سی آئی اے کے مطابق ٹِک ٹاک امریکہ کیلئے کوئی خطرہ نہیں، چینی وزارت خارجہ

164

بیجنگ: چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس سی آئی کا ٹِک ٹاک پر لگائے گئے الزام کو بے بنیاد قرار دینے کے باجود امریکی حکام کا کمپنی پر پابندی لگانا ان کی چین دشمنی ثابت کرتا ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے  پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر چینی کمپنیاں امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں لیکن امریکہ کی سی آئی اے کی متعلقہ رپورٹ سے یہ ظاہر ہوا ہے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چین نے ٹک ٹاک کا ڈیٹا روکا یا ٹک ٹاک کے ذریعے کوئی موبائل فون ہیک کیا۔

انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کی اس رپورٹ سے ایک بار پھر  ظاہر ہوتا ہے کہ نام نہاد آزادی اور سیکورٹی محض امریکی سیاستدانوں کی “ڈیجیٹل گن بوٹ پالیسی” کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چودہ تاریخ کو امریکہ کے چینی کمپنی ٹک ٹاک کے تمام کاروباری حقوق سے الگ ہونے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے اور کہا تھا کہ امکان ہے کہ یہ کمپنی امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرناک حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔