ـ15اگست: آر ایس ایس یوم ِ آزادی

321

بھارت ایک سیکولر ریاست ہے تاہم موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ہندو نظریے کے پیروکار آر ایس ایس کے غنڈے آج بھی اپنے ہی ملک کے بانی مہاتما گاندھی کو گالیاں دیتے ہیں اور چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔ وہن داس کرم چند گاندھی، جو عام طور پر مہاتما گاندھی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو 30 جنوری 1948ء کو برلا ہاؤس (موجودہ گاندھی سمرتی) میں قتل کیا گیا جہاں گاندھی کسی مذہبی میل ملاپ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے، اس جگہ ہندو مہاسبھا سے تعلق رکھنے والا ایک انتہا پسند و قوم پرست ہندو نتھو رام گوڈسے پہنچا اور اس نے گاندھی پر گولی چلائی۔ گاندھی کو فوراً برلا ہاؤس کے اندر لے جایا گیا مگر تب تک وہ دم توڑ چکے تھے۔ آج کے بھارت میں مودی حکومت میں انتہا پسند و قوم پرست ہندو نتھو رام کو ’’ہندؤوں کا ہیرو اور مہاتما گاندھی کو زیرو‘‘ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کا دعویدار بھارت اپنے آئین کے تحت مذہبی آزادی کو ایک بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ بھارتی آئین کی شق 25-28 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ 1976ء میں بھارت کے آئین میں ایک ترمیم کی گئی جس کے تحت اسے سیکولر ریاست قرار دے دیا گیا یعنی ہندو مت اور اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب بھارت کا سرکاری مذہب کہلوانے کا دعویدار نہیں ہوسکتا۔
5اگست کو بھارتی یوم آزادی سے صرف 10دن قبل مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ ’’رام مندر‘‘ کا سنگ ِ بنیاد رکھا اور یہ کہا کہ ’’رام جی کو رہنے کے لیے ایک جگہ مل گئی ہے اب تک رام ٹینٹ میں رہتے تھے‘‘ فیض آباد کی اس 465 سال پرانی تاریخی بابری مسجد کو دسمبر 1992ء میں شہید کر دیا گیا تھا۔ دسمبر 1992ء سے جنوری 1993ء تک ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت پر ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے جن کے دوران 5ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے جسے بمبئی فسادات کہا جاتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کی فہرست بہت لمبی لیکن انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ میں چند بڑے بڑے واقعات کا ذکر کچھ اس طرح ہے یہ رپورٹ2019ء میں دہلی فسادات کے بعد جاری کی گئی تھی۔ دہلی فسادات متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہروں کے دوران اس وقت شروع ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دو روزہ دورے پر تھے جس پر عالمی برادری کی طرف سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔ ان مسلم کش فسادات کے دوران تشدد پسند ہندوؤں کے جتھے مسلمانوں کی آبادیوں پر حملہ آور ہوئے جس کے دوران 200 کے قریب مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے، بھارت میں مذہبی تشدد اور فسادات کے متعدد واقعات رونما ہوئے 2002ء میں بھارتی علاقے گجرات میں 28 فروری کو تقریباً 2100 افراد کو قتل کیا گیا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اگست 2008ء میں بھارتی ریاست اڑیسہ میں 42 مسیحیوں کو قتل کردیا گیا۔ جولائی 2012ء میں آسام میں 77 افراد کو قتل کردیا گیا۔ یہ بھی ایک متعصبانہ قتل ِ عام تھا جس کے دوران زیادہ تر مسلمان شہید ہوئے۔
2013ء میں مظفر گڑھ فسادات کے دوران اتر پردیش کے علاقے مظفر گڑھ میں 62 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ 93 افراد زخمی بھی ہوئے۔ 1984ء سکھ مخالف فسادات، گجرات میں 2002ء میں مسلم مخالف فسادات اور 2008ء میں مسیحی مخالف فسادات شامل ہیں۔ قیامِ پاکستان کے موقع پر بھی فسادات رونما ہوئے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر پاکستان جانے والی ایک پوری ٹرین کے مسافروں کو قتل کر ڈالا اور جب وہ پاکستان پہنچی تو اس میں شہداء کی لاشوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ہندو مسلم فسادات کی تاریخ بے حد طویل ہے جن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا، تاہم یہ فسادات صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوئے۔ ہم چند چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کریں گے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے موقع پر ہونے والے فسادات میں لاکھوں افراد کا قتل ِ عام کیا گیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ 1948ء میں حیدر آباد دکن کو غیر مسلح کیا گیا جس کے بعد ہندوؤں نے قتل ِ عام شروع کردیا جس کے دوران 27 سے 40 ہزار مسلمان شہید ہوگئے۔ 1969ء میں بھارتی صوبے گجرات میں ہندو مسلم فسادات کے دوران 660 افراد قتل کردیے گئے جن میں سے 430 مسلمان تھے۔ اس کے بعد 1976ء میں ترکمان گیٹ کے انہدام پر فسادات ہوئے اس میں پولیس نے دہلی سے تعلق رکھنے والے 150 افراد کو قتل کردیا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد 31 جنوری 1979ء کو مغربی بنگال میں مشرقی پاکستان سے آنے والے افراد کا قتل ِ عام ہوا اور سیکڑوں مسلمانوں کو قتل کردیا گیا۔ 1980ء میں مراد آباد میں فسادات ہوئے جن کے دوران بھارتی ریاست یوپی (اترپردیش) میں ڈھائی ہزار افراد کو قتل کردیا گیا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد 18 فروری 1983ء کو نیلی قتل ِ عام کا واقعہ ہوا۔ آسام میں 2191 مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ اس کے بعد سکھ مخالف فسادات شروع ہوئے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 2 نومبر 1984ء کو شروع ہونے والے فسادات میں ملک بھر میں 2800 سے زائد سکھوں کو قتل کردیا گیا۔ تین سال بعد 22 مئی 1987ء کو میرٹھ اور اتر پردیش میں 42 مسلمانوں کو قتل کردیا گیا جسے ہاشم پورہ قتل ِ عام کہا جاتا ہے۔ اکتوبر 1989ء میں بہار کے علاقے پھاگل پور میں 1000 لوگ قتل ہوئے جن میں سے 900 مسلمان تھے۔ 20 جنوری 1990 کو کشمیریوں کا قتل ِ عام کیا گیا جس کے دوران 50 کشمیری مظاہرین شہید ہو گئے۔ 30 اکتوبر 1990ء کو ایودھیا میں 200 مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔
یہ ساری صوتحال کیا بھارت کو ایک سیکولر ملک ثابت کررہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی لکھا ہے کہ ’’بھارت میں آر ایس ایس کے مجرم اور غنڈے بھارتی آزادی کا اصل مزہ اُٹھا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے 15اگست بھارتی آر ایس ایس غنڈوں کا یوم ِآزادی بن گیا ہے‘‘۔