شہر کو شہریوں کے حوالے کرنا ہی حل ہے

191

کراچی کے متعلق پریشان سب ہیں، مریض کی ساری ہسٹری سے بھی واقف ہیں اور مرض کی گہرائی بھی جانتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کوئی بھی ڈاکٹر اس مریض کو مرض کے مطابق دوا دینے کے لیے تیار ہی نہیں۔ کراچی ایک ایسا تڑپتا، سسکتا، کراہتا اور آنسو بہاتا شہر ہے جو شدید بیمار ہونے کے باوجود بھی اتنا دولت مند اور مال دار ہے کہ پورے ملک کے صحت مند اسی کا کھا رہے ہیں۔ ان سب کی روزی اسی مریض کے تڑپنے اور سسکنے کے سبب چل رہی ہے اس لیے نہ تو وہ اس کو مرنے دے رہے ہیں اور نہ ہی مکمل صحتیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کو اگر ایک بہت بڑا اسپتال مان لیا جائے اور یہاں کے سارے لٹیروں، چوروں اور ڈاکوؤں کو ڈاکٹر، باقی بچ جانے والوں کو اسپتال کا عملہ سمجھ لیا جائے تو یہ اسپتال خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر یہ مریض مکمل صحتیاب ہوکر گھر چلا گیا تو پورا اسپتال ایک سونے کی کان سے محروم ہو جائے گا اس لیے 1958 سے کراچی کو پہلے بے شمار امراض کا شکار کیا گیا پھر اسپتال میں داخل کرنے کے بعد اتنے آپریشن کیے کہ اب جسم کا کوئی ایک حصہ بھی ایسا نہیں بچا جہاں سلائی نہیں ہوئی ہو۔ ان تمام سرجریوں کے باوجود اس بات کا مکمل خیال رکھا گیا کہ مریض جاں بحق نہ ہوجائے تاکہ اسے داخل کرنے کی مد میں جو بھاری فیس وصول ہوتی ہے، وہ وصول ہوتی رہے۔ پورے پاکستان کو اگر تشویش ہے تو یہ ہے کہ کہیں مریض جان ہی سے نہ گزر جائے اس لیے ہر بار آپریشن کے کسی بھی نئے تجربے کے بعد ریکوری میں رکھ کر سخت نگرانی کی جاتی ہے اور مختلف مصنوعی طریقہ علاج کا سہارا لیکر اس کی سانسوں کو معمول پر لانے کے بعد آئی سی یو سے گزارتے ہوئے اسپیشل روم میں منتقل کر دیا جاتا ہے لیکن آج تک یہ کبھی نہیں ہوا کہ اسے گھر بھیج دیا جائے۔
کراچی میں کبھی کرفیو در کرفیو لگا کرتا تھا، پھر عوامی کرفیو لگا کر دیکھا گیا کہ شاید مرض دور ہوجائے، پھر مختلف دور حکومتوں میں اس کے چرکے پر چرکے لگائے جاتے رہے، پھر یہ ہوا کہ آج سے 30 سال قبل نیم فوجیوں کے حوالے کر دیا گیا، ابھرنے والی ہر عوامی قوت کو کسی دوسری عوامی قوت کی مدد سے دبایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں اس نے اپنے جسم پر اپنے ہاتھوں ہی زخم پر زخم لگانے شروع کر دیے۔ پھر فیصلہ ہوا کہ سب کو ہی ’’دھبڑ دھس‘‘ کر دیا جائے اور ایسا ہی ہوا اور تیسری عوامی قوت کو اس کے سر پر سوار کر دیا گیا لیکن معلوم ہوا کہ وہ سب بھی ڈھول کا پول ہی ہیں۔ آج کل صرف وفاق ہی کراچی کی صحت پر پریشان نہیں، وردی والے ڈاکٹر اور عدالتیں بھی نہایت فکر مند ہیں اس لیے کہ مسلسل بیمار رہنے کی وجہ سے مریض کی جمع پونجی نہایت قلیل ہو رہ گئی ہے اور اگر اسے جلد صحتیابی نہیں ملی تو ’’اسپتالِ پاکستان‘‘ کا بھٹہ ہی بیٹھ جائے گا اور یوں پورا پاکستان ہی دھبڑ دھس ہو کر رہ جائے گا اس لیے سب مل کر مختلف آپشنوں پر غورو فکر کر رہے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جتنے بھی سویلین جغادری ڈاکٹرز ہیں وہ سب کے سب ایک فیصلے پر پہنچ جانے کے باوجود با وردی ڈاکٹروں کی جانب منہ کر کے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن آج کل وہ خود چکرآئے ہوئے ہیں اس لیے ان کی جانب سے جواب نہ پا کر سب کے چہرے تھکے ہوئے گھوڑوں کی گردنوں کی طرح لٹک جاتے ہیں۔
خبروں میں بڑے زور وشور سے بیان کیا جا رہا ہے کہ عدالت عظمیٰ ’’مریض‘‘ کی صحت کی جانب سے بہت فکر مند ہے اور نہ جانے کتنے قانونی پہلوؤں پر غور و فکر کر رہی ہے تاکہ کراچی کو بیرونی دباؤ کے مطابق چمکتا دمکتا شہر بنایا جا سکے۔ ٹھیک ہے، کراچی پر ہر فرد و ادارے کا حق ہے اس لیے ہم کیا عرض کر سکتے ہیں لیکن اتنا عرض ضرور کر سکتے ہیں کہ جب تک یہ شہر کسی حد تک ’’شہریوں‘‘ کے پاس تھا نہ صوبائی حکومت کو قصور وار قرار دینے کی کسی کو جرات تھی، نہ وفاق کو اور نہ ہی عدالتوں کو۔ جب سے یہاں کے شہریوں کی ماؤں بہنوں اور بیٹا بیٹیوں کی چٹنی بنا کر ان کو عوامی مسائل سے کنارہ کشی پر مجبور کر دیا گیا، کوٹا سسٹم کے ذریعے ان کا معاشی قتل عام کیا گیا، اور بلدیاتی اختیارات کا جنازہ نکال دیا گیا تو اب صوبائی حکومت ہو، وفاق ہو یا عدالتیں، سب کے سب سوائے ذلت کے اور کچھ حاصل نہیں کر پا رہیں، حتیٰ کہ خود عسکری شعبے کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی صف میں آ کھڑا ہوا ہے۔ رسوائی کا عالم یہ ہوگیا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت انہیں حکم دے رہی ہے کہ وہ مقرہ وقت میں اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔
کراچی کو کراچی بنا کے لیے بہر صورت کراچی کو کراچی والوں کے حوالے کرنا ہوگا۔ جس شہر کے چور، ڈاکو اور پولیس تک غیرمقامی ہو، دفتروں، اسپتالوں، کارخانوں، بازاروں میں کھڑے ٹھیلے والے، اساتذہ، چوکیدار، یہاں تک کے اسپتالوں کے ڈاکٹر اور ان کا عملہ تک مقامی نہیں ہو، جس شہر پر اس کے شہریوں پر ملازمتوں کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے تو پھر عدالت عظمیٰ، وفاق، صوبہ اور عسکری قوتیں کیا، کوئی کچھ بھی کر گزرے، اس شہر کی قسمت کسی صورت نہیں بدل سکے گی۔ اگر اب بھی کوئی اور تجربہ باقی رہ گیا ہے تو وہ بھی کر گزریں، مریض تو شاید گزر جائے لیکن کوئی اس فریب میں مبتلا ہے کہ مریض ٹھیک ہو جائے گا تو یہ اس کی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔