وہ وفادار نہیں تھی اور یہ بھی

371

ریاست پاکستان جس سناٹے کا شکار ہے دھڑام سے گرنے کی کوئی آواز ہی اس سناٹے کو توڑتی ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد جب وزیراعظم عمران خان نے عوام سے کہا تھا ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ ہمیں تب ہی لگا تھا کہ زندگی کے جہنم میں جو چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں، آسانیاں اور پناہ گاہیں ہیں وہ بھی چھننے والی ہیں۔ عمران خان جس طرح حکومت کررہے ہیں اس طرح تو کوئی فلرٹ بھی نہیں کرتا۔ وہ ہر شعبہ زندگی کو ٹھکرانے کی غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ اقتدار سے کھیل رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی وہ بڑی بڑی مشکلات پیدا کردیں جو چھوٹی چھوٹی آسائشوں کو نگلنے لگیں، ہر آزمائش بڑی آزمائش میں تبدیل ہونے لگی۔ پاکستان ایک ایسے گھر کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے جہاں روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے۔
ایک جواں سال شاعر نے اپنا دیوان استاد کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی کہ میرے جو اشعار آپ کو کمزور لگیں ان کے سامنے صلیب کا نشان بنا دیجیے گا۔ اصلاح کے بعد اس نے دیوان دیکھا تو کہیں بھی صلیب کا نشان نہیں تھا۔ بڑا خوش ہوا۔ استاد سے کہا ’’کیا میرے اشعار اتنے عمدہ ہیں کہ کسی شعر کو اصلاح کی ضرورت نہیں ہے کہیں آپ نے صلیب نہیں بنائی‘‘۔ استاد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’اگر میں تمہاری خواہش کے مطابق غلط اشعار کے سامنے صلیب کا نشان بنا دیتا تو تمہارے دیوان اور عیسائیوںکے قبرستان میں کوئی فرق باقی نہ رہتا‘‘۔ عمران خان حکومت کی کارکردگی کی بھی یہی صورت حال ہے۔ قبرستان کے ذکر پر موپساںکا افسانہ ’’کیا یہ کوئی خواب تھا‘‘ کا خلاصہ سن لیجیے:
میں دیوانگی کی حد تک اس سے پیار کرتا تھا۔ پورے سال میں اس کے شیریں لفظوں کے حصار میں مکمل طور پر ایسا آیا، ان کے بندھنوں میں اس مضبوطی سے بندھا اور اپنے ہوش وحواس اس بری طرح کھو بیٹھاکہ مجھے اس کی با لکل پروا نہیں رہی کہ دن ہے یا رات۔ اور پھر وہ اچانک انتقال کرگئی۔ کس طرح؟ مجھے خود بھی نہیں معلوم۔ مجھے کسی چیز کا بھی علم نہیں۔ سوائے اس کے کہ ایک رات وہ گھر خوب بھیگی ہوئی لوٹی۔ اس وقت بہت تیز بارش ہورہی تھی۔ دوسری صبح اسے کھانسی شروع ہوئی اور تقریباً ایک ہفتے وہ اسی طرح شدید کھانسی کے دورے میں مبتلا رہی۔ اس دوران وہ مستقل بستر سے لگی رہی۔ ڈاکٹر آتے رہے اور نسخے لکھ لکھ کر جاتے رہے۔ اس دوران اس کے ہاتھ گرم رہتے تھے، ماتھا بھی جلتا رہتا تھا اور اس کی آنکھیں بھی انگارہ بن گئی تھیں۔ ان میں اداسی کی کیفیت الگ شامل تھی۔ جب وہ آخری وقت کی انتہائی نحیف سانسیں لے رہی تھی تو وہ سانسیں مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ پھر اس کو قبر میں دفن کردیا گیا۔ یہی وہ موقع تھا جب میں نے وہاں سے راہ فرار اختیار کی۔ میں سڑکوں پر دوڑتا رہا مسلسل دوڑتا رہا اور دوسرے دن میں طویل سفر پر نکل گیا۔
میں کل ہی مدت بعد پیرس پہنچا۔ جب میرے اپنے بلکہ ہمارے کمرے کی ہر چیز، جو مرنے والے انسان کی اس کی موت کے بعد یاد دلاتی ہے، پر میری نظر گئی تو ایک بار پھر میرے دل کے زخم ہرے ہوگئے۔ میرے خیالات اور جذبات انتہائی بکھر گئے۔ میں قبرستان پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا اس کی قبر سادہ سی ہے۔ جس کے ماربل کے تختے پر بنی صلیب پر یہ الفاظ تحریر تھے ’’اس نے محبت لٹائی، اس نے محبت سمیٹی اور دنیا سے رخصت ہوگئی‘‘۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ غم سے نڈھال میرے شکستہ دل میں ایک عجیب سی خواہش پیدا ہوئی جو ایک شکستہ دل پریمی کی ہوسکتی تھی وہ یہ کہ میں رات اپنی محبوبہ کی قبر پر رو رو کر گزاردوں۔
میں اس وقت تنہا تھا۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ مجھے رات کو دیکھ لیا جائے اور قبرستان سے بھگادیا جائے۔ قبرستان کے آخری قطعے پر پہنچ کر میں ایک سرسبز درخت کی گھنی اور تاریک شاخوںکے درمیا ن چھپ کر بیٹھ گیا۔ جب اندھیرا مکمل طور پر چھا گیا تو میں درخت سے اتر کردبے دبے، آہستہ اور بے آواز قدموں سے مردہ لوگوں کی قبروں سے اٹی ہوئی زمین پر چلنے لگا لیکن کافی دیر تک ادھر ادھر گھومنے کے باوجود مجھے اپنی محبوبہ کی قبر نہیں ملی۔ میں اس وقت ایسے نابینا شخص کی طرح تھا جو اپنے راستے کی کھوج میں بری طرح بھٹک گیا ہو۔ مجھے اس وقت پتھروں، صلیبوں، گلدستوں اور مرجھائے ہوئے پھولوں سے بار بار واسطہ پڑرہا تھا۔ اف میرے خدا کیسی بھیانک رات تھی۔ ہر ممکن کوشش کے باوجود مجھے اس کی قبر نہیں ملی۔
ہر طرف خوفناک اندھیرا اور تاریکی تھی۔ میں اپنے آپ کو خوف زدہ محسوس کررہا تھا، انتہائی خوف زدہ۔ میرے چاروں طرف قبریں ہی قبریں تھیں۔ مجھ پر تھکن غالب آتی جارہی تھی۔ میرے گھٹنے جواب دے گئے تھے۔ میں ایک قبر پر سستانے بیٹھ گیا۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوا میں کتنی دیر بیٹھا رہا۔ میں خوف ودہشت کے عالم میں تقریباً مفلوج ہوکر رہ گیا تھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ قبر کی مرمریں سل جس پر میں بیٹھا ہوں، حرکت کررہی ہے۔ یہ میرا وہم نہیں تھا۔ سل اس طرح حرکت کررہی تھی جیسے قبر کے اندر سے کوئی اسے اٹھارہا ہو۔ میں گھبرا کر اچھل کر برابر والی قبر پر پہنچ گیا۔ قبر میں سے ایک بالکل برہنہ ڈھانچہ نمودار ہوا۔ میں رات کے اس غضبناک اندھیرے میں بھی حیرت انگیز طور پر صلیبی تختے پر کندہ مردہ آدمی کا کتبہ پڑھ سکتا تھا۔ ’’یہاں جاکس اولیوان دفن ہے جس نے اکیاون سال کی عمر میں وفات پائی۔ وہ اپنے خاندان سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ بڑا رحم دل اور معزز آدمی تھا۔ وہ رحمت خداوندی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا‘‘۔ مردہ آدمی نے بڑے غور سے اپنی قبر کے کتبے کو پڑھا۔ پھر اس نے راستے میں پڑے ایک نوک دار پتھر سے تحریر کو کھرچنا شروع کردیا۔ اس نے اپنی انگلیوں کی ہڈیوں کی نوکوں سے کتبے پر متبادل تحریر لکھنا شروع کردی۔ اب جو نیا کتبہ بنا وہ یہ تھا ’’یہاں جاکس اولیوان دفن ہے جس نے اکیاون سال کی عمر پائی۔ اس نے اپنے باپ کی جائداد حاصل کرنے کے لیے اس کے ساتھ اس قدر ظالمانہ سلوک کیا کہ وہ وقت سے پہلے ہی دنیا سے چلا گیا۔ اس نے اپنی بیوی کو اذیتیں دیں، اپنے بچوں پر تشدد کیا، اپنے پڑوسیوں کو دھوکا دیا۔ جس شخص سے بھی اس کا واسطہ پڑا اس نے اس کو لوٹا لیکن مرا بڑی کسمپرسی کی حالت میں‘‘۔ اس دوران میں نے اپنے چاروں طرف گردن گھمائی تو مجھے پتا چلا کہ میرے اردگرد تمام قبریں کھلی ہوئی ہیں اور اُن میں سے انسانی ڈھانچے باہر آئے ہوئے ہیں اور یہ کہ سب نے اپنی قبروں کے کتبوں کی جھوٹی تحریریں مٹا دی ہیں اور اُن کی جگہ ان مردوں نے اپنے بارے میں انتہائی کھلے طور پر سچے حروف تحریر کرد یے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ ان حروف کے مطابق سب لوگ اپنے اپنے پڑوسیوں کو تنگ کرنے والے، عداوت رکھنے والے، بے ایمان، عیار، جھوٹے، بدمعاش، بہتان طراز، اور حاسد تھے۔ دھوکا دہی اُن کا شیوہ تھا۔ ’’مجھے اس دوران خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ میری محبوبہ نے بھی اپنے اصلی کتبے کے الفاظ میں ردوبدل کیا ہو۔ چناں چہ اب میں بلا خوف و خطر ادھ کھلے کفنوں، لاشوں اور ڈھانچوں کے درمیان سے ہوتا ہوا ایک بار پھر اُس کی قبر اور خود اُس کی تلاش میں نکلا، اب مجھے نہ معلوم کیوں یقین ہوگیا تھا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنی قبر سے نمودار ہوکر کھڑی ہوگی۔ اور ہوا بھی یہی۔ میں نے اُس کو فوراً پہچان لیا، حالاںکہ اُس کا چہرہ کفن میں ڈھکا ہوا تھا۔ اور مرمریں صلیبی تختے پر کچھ گھنٹوں پہلے میں نے جو یہ لکھا دیکھا تھا: ’’اُس نے محبت لُٹائی، اُس نے محبت سمیٹی اور دنیا سے رخصت ہوگئی‘‘ اُس کی جگہ اب لکھا تھا: ’’وہ اپنے ٹوٹ کر چاہنے والے سے وفادار نہیں تھی اور ایک روز وہ اُس سے بہانہ بناکر دوسرے آدمی کے پاس جانے کے لیے بارش میں نکلی تو ٹھنڈ کا شکار ہوگئی اور چل بسی‘‘۔
ہمارے محبوب سیاست دان، سول اور فوجی حکمران بھی اس محبوبہ کی طرح عوام سے وفادار نہیں ہیں۔ ان کی وفاداریاں اس ملک کے ساتھ نہیں کسی اور کے ساتھ ہیں۔ جس وقت وہ عوام پر محبت لٹانے کے دعوے کرتے ہیں وہ عوام کو بدترین دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔