یو اے ای کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے پر فوری او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے

305

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں بیرونی مندوبین کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت عالم اسلام کو کفر کی یلغار اور حملوں سے بچانا امت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے، عالمی استعماری قوتوں نے عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی زمینوں ،معدنیات ،تیل کی دولت اور سمندروں پر استعماری قوتوں کا قبضہ ہے، عالم اسلام کے ممالک پر اس نے اپنی مرضی کی قیادت مسلط کر رکھی ہے، اس سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ امت کے اندر حقیقی وحدت ہو، اتحاد عالم اسلامی اس وقت امت کی اولین ضرورت ہے ۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جو لوگ امت کو جغرافیہ یا مسلکوں کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں وہ امت کے خیر خواہ نہیں اور وہ دشمن کیلئے عالم اسلام کو تر نوالہ بنا رہے ہیں، کشمیر اور فلسطین امت مسلمہ کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس وقت فلسطین پر اسرائیل اور کشمیر پر ہندوستان نے قبضہ کر رکھا ہے، عالم اسلام کیلئے ضروری ہے کہ اپنے ان مسائل کے حل کیلئے متحد ہوں، او آئی سی کا فوری اجلاس بلایا جائے اور ان مسائل کے حل کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی دنیا میں اس وقت پونے دو ارب مسلمان ہیں ،ان کو ویٹو پاور کیوں حاصل نہیں ہے،عالم اسلام کو ویٹو پاور کا حق ملنا چاہئے،اسلامی دنیا کے ہر ملک کو اس کیلئے کوشش کرنی چاہئے ۔

بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے سفیر بنیں ،پاکستان کے اسلامی تشخص اور تہذیب و تمدن کو دنیا کے دوسرے لوگوں تک پہنچائیں،اپنی اجتماعیت کو بحال رکھیں اور اپنے خاندانی نظام کو مضبوط کریں،بیرونی دنیا میں مقیم پاکستانیوں کیلئے سب سے اہم کام یہ ہے کہ قرآن و سنت کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

کانفرنس سے سعودی عرب ،کویت ،قطر ،نیوزی لینڈ ،آسٹریلیا،اٹلی،یو کے ،ناروے اور ڈنمارک سمیت دودرجن سے زائد ملکوں کے مندوبین نے شرکت کی اور امت کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کیلئے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بیرونی ممالک میں موجود پاکستانیوں کو اپنے قول اور عمل سے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ مسلمان اور پاکستان کے نمائندے ہیں اور وہ انسانیت کی خیر خواہی اور بھلائی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین پر 1948ءہی سے ناجائز یہودی تسلط ہے،اسرائیل کے قیام کی جماعت اسلامی نے ہمیشہ بھرپور مذمت کی ہے،جماعت اسلامی اپنے قیام کے دن سے ہی فلسطین کی مکمل آزادی کی ترجمان رہی ہے،اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی جدوجہد کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی مقتدرہ کے قیام کے بعد بھی جماعت سرزمین انبیاءکے ایک ایک انچ کو ریاست فلسطین کا حصہ سمجھتی ہے۔

 فلسطینیوں نے اسرائیلی شکنجے سے آزادی کے لیے جس قدر جدوجہد کی ہے اور قربانیاں پیش کی ہیں،اُس کو جماعت نے خراج تحسین بھی پیش کیاہے اور اس کے لیے عملی جدوجہد بھی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین کی آ زادی کیلئے متحد ہوجائیں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اپنے مسائل خود حل کریں۔