بھارت کی مالدیپ کو چین کیخلاف دانہ ڈالنے کی کوشش

198
نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر وڈیو لنک کے ذریعے مالدیپی ہم منصب عبداللہ شاہد کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بھارت نے مالدیپ میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے تحت بھارت مالدیپ کے دارالحکومت مالے کے اطراف میں 3 جزائر کو جوڑنے کے ایک منصوبے کے لیے رقم فراہم کرے گا۔ خیال رہے کہ اس خطے میں چین کی مسلسل بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے مدنظر بھار ت نے بھی پڑوسی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ بحر ہند میں واقع مالدیپ کے جزائر دنیا بھر کے سیاحوں میں کافی مقبول ہیں۔ یہاں کے سمندر کے مخصوص رنگ کا پانی سیاحوں کی کشش کا خصوصی سبب ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کے روز اپنے مالدیپی ہم منصب عبداللہ شاہد کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ نئی دہلی مالے کو ایک اہم رابطہ منصوبے کے لیے 40 کروڑ ڈالر کا قرض اور 10کروڑ ڈالر کا تعاون دے گا۔ جے شنکر نے کہا کہ یہ مالے کو 3 نواحی جزائر ویلینگلی، گلہی فاہو اور تھیلا فوسی کو جوڑنے والا سب سے بڑا بنیادی انفرااسٹرکچر پروجیکٹ ہوگا۔ بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ جے شنکر اور مالدیپ کے وزیرخارجہ شاہد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گریٹر مالے کنکٹی ویٹی پروجیکٹ سے خوشحالی آئے گی۔ چین کی طرف جھکاؤ رکھنے والے عبداللہ یامین کی 2018ء میں صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد سے ہی بھارت ابراہیم محمد صالح کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مالدیپ کے صدر نے ٹوئٹ کرکے بھارت کا شکریہ ادا کیا ہے اورسرمایہ کاری فراہم کرنے پر مودی سرکار کو سراہا ہے۔