کیمبرج سسٹم کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

558

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) کیمبرج سسٹم کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے، کراچی میں بھی طلباء کیمبرج نتائج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، ہفتہ کو طلباء نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج مظاہرہ کیا اور گریڈ کو عزت دو کے نعرے بلند کیے،طلباء نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال عالمی وباء کے باعث کیمبرج بورڈ نے پالیسی جاری کی کہ طلباء کی کاکردگی اور اسکول میں ہونے والے دیگرامتحانات بورڈ کو بھجوائے جائیں انکو مدنظر رکھتے ہوئے پریڈ یکٹڈ گریڈ جاری کیئے جائیں گے، لیکن کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جانب سے اے اور اولیول کے نتائج پاکستانی طلباء کیلئے رلا دینے کاسبب بن گئے۔بڑی تعداد میں اے اور او لیول کے طلباء کو ڈاؤن گریڈ کردیا گیا جسکے بعد انکا بہتراور من پسند جامعات میں داخلہ مشکل ہوگیا، کراچی پریس کلب کے باہرہفتہ کو بڑی تعداد میں طلباء جمع ہوئے انھوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھامے تھے جن پر گریڈ کو عزت دو، اور وزیر اعظم صاحب ہم گھبرا گئے ہیں، غنڈا گردی نامنظور جیسے نعرے درج تھے۔

طلباء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان نتائج سے کسی صورت مطمئن نہیں ہیں، اس قدر محنت کرنے کے باوجود بھی ہمیں یہ صلہ دیاگیا، امتحانات نہیں ہوئے لیکن جو پروگریس ہمارے اسکول، کالجز نے برٹش کونسل کے ذریعے بورڈ کو بھیجی وہ مختلف تھے۔بیشتر طلبا ء ایسے ہیں جنھوں نے آخری سال اے اسٹار لئے یا پھراے گریڈ حاصل کیے اور بورڈ کی جانب سے جو نتائج آئے اس میں کسی کو ”بی“ تو کسی کو ”سی“گریڈ دیدیا گیا اور بعض طلباء کو تو ”یو“ گریڈ دیکر آؤٹ کردیا گیا ہے۔

اس سسٹم کے تحت طلباء کے ساتھ بے انتہا زیادتی کی گئی ہم وزیرتعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم عمران خان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا جائز حق دلوایا جائے اور تعلیم کے ساتھ ہونیوالے اس کھلواڑ کو روکا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا، مظاہرے میں طلباء کے والدین بھی شریک تھے۔

انکا کہنا تھا کہ وزیر تعلیم صرف ٹوئٹ نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کریں ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، لاکھوں روپے خرچ کرکے کیمبرج سسٹم میں پڑھانے کامقصد بچوں کو کسی قابل بنانا ہے نہ کہ انکا مستقبل تاریک کرنا ہے۔مظاہرے میں سیاسی جماعتوں کے مختلف رہنماء بھی شریک ہوئے اور طلباء سے اظہار یکجہتی کیا۔اسی طرح وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنے ٹوئٹ کے زریعے کہا ہے کہ پاکستان طلباء کی جانب سے مایوسی اور شدید غم و غصے کے اظہار اور پاکستانی حکومت کی جانب سے مداخلت کے بعد کیمبرج نے گریڈنگ سسٹم پر نظر ثانی شروع کردی ہے۔

شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ بہت جلد اس حوالے سے کیمبرج کی جانب سے اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کیمبرج اپنے بچوں کے امتحانی نتائج پر نظرثانی پر فیصلے سے متعلق منگل تک آگاہ کرے گا۔پاکستانی طلباء کی جانب سے کیمبرج کے امتحانی نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان نتائج کے بعد وہ بیرون ملک یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے۔

علاوہ ازیں کیمبرج انٹرنیشنل ایگزامنیشن نے O اور A لیول میں طلباء کو کم گریڈ کی شکایت پر ایکشن لینے کااعلان کیا ہے۔پاکستان میں کیمبرج کی سربراہ عظمی یوسف کے مطابق منگل 18 اگست کو ہم بتائینگے کہ ہم کیا ایکشن لینگے۔انھوں نے کہا کہ چونکہ ہم نے 11 اگست کو اپنے نتائج جاری کیے،ہم اپنے اسکولوں اور طلباء کی آراء اور مشوروں کو سن رہے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ اسکول خوش ہیں کہ ہم مشکل حالات میں گریڈ مہیا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ہم نے اپنے عمل کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں طلباء کے خدشات بھی سنے ہیں اور ہم اس وقت کیمبرج کے طلباء کو درپیش اصل پریشانیوں کو سمجھتے ہیں۔

ہم غور سے دیکھ رہے ہیں کہ طلباء اور ان کے والدین کے تاثرات پر کس طرح عمل کیا جائے اور اسی کے ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ اسکولوں ، یونیورسٹیوں اور آجروں کو ہماری قابلیت پر بھروسہ قائم رہے۔

دوسری جانب متحد ہ قومی مو ومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے او اور اے لیولز کے نتا ئج کے اعلان پر طلبہ و طالبات میں پا ئی جا نے والی بے چینی اور نتا ئج پر عدم واعتماد پر اپنی گہر ی تشویش کا اظہا ر کر تے ہو ئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انٹر نیشنل کیمبر ج بو رڈ نے جس نتا ئج کا اعلان کیا ہے وہ قابل اطمینان نہیں ہے۔ رابطہ کمیٹی نے مطا لبہ کیا ہے کہ جلد ازجلد جا ری کئے جا نے والے نتا ئج پر نظر ثا نی کی جا ئے اور طلبہ و طالبات کے تحفظات کو دور کیا جا ئے۔