کراچی کے مسائل کے حل کیلئے تاجر برادری نے تیلی کی حمایت کردی

125

1947 میں کراچی کو پاکستان کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔ اس وقت شہر کی آبادی صرف چار لاکھ تھی۔ اپنی نئی حیثیت کی وجہ سے شہر کی آبادی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا اور شہر خطے کا ایک مرکز بن گیا۔ پاکستان کا دار الحکومت کراچی سے راولپنڈی اور پھر اسلام آباد منتقل تو ہوا لیکن کراچی اب بھی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔ اپریل1970ء تک صوبے بنتے وقت” کراچی” کو سندھ اور” بھاول پو ر”کو پنجاب میں شا مل کر دیا گیا ۔ اس کا یہ صاف مطلب یہی ہے کہ کر اچی نہ سندھ کا حصہ تھا اور نہ ” بھاول پو ر”پنجاب کا حصہ تھا ۔ اب یہ بات کسی نہ کسی حد تک پی پی پی سمیت ملک کی تمام ہی سیاسی جماعتیں تسلیم کر تی ہیں کہ “بھاول پو رـ”کو الگ صوبے کی حیثیت دی جانی چاہیے حقیقت یہ ہے کہ “پی پی پی کی صوبائی حکومت جو سند ھ پر 2008سے حکمرانی کر رہی ہے وہ کراچی میں تباہ وبرباد کر نے کے ایجنڈے پرتسلسل سے کام کر نے اور روشنیوں کے شہر کر اچی کو” لاڑکانہ ” میںتبدیل کر نے میں مصروف نظر آتی ہے ۔ایک ہفتے اند ر اندر ملک کے سب سے بڑے تاجر و صنعت کار اور ایف بی آر کو بھاری ٹیکس ادا کرنے والے بزنس مین گروپ ( بی ایم جی) کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) سراج قاسم تیلی نے دوبارہ کہا ہے کہ صوبائی محکمے،مقامی انتظامیہ بدترین صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں ،وقت آگیاہے کہ فوج کی نگرانی میں کراچی کے تباہ حال انفرااسٹرکچرکو بہتر بنایاجائے بزنس مین گروپ ( بی ایم جی) کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی کے تباہ حال انفرااسٹرکچر کی بہتری اور ترقی کے کام کو پاک فوج کی زیر نگرانی 5سال کے لیے فوری طور پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے حوالے کیا جائے کیونکہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ صوبائی سطح پر تمام محکمے اور مقامی انتظامیہ بد ترین صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت اور سکت نہیں رکھتے۔4اگست 2020ء کو سراج قاسم تیلی نے وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کو صاف ستھرا بنادینے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تاجر و صنعتکار برادری وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو کراچی میں کلین اپ آپریشن سونپنے کے اقدام کو سراہتی ہے جس کے یقینی طور پر مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور اس شہر کے پریشان حال مکینوں کو کچھ ریلیف مل سکے گا جنہیں کراچی میں موسلا دھاربارشیں ہونے کی صورت میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔صفائی مہم کے آغاز کو صرف دو دن ہی گزرے ہیں اور این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کی سخت محنت کی وجہ سے فرق صاف ظاہر ہے کیونکہ دونوں ہی ادارے جارحانہ انداز میں کام کررہے ہیں اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ اگلی بارشوں سے قبل زیادہ سے زیادہ ممکن صفائی کر دی جائے گی۔اس کے بعد یہ ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا ،سب سے پہلے حکومت سندھ کو پریشانی لاحق ہو گئی کہ سراج تیلی سندھ سے غداری کر رہے ہیںاس کے بر عکس کہ سراج کیا کہہ رہے ہیںمیں پی پی پی کے وزیر ِاعلٰی سندھ اور بلاول بھٹو اور ان کے دیگر ڈھول پیٹنے والے رہنماؤں کو بتاناچاہتا ہو ں کہ 20 سے 25سال کے لمبے عرصے تک نظر انداز ہونے کے بعدموجودہ وفاقی حکومت کراچی کے لیے کچھ اچھا کرنے کی نیت سے فیصلہ کن انداز میں آپہنچی ہے جبکہ پچھلے 20سالوں کے دوران تمام سیاسی جماعتیں جو حکومت کے تینوںدرجات بشمول وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں میں رہ چکی ہیں ان سب نے کراچی کو ہمیشہ نظر انداز کیا جو کراچی والوں کے لیے تباہ کن صورتحال پیدا کرنے کا بنیادی سبب ہیکراچی کے بنیادی ڈھانچے بشمول سڑکیں، بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام، سیوریج لائنیں، پانی کی تقسیم، صفائی و ستھرائی اور دیگر شہری سہولیات کو صرف این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کی خدمات حاصل کرکے ہی بہتر بنایا جاسکتا ہے جس کی نہ صرف کاروباری اور صنعتی برادری بلکہ اس شہر کی اکثریت حمایت کر رہی ہے کیونکہ ہر کوئی بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ فوج کی نگرانی میں کراچی کے تباہ حال انفرااسٹرکچرکو اولین ترجیح پر بہتر بنانا ہوگا بصورت دیگر صورتحال بدستور خراب ہوتی رہے گی جس سے کراچی میں رہنا اور کاروبار کرنانا ممکن ہوجائے گا۔سراج تیلی نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ ان کے بیان کی حمایت کررہے ہیں وہ کے سی سی آئی کی ویب سائٹ www.kcci.com.pk پر جاکر اپنا نام، رابطہ نمبر دے کر اپنی گنتی کروائیں اور ان کی حمایت کی توثیق کریں۔بی ایم جی اینز، کے سی سی آئی کے جنرل باڈی ممبرز، تاجر وصنعتکار برادری کے اراکین اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہر اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اٹھائے جانے والے اس مقصد کی حمایت کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔اس سلسلے میں کراچی والوں کا وفاقی حکومت سے یہ کہنا ہے کہ کراچی کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کا کام بھی این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کو دیا جائے گا۔صفائی مہم صرف نالوں کو صاف کرنے تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ کراچی کے ہر کونے اور گوشے کو ہنگامی بنیادوں پر کچرے سے صاف کرنا ہوگا اور یہ عمل بلارکاوٹ جاری رہنا چاہیے تاکہ شہر مکمل طور پر صاف ستھرا رہے۔ مستقبل میں بھی شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اور طریقہ کار وضع کیا جائے اور مستقل بنیادوں پر شہر کی صفائی وستھرائی کو کسی بھی قیمت پر برقرار رکھا جائے جو صرف فوج کی نگرانی میں ہی ممکن ہے شہر کو کچرے سے صاف کرنے کے بعد این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کو انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو باالخصوص کراچی کے خستہ حال روڈ نیٹ ورک کو بہتر بنانے کا ٹاسک دینا چاہیے۔کراچی کے ساتوں صنعتی زونز میں سڑکیں اور سیوریج لائنیں انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں جن کی وجہ سے تاجروں اور صنعت کاروں کو سامان کی ترسیل کے دوران بہت نقصانات ہوتے ہیںاور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہونے والے ٹریفک جام سے سامان کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے بھی انہیںاکثر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ چونکہ کراچی والے اور کاروباری اور صنعتی برادری کا مقامی انتظامیہ کی صلاحیتوں پر سے مکمل طور پر اعتماد ختم ہوچکا ہے جو کراچی والوںکو درپیش مشکلات کو کم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے لہٰذا کراچی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے فوری طور پر فوج کے حوالے کرنا ناگزیر ہوگیا ہے بصورت دیگر کراچی کی تباہ کن صورتحال ملک کی معیشت پر اثراندازہوگی کیونکہ یہ وہ شہر ہے جو ملکی معیشت میں 70 فیصد سے زائد خطیر ریونیو جمع کرتا ہے۔یہ شہر سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے لہٰذا شہرِ کراچی ترجیحی اور توجہ طلب سلوک کا مستحق ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی لگن اور خلوص کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں امیدہے کہ وہ کراچی والوں کی حالت زار پر دھیان دیں گے اور اگلے 5 سالوں تک اس شہر کو فوج کے حوالے کرنے کی تجویز پر غور کریں گے جو عملی طور پر اس شہر کو انفرااسٹرکچر کے بحرانوں اور دیگر مسائل سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔ ہمارے سروے کے مطابق سراج قاسم تیلی کے اس بیان کو کہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے اگلے 5 سالوں کے لیے کراچی کو پاک فوج کے حوالے کرنے سے متعلق ان کے بیان کی بھاری اکثریت نے حمایت کرتے ہوئے سراہا ہے جبکہ صرف چند لوگوں نے اس بیان کو غلط سمجھا۔ وہ یہ بات جان لیں کہ میں کراچی میں پیدا ہوا، ایک میمن ہوں اور سندھ میں بسنے والے کسی بھی سندھی سے زیادہ سندھی ہوں۔ ہم کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے اپنے جائز مطالبے پر قائم ہیں جو کہ کوئی سیاسی بیان نہیں ہے اور یہ کام فوج کی نگرانی میں این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کو دیا جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے چندہی دنوں میںنالوں کو فوری طور پر صاف کرکے حیرت انگیز کام کیا ہے تاکہ ممکنہ بارشوں سے ہونے والی تباہی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کا کام فوری طور پر این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کو دیا جائے جبکہ اس خاص مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوںکو ہر وقت فنڈز کی دستیابی کو ممکن بنانا ہو گا تاکہ شہر کا پورا انفرااسٹرکچر جس میں سڑکیں اور سیوریج شامل ہیں ان لائنوںکو دوبارہ تعمیر کیا جاسکے اور کچرا بھی ایک بار ہی مکمل صاف کردیا جائے جبکہ تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر ایک ایسا مؤثر طریقہ کار وضع کریں جو پورے کراچی میں مستقبل میںدیرپا صفائی کو یقینی بنائے۔سراج تیلی نے کہاکہ ان کے بیان میں کوئی سیاسی زاویہ نہیں بلکہ ہماری واحد نیت یہ ہے کہ کراچی کی بہتری کے لیے مخلصانہ طور پر آواز بلند کی جائے جو صرف پاک فوج ہی کر سکتی ہے کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں جو پچھلے 20 سے 25 سالوں کے دوران برسر اقتدار رہیں۔ ان سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ وہ شہر کے انفرااسٹرکچر کو بربادکرنے اورکراچی والوں کی مشکلات کو بڑھانے میں پوری طرح ذمہ دار ہیں۔
اس وقت حالات یہ ہیں کہ کراچی کے ساتوں صنعتی زونوں بالخصوص سائٹ ایریا انتہائی تباہ کن صورتحال سے دوچار ہے۔ یہ امر بھی باعث تشویش ہے کہ کراچی کے سب سے بڑے صنعتی علاقے سائٹ میں انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کا ذمہ دار سائٹ لمیٹڈ کے بورڈ کے اجلاس ہی نہیں ہورہے۔ اس حوالے سے میں یہ بات خاص طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ سائٹ لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر مرحوم مہدی شاہ جو حال ہی میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے۔وہ سائٹ ایریا کی سڑکوں کے ترقیاتی کاموں کے لیے 1 ارب 25 کروڑ روپے کی منظوری کروانے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن بدقسمتی سے یہ فنڈز آج تک غیر استعمال شدہ ہیں۔ اگر کسی کو بھی سائٹ ایریا کے قابل رحم انفرااسٹرکچر نیٹ ورک کے بارے میں کوئی شک ہے تو وہ ایک مرتبہ سائٹ ایریا کے دور ہ کر لے جہاں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے آج کل جیپ پر بھی سفر کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔انہوں نے زور دیاکہ صفائی مہم صرف بند نالوں کو صاف کرنے تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کراچی کے ہر کونے اور گوشے کو جنگی بنیادوں پر کچرے سے مکمل طور پر صاف کرنا ہوگا اور اس وقت تک یہ عمل جاری رہنا چاہیے جب تک پورا شہر مکمل طور پر صاف نہیں کیا جاتا لہٰذا اس مقصد کو عملی طور پر پورا کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اور طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں بھی شہر کو صاف و ستھرا رکھنے کو یقینی بنایاجاسکے۔ کراچی والوں اور تاجروصنعتکار برادری کو مقامی انتظامیہ پر اعتماد نہیں جو کراچی والوں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے لہٰذا حکومت کو تاجر برادری کے غیرجانبدارانہ مطالبہ پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اولین ترجیح پر فوج کی خدمات حاصل کی جاسکیں بصورت دیگر کراچی کی تباہ کن صورتحال کا عکس ملکی معیشت میں نظر آئے گا لہٰذا کراچی سے حاصل ہونے والی 70 فیصد سے زیادہ آمدنی کی بڑی شراکت کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاؤلہ نے تاجربرادری کے رہنما سراج قاسم تیلی کے کراچی کی نگرانی اور مدد کے لیے فوج کی خدمات حاصل کرنے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صرف بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے کراچی کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں کیونکہ کراچی کے مسائل گھمبیر صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں۔شہر کے انفرااسٹرکچر سے متعلق مسائل کو شفاف طریقے اور بدعنوانی کے بغیر حل کرنے کے لیے فوج کی نگرانی اور مدد کا فیصلہ صاف نیت سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے نالوں کی صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ذمہ داری این ڈی ایم ے اور ایف ڈبلیو او کو تفویض کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے گزشتہ چند دنوں کے دوران دونوں اداروں کی جانب سے کی جانے والی سخت محنت کی تعریف کی جس کی وجہ سے کراچی والوں کوحالیہ بارشوں میں اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو انہوں نے پندرہ روز قبل شہر میں موسلا دھار بارشوں کے دوران پریشانی اٹھائی تھی ۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہاکہ صفائی مہم صرف بڑے نالوں کی صفائی اور بند نالوں کو صاف کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جنگی بنیادوں پرکراچی کے ہر ایک کونے اور گوشے کو مکمل طور پر صاف کیا جانا چاہیے اور جب تک پورے شہر باالخصوص کراچی کے تمام صنعتی علاقوں کو مکمل طور پر صاف ستھرا نہیں کیا جاتا تب تک یہ ایک جاری عمل رکھا جائے۔انہوں نے سائٹ کے تباہ حال انفرااسٹرکچرکا خصوصی طور پرذکر کرتے ہوئے کہاکہ انفرااسٹرکچر کو بہتر نہ بنانے کی وجہ سے یہاں سڑکوںکا نام ونشان ہی مٹ گیا ہے جبکہ کئی دہائیوں سے یہاں کچرا صاف نہیں کیا گیا۔سلیمان چاؤلہ نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیںکراچی کی دیکھ بھال کے لیے فوج کی مدداور نگرانی کے سوا کوئی حل نظر نہیں آرہا کیونکہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں حکومت سندھ اور شہری انتظامیہ کی بری طرح ناکام رہی ہے۔
کے الیکٹر ک کا تو کہنا ہی کیا اس کے بارے میں تو وفاقی اور صوبائی حکومت بے بس لاچار اور مجبور دکھا ئی دیتی ہے آل کراچی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین اور طارق روڈ وبہادر آباد ٹریڈر الائنس کے صدر الیاس میمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں، حکومت کے ا لیکٹرک کو فوج کے حوالے کرے، کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدے کے بوجود شہر کے بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہیں کیا گیا جبکہ ایوریج بلوں کے ذریعے شہریوں سے لوٹ مار بڑھادی گئی ہے۔الیاس میمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے شہر کے پوش علاقوں میں4سے5گھنٹے جبکہ غریب علاقوں میں10 سے 12 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے شہری اور کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہوچکی ہیں۔الیاس میمن نے کہا کہ تاجر برادری ایک طرف کورونا سے ہونے والے لاک ڈائون سے پریشان ہیں تو دوسری جانب شہر میں جو 10 سے15فیصد کاروباری سرگرمیاں جاری تھی وہ بھی لوڈ شیڈنگ کی نظر ہوچکی ہیں جبکہ ایوریج بلوں سے تاجروں کے بلوں میں دگنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک گزشتہ کئی سالوں سے شدید گرمی کے غذاب میں تاجروں کو پریشان کرتی رہی ہے اور رواں سال لوڈ شیڈنگ اور ایوریج بلوں کے نام پر لوٹ مار بڑھادی گئی ہے ، جس کی وجہ سے کراچی کا ہر شہری کے الیکٹرک کے ظلم کا شکار ہے اور اس ادارے سے بدظن ہوچکاہے ۔اس موقع پر انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عدالت عظمیٰ اس حوالے سے سوموٹو ایکشن لے کر کے الیکٹرک کو فوج کے حوالے کرنے کے احکامات صادر کرے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی ) میں لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین اور بزنس مین گروپ کے رہنماء عبدالرزاق اگر نے کہا ہے کہ کراچی کے ترقیاتی کام فوج سے کرائے جائیں‘ کراچی پورے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جب کراچی میں کاروباری پہیہ چلے گا توہی پورا ملک چلے گا ،کراچی کو ملک کا بہترین شہر بنانے کے لیے فوج کے حوالے کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ عبدالرزاق اگر نے کہا کہ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسون کا نعرہ لگانے والی موجودہ سندھ حکومت مسلسل تیسری بار حکومت میں ہے لیکن انہوں نے سندھ کے سب سے بڑے شہر کے مسائل حل نہیں کیے اوران کے دور میں کراچی کی حالت مزید خراب ہوتی گئی ،آج کراچی کے شہری اور تاجر سہولیات کے حساب سے ملک کے کسی بھی بڑے شہرکے لوگوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔عبدالرزاق اگرنے کہا کہ پیپلز پارٹی کو جتنا عرصہ سندھ میں حکومت چلانے کا موقع ملا ہے ملک کی کسی دوسری پارٹی کو کسی بھی صوبے میں اتنا بڑا موقع نہیں ملا ہے ،اس کے باوجود حکومت کا رونا ختم نہیں ہوتا ہے۔عبدالرزاق اگر نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی سندھ کے لیے بہتر نظام بنانے میں ناکام رہی ہے جہاں لوگوں کو سہولیات مل سکیں، یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کی تاجر برادری کراچی کوفوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ عبدالرزاق اگر نے کہا کہ کراچی کو 5 سال کے لیے فوج کے حوالے کرنے والی بات پرکراچی بھر کی تاجر برادری تاجر رہنماء سراج قاسم تیلی کے ساتھ ہے اور ان کی آواز کے ساتھ آواز ملاتے ہوئے کھڑے ہیں۔ عبدالرزاق اگر نے کہا کہ وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ نے نئی شپنگ پالیسی متعارف کرائی ہے جو اچھا اقدام ہے لیکن اس کے ساتھ شپنگ کمپنیوں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ من مانی کرتے ہوئے ڈٹینشن کے نام پر امپورٹرز سے لوٹ مار بند کریں۔
ٹیکسٹائل پلازہ اونر ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکرم رانا نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں شہر کو لاوارث بنادیا گیا ہے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہیں شاہراؤں اور سڑکوں کا برا حال ہے سیوریج سسٹم ناکارہ ہوگیا ہے کے الیکٹرک کی جانب سے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ان خیا لات کا اظہار انہوں نے تاجروں کے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے کیا محمد اکرم رانا نے مزید کہا کہ کراچی کو موہنجو دڈو بنا دیا گیا ہے سپریم کورٹ کی جانب سے تجاوزات کے خا تمے کے احکا مات کے باوجود غیر قانونی تجاوزات قائم ہیں صرف نمائشی کارروائی کی جاتی ہے غیر قانونی تعمیرات مکمل ختم نہیں کی گئیں ہیں انہوں نے مزید کہاکہ شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکامی پر سندھ حکومت میئر کراچی کو ذمہ دار ٹہراتی ہے جبکہ میئر کراچی کہتے ہیں کہ میرے پاس اختیارات اور فنڈز نہیں ہیں پھر شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے کون آگے آئے گا اکرم رانا نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی میں نالوں کی صفائی کی ذمہ داری این ڈی ایم اے کو دینے کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نالوں کی صفائی کے امور میں بہتری آئے گی ۔اب ایک آخری بات کہ “دنیا بھر میں یہی اصول کام کر تا ہے کہ “دودھ دینے والی گائے کی لاتیں بھی بھلی لگے ہیں”لیکن سندھ حکو مت دودھ دینے والی گائے کو لات مارنے میں مصرو ف ہے؟