آسان نکاح

149

روبینہ اعجاز
نا جانے کیوں آج کل ہما اکثر اداس رہتی ۔حالانکہ کچھ دن پہلے اسکی بڑی بیٹی ثمرہ کی شادی بخیر وخوبی انجام پائی تھی ۔سب کچھ اس کی مرضی سے اور آج کل کے رسم ورواج کے مطابق ہوا تھا ۔مگر دل میں کھٹک تھی تو یہ کہ ان لوگوں نے شادی کو دھوم دھام سے کرنے کیلئے قرض لیا تھا ۔
خیرآہستہ آہستہ ان لوگوں نے کسی نا کسی طرح قرض ادا کیا ۔آج ہما کے شوہر ناصر صاحب اور ہما مطمئن تھے کہ قرض جیسی لعنت سے نجات ملی ۔
ہما کی ایک بیٹی اور تھی ۔نمرہ جوابھی زیر تعلیم تھی آج ناصر صاحب آفس سے آئے تو اپنی ترقی کی خوش خبری سنائی ۔ساتھ ہی کہا اللہ کا شکر ہے میری تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے ۔اچھا ہما نے سنتے ہی کہا اب ہم ایسا کرتے ہیں کہ نمرہ کی شادی کیلئے ہر مہینے پیسے جمع کرنے شروع کر دیتے ہیں ۔تاکہ اسکی شادی کے موقع پر کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلانے پڑیں ۔ ناصر صاحب نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ۔پھر میں کہیں بی سی ڈالنا شروع کر دیتا ہوں ۔
اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ انکی بی۔سی شروع میں نکل آئی ۔ادھر نمرہ کا انکے جاننے والوں سے اچھا رشتہ آگیا ۔لڑکا بیرون ملک ملازمت کرتا تھا ۔ہما بہت خوش تھی جلد شادی کی تاریخ رکھ دی گئی ۔ابھی شادی کی تیاریاں شروع کرنا تھیں کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیل گئی ۔پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن ہو گیا ۔
ہما ناصر صاحب سے کہہ رہی تھی نا جانے کیا مسئلہ ہے پہلے ہمارے پاس پیسوں کا مسئلہ تھا تو حالات بہتر تھے ۔اب پیسے ہیں تو ہر طرف ہو کا عالم ہے ۔کیسے ہو گا سب کچھ ۔لڑکا بھی آچکا ہے ۔ہمیں تو جلدی جلدی تیاری کرنی تھی مگر لاک ڈاؤن ختم ہونے کو نہیں آرہا ۔کتنا وقت ضائع ہو رہا ہے ۔ناصر صاحب نے سوچتے ہوئے کہا میں کل اکیلے انکے گھر جا کر بات کرتا ہوں کہ شادی کی تاریخ آگے بڑھا لیں ۔
دوسرے دن کوئی مہینے بعد ماسی گھر کے اندر داخل ہوئی تو ہما نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔تم تو اچھا غائب ہوئیں ۔اب پیسے لینے ہیں تو آگئی ہو۔ماسی نے برجستہ جواب دیا ۔باجی میں تو کسی طرح کبھی کبھی آ جاؤں مگر سب باجیاں مجھ سے ایسا ڈر رہی ہیں کہ سارا کورونا میرے اندر ہی بھرا ہے ۔باجی میرے تو بہت سے کام ختم ہو گئے ۔ادھر میرے چاچا نے اپنے دو پوتوں کا رشتہ میری دونوں بیٹیوں کیلئے مانگا ہے ۔اچھا کماتے ہیں ۔پھر کر دو نا شادی ۔ہما نے ماسی سے کہا تو ماسی نے افسردگی سے کہا باجی آپ تو جانتی ہیں میں قرض دار ہوں ۔سادگی سے شادی بھی نہیں کر سکتی ۔ہما نے سوچتے ہوئے کہا تم ایسا کرو سب باجیوں سے کچھ مدد مانگ لو۔باجی جب لوگ مجھ سے کام نہیں کروا رہےتو مجھ غریب کوکون پیسے دے گا ۔تنخواہ لینے کے بعد ماسی نے کہا باجی روز تو نہیں دوچار روز بعد کام کرنے آ جایا کروں گی ۔ماسی نے جاتے جاتے جتایا ۔
دوسرے روز رات کو ناصر صاحب نمرہ کی ہونے والی سسرال سے جیسے ہی واپس آئے ہماجلدی سے انکے پاس آ کر بیٹھ گئیں ۔کیا بات ہوئی ۔وہ شادی کی تاریخ آگے بڑھانے پر تیار ہیں ؟ہما نے بیتابی سے پوچھا ۔ناصر صاحب جو خوش نظر آرہے تھے ۔انہوں نے کہا بیگم وہ تو بہت سمجھدار لوگ ہیں ۔وہ کہہ رہےہیں کہ ہم سادگی سے شادی کر لیں گے ۔کچھ لوگ ہماری طرف سے ہوں گے تو آپ بھی اپنے قریبی رشتہ داروں کو بلا لیجیئے گا ۔ہمیں جہیز یا تحفے تحائف کی ضرورت نہیں ہے ۔سادگی سے ہر کام وقت پر ہو جائے تو بہتر ہے ۔جیسے ہی راستے کھلیں گے تو انکے بیٹے کو نوکری کیلئے باہر جانا ہو گا ۔یہ کیا بات ہوئی ۔ہما کا مزاج بدلا تو ناصر صاحب بھی ترش ہو گئے ۔بس اب میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔شادی وقت پر ہو گی اور میں سب انتظامات کر لوں گا۔ہاں میں نے ماسی کی باتیں سن لی ہیں۔ جو پیسے بچیں گے وہ ہم ماسی کو دے دیں گے تاکہ اسکی بیٹیوں کی شادیاں بھی ہو جائیں اور وہ اسکا قرض بھی ادا ہو جائے ۔پھر اچھی خاصی رقم انہوں نے ہما کے ہاتھ میں رکھی کہ یہ ماسی کو دے دینا ۔پھر ایسا ہی ہوا نمرہ کے شادی سادگی مگر خوش اسلوبی کی ساتھ ہو گئی تو دوسری طرف غریب ماسی کی بیٹیوں کی شادیاں بھی ہو گئیں اور اسنے قرض بھی ادا کر دیا ۔
آج جب ماسی نے آکر ان لوگوں کو ڈھیروں دعائیں دیں تو ہما کے دل میں طمانیت اتر آئی اور وہ سوچنے لگی کہ سادگی میں کتنی برکت ہے ۔