امارات اور اسرائیل معاہدہ فلسطینی کاز سے غداری قرار

220

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس  نے یو اے ای معاہدہ اور اسرائیل معاہدہ  کو مسجد اقصیٰ اور فلسطینی کاز سے غداری قرار دیتے ہوئے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کردیا۔

فلسطینی صدر نے معاہد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ  امریکی صدر کہتے ہیں کہ برف پگھل گئی اصل میں تو اعتماد ختم ہوگیا ہے  یو اے ای معاہدہ اور اسرائیل معاہدہ  کو مسجد اقصیٰ اور فلسطینی کاز سے غداری ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس  نے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ معاہدے کو اس فورم پر زیر بحث لایا جائے اور آئندہ کی حکمت عملی بنائی جائے۔

دوسری جانب فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے معاہدے پر ردعمل میں کہا ہے کہ یو اے ای نے اسرائیل سے معاہدہ کر کے فلسطینیوں کی پیِٹ میں چھرا گھونپا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے لیے معاہدہ ہوا ہے۔معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات قائم ہوجائیں گے بلکہ اسرائیل نے جواب میں کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے بہت بڑے رقبے پر اسرائیل کے توسیعی عمل کو بھی روک دے گا۔

اس بات کا اعلان خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کیا ہے اور اس موقع پر صدر ٹرمپ، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اس تاریخی معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل میں پیشرفت ہوگی۔

واضح رہے کہ اس معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بطورِ خاص اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے بڑے مقامات کو اسرائیل میں شامل کرنے کے توسیعی منصوبے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ اس اقدام کا وعدہ بنجمن نیتن یاہو نے الیکشن مہم کے دوران کیا تھا۔اس معاہدے کی تفصیلات فون کال پر طے ہوئی اور ٹیلی کانفرنس کے دوران ہی معاہدے کے منظوری دی گئی۔

 جمعرات کو منعقد کی گئی ٹیلی کانفرنس میں ٹرمپ ، شیخ محمد بن زاید اور بنجمن نتن یاہو نے شرکت کی۔بعض افسران نے معاہدے کو ’معاہدہِ ابراہم‘ (ابراہم اکارڈ) کا نام دیا گیا ہے جو شروع سے ہی صدرٹرمپ کے سفارتی اہداف میں شامل رہا ہے تاہم اس معاہدے پر پہنچنے سے قبل فریقین کے درمیان طویل مذاکرات اور گفت وشنید جاری تھی۔ اس میں صدر ٹرمپ کے مشیر خاص جیرڈ کرشنر، امریکا میں اسرائیلی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمان اور مشرقِ وسطیٰ کے سفیر اوی برکووچ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔