حکومتی بے تدبیری نے اگلے دوسال بھی مشکل بنادیے‘ لیاقت بلوچ

71
لاہور: ملی یکجہتی کونسل کا خصوصی اجلاس لیاقت بلوچ کی زیر صدارت منصورہ میں ہورہاہے

لاہور( نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈرلیاقت بلوچ نے کہاہے کہ دو سال حکومتی ناکامی اور بے تدبیری و بد انتظامی نے آئندہ دو سال بھی مشکل تر بنادیے ہیں ۔ بجلی ، گیس ، تیل ، ٹیکسوں کی شرح کا بوجھ پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت بنا چکاہے ۔100 دن ، چھ ماہ اور ایک سال کے اعلانات کی طرح وزیراعظم عمران خان کا دو سال بعد کا اعلان بھی ہوائی اور بے بنیاد ہے ۔ ملک بڑے بحرانوں میں گھرگیاہے ۔ حکومتاور اپوزیشن غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کی بلند چوٹی پر ہے ۔ قومی ترجیحات پر قومی قیادت کو اکٹھا ہونا ہوگا وگرنہ اکیلے اکیلے حکومت ، فوج ، اپوزیشن بنائو کی بجائے بگاڑ کا باعث بنے گی ۔وزیراعظم اقتصادی تباہی کی وجہ سے عام آدمی کے بدترین حالات سے بے خبر ہیں ۔ چند مراعات یافتہ طبقوں کے علاوہ تجارت ، زراعت ، صنعت کا پہیہ جام ہے ۔ حکومت کا کوئی منصوبہ اور اعلان عوام میں تحرک نہیں پیدا کر رہا اصل مسئلہ نااہلی اور اعتماد کے بحران کاہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ عالم اسلام نے مسئلۂ کشمیرو فلسطین حل کرنے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ عالمی استعمار اپنا ایجنڈا مسلط کر رہاہے ۔ مسلم دنیا تقسیم در تقسیم ہے اسی وجہ سے مسلم عوام بے بسی کے عالم میں ہیں ۔ فلسطین کے مسئلہ پر عرب ممالک کا سرنڈر مسئلہ کشمیر اور مسئلہ افغانستان کے لیے بھی زیر قاتل بنے گا ۔ کشمیراور فلسطین کے عوام کے جذبات شدت سے مجروح ہورہے ہیں ۔ اسرائیل امارات معاہدہ کے دور رس منفی اثرات ہوں گے ، امارات کو اپنی خود مختار حیثیت میں فیصلے کرنے کا حق تو ہے لیکن ایسے فیصلے جو آزادی ، خود مختاری ، اصولوں اور حق کے خاتمہ کا باعث بنے ، یہ سب کا اجتماعی نقصان ہے ۔ حکومت پاکستان کا موقف ڈرا سہمااور بزدلی پر مبنی ہے ۔پاکستان، ترکی ، ایران ، ملائیشیا اور سعودی عرب کو عالم اسلام کے بحرانوں کے خاتمہ کے لیے کلیدی کردار ادا کرنا ہے اس کے لیے ماحول بنایا جائے ۔