا ہے اور بھارت بھی رفتہ رفتہ اسی ڈگر پر چل نکلا ہے۔ اس نو آبادیاتی نظام کے تحت بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے۔
یکم جنوری سے اب تک بھارتی فوج کی جانب سے 640 کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، جن میں سے اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے۔ جس طرح اسرائیل مختلف منصوبوں کے تحت روزانہ فلسطین کی زمینوں پر قبضے کررہا ہے، ایسے ہی بھارت غیر ریاستی باشندوں کے ذریعے وادی پر اپنا قبضہ مضبوط کر رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب بدلنے کےلیے 25 ہزار ہندوؤں کو جعلی ڈومیسائل جاری کردیے ہیں۔ حیران کن طور پر بھارت اور اسرائیل دونوں اپنے جمہوری ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں، لیکن مقبوضہ کشمیراور فلسطین میں ان کی جمہوریت پسندی ختم ہوجاتی ہے۔ شہریوں کی تلاشی، پکڑدھکڑ دونوں علاقوں میں عام ہے۔ کسی بھی وقت کوئی بھی گھر قابض افواج تباہ کرسکتی ہیں۔ شہریوں کے اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ یہی نہیں بلکہ کشمیر اور فلسطین میں آئے روز کرفیو نافذ کردیا جاتا ہے۔ فلسطین میں کسی بھی شہری کو کبھی بھی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے نام پر یہی کام جاری ہے۔
مسئلہ کشمیر اور فلسطین میں تیسری مماثلت جسمانی اور جنسی تشدد کے واقعات ہیں۔ دونوں علاقوں کے باسی ہر وقت اسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کب انہیں اس کرب سے گزرنا پڑے۔ مقبوضہ کشمیر میں 90ء کی دہائی سے اجتماعی آبرو ریزی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ 5 اگست کے بعد جنوبی کشمیر میں ان واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین نہ صرف قبضے اور نو آبادیاتی نظام کی بنیاد ہی نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے مسائل ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقے پر قبضہ کیا اور اس میں مسلسل توسیع کررہا ہے جبکہ بھارت بھی اسی کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم ایک نسل پرست اور قوم پرست شخص ہے اور وہ صہیونیت کی ترویج کےلیے کام کررہا ہے۔ اب اگر کشمیر ایشو کا جائزہ لیا جائے تو بھارت وادی میں ہندو قوم پرستی کا نام استعمال کررہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب 2014ء میں اقتدار سنبھالا، وہ اس دن سے لے کر آج تک مسلسل ہندوتوا نظریات کےلیے کام کررہے ہیں۔ ان کے دور میں جہاں بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ ہوگئی ہے، وہیں کشمیری مسلمانوں پر بھی مظالم میں اضافہ ہورہا ہے۔ بھارت میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔
بھارت اسرائیل کے ساتھ مسلم مخالف بیانیے کو فروغ دینے کےلیے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نریندر مودی نے حالیہ انتخابات میں کامیابی بھی انہی نعروں کو لے کر حاصل کی۔ اسرائیل اپنے اسلحہ کا 46 فیصد حصہ بھارت کو فروخت کرتا ہے۔ یوں بھارت اسرائیلی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ اس وقت جہاں فلسطین کا مسئلہ پورے مشرق وسطیٰ کےلیے آتش فشاں بنا ہوا ہے، وہیں مسئلہ کشمیر کی تپش جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے جس طرح فلسطین کے مسئلے پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ایسے ہی کشمیر کے معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
بھارت کشمیر کی جغرافیائی، معاشرتی اور ثقافتی حیثیت بدل رہا ہے۔ یہاں مسلم اکثریت کا وجود بھی خطرے میں پڑا ہوا ہے، لیکن ایسے موقع پر حکومت پاکستان سمینارز اور ٹوئٹس سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ وزیراعظم عمران خان کی تقاریر نے کشمیری نوجوانوں کو حوصلہ دیا مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کشمیر کو دوسرا فلسطین بننے سے روکنے کےلیے ٹھوس، موثر اور عملی اقدامات کرے۔ آزاد کشمیر حکومت اندرونی سیاسی چپقلش سے باہر نکل کر اقوام عالم کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرے، کیونکہ اس وقت کشمیریوں کی شناخت خطرے میں پڑچکی ہے۔ وہ آزادی کی جدوجہد کے ساتھ اب اپنی شناخت بچانے کےلیے بھی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اگر بروقت اقدامات کیے نہ گئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔