خوش لباس قائد ۔شخصیت و کردار

93

خواجہ رضی حیدر

قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر پاک و ہند کی ماضی قریب کی تاریخ کے نہایت خوش پوشاک اور نفیس انسان تھے۔ جہاں مورخین نے ان کی سیاسی بصیرت کو موضوع بنایاہے وہاں جزوی طور پر اس امر کا اعتراف بھی کیا ہے کہ قائداعظم کی خوش پوشاکی بھی ان کی شخصیت کا ایسا جزو تھی جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہاں ہم نے قائد اعظم کی خوش پوشاکی اور لباس کے حوالے سے ان کی طبیعت کی نفاست کا ایک سرسری جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
لباس کے حوالے سے قائد اعظم کی نفاست پسندی اور خوش پوشاکی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ قائد اعظم محمدعلی جناح دسمبر1876میں کراچی میں پیدا ہو ئے ۔یہ شہر اس وقت نہ صرف بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا بلکہ ساحلی شہر ہونے کی بناء پر تجارتی مرکز بھی تھا۔ لہٰذا یہاں نہ صرف مختلف اقوام کے افراد آباد تھے بلکہ تجارتی مقاصد کے لیے اندرون و بیرون ہند سے بھی لوگ آتے رہتے تھے۔ انگریزوں کی بھی ایک بڑی تعداد یہاں آباد تھی۔ چناں چہ یہاں کی مقامی آبادی کے وہ افراد جو تجارت سے وابستہ تھے، انگریزوں سے آشنا ہونے کے ساتھ انگریزی لباس سے بھی کسی حد تک مانوس ہوگئے تھے۔
علاوہ ازیں کراچی کے ایک حصہ میں ’’اینگلو انڈینز‘‘ کی بھی ایک بڑی تعداد مقیم تھی جن کی زبان اور لباس تقریباً وہی تھا جو انگریزوں کا تھا۔ اس لیے خصوصاً تجارت پیشہ اور جدید تعلیم یافتہ افراد کے لباس میں کوٹ، پتلون شامل تھی۔ البتہ سلطنت عثمانیہ، ترکی سے مسلمانان ہند کی مذہبی ہم آہنگی کی بنا پر مسلمانوں کے لباس میں ترکی ٹوپی بھی شامل ہوا کرتی تھی، جسے وہ ہر قسم کے لباس کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ قائداعظم کے والد جناح پونجا چوںکہ تجارت پیشہ تھے اور انگریزوں سے قریبی رابطے میں رہتے تھے، اس لیے وہ نہ صرف انگریزی زبان سے آشنا تھے بلکہ ان کا لباس بھی کوٹ، پتلون اور ٹائی پر مشتمل تھا۔ کراچی کے اس ماحول میں قائد اعظم بھی نہ صرف بچپن ہی سے اس لباس سے آشنا تھے، بلکہ اپنے زمانہ طالب علمی میں یہی لباس زیب تن کیا کرتے تھے۔
1892 میں محمد علی جناح انگلستان چلے گئے، جہاں انہیں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تربیت حاصل کرنا تھی، لیکن انہوں نے لنکزاِن میں داخلہ لے لیا اور بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی۔ لندن میں قیام کے دوران انہیں کوٹ، پتلون اور ٹائی کا مستقل استعمال کرنا پڑا، جس کی بنا پر اس لباس کی تہذیبی اور ثقافتی روایت سے بھی وہ آشنا ہوگئے۔ 1896 میں لندن سے واپس آکر محمد علی جناح نے بمبئی میں سکونت اختیار کی اوربہ طور پیشہ، وکالت کا آغاز کیا۔ بمبئی میں پارسیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کی آبادی نہ صرف با اثر اور متمول تھی، بلکہ انگریزوں سے اپنے قریبی روابط کی بنا پر انگریزی ثقافت کو اختیار کرنا زیادہ معیوب تصور نہیں کرتی تھی۔ بہ حیثیت وکیل محمد علی جناح کا واسطہ بمبئی کی آبادی کے اسی طبقے سے تھا، اس لیے انہیں لندن سے ہندوستان واپس آکر لباس کے انتخاب کے سلسلے میں کسی تردد کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ اپنی عدالتی و سماجی ضرورتوں کے پیش نظر کوٹ، پتلون، ٹائی اور فلیٹ ہیٹ ہی استعمال کرتے رہے۔
نتیجتاً 1906میں وہ سیاسی زندگی میں داخل ہوئے تو یہ لباس آہستہ آہستہ ان کی شخصیت سے بڑی حد تک مشروط ہوگیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی لباس کےضمن میں نفاست پسندی اور جامہ زیبی ایسی مشہور ہوئی کہ لارڈ چمسفورڈ اور لارڈ ہارڈنگ جیسے ہندوستان کے وائسرائے بھی ان کی خوش لباسی سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے متعدد باراس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ہندوستان میں انہوں نے جناح کی طرح نفاست پسند اور جامہ زیب کوئی دوسرا آدمی نہیں دیکھا۔ لارڈ ریڈنگ کی اہلیہ نے تو ایک خط میں جناح کے بارے میں اپنی والدہ کو لکھا: ’’بمبئی کے جواں سال وکیل جناح کو عموماً خوش لباسی اور جامہ زیبی میں لائیڈ جارج تصور کیا جاتاہے‘‘۔
آل انڈیا مسلم لیگ سے1913میں وابستہ ہونے کے بعد بھی محمد علی جناح انگریزی لباس استعمال کرتے رہے۔ ویسے بھی یہ لباس اس زمانے میں جدید تعلیم اور روشن خیالی کی علامت کے طورپر ظاہر ہوا تھا،اس لیے تقریباً تمام مسلمان راہ نما بلاتکلف یہی لباس استعمال کرتے تھے۔ یہاں دل چسپ امر یہ بھی ہے کہ انیسویں کے اواخر نصف اور بیسویں صدی کے اوائل میں عام طور پر وکالت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ناموں کے ساتھ ’’مولانا‘‘ اور مولوی کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ عام طور پر یہ تصور بھی کیا جاتا تھا کہ جو شخص مسلمانوں کی راہ نمائی کا فریضہ انجام دے گا وہ ’’مولوی‘‘ یا ’’مولانا‘‘ ہوگا۔
اسی عمومی تاثر کے تحت محمد علی جناح کو متعدد بار مولانا لکھا گیا۔ اس سلسلے میں ایک دل چسپ واقعہ آل انڈیا مسلم لیگ کے آفس سیکریٹری سید شمس الحسن نے اپنی کتاب Plain Mr. Jinnah میں درج کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1916میں پہلی مرتبہ آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس بہ یک وقت ایک ہی مقام یعنی لکھنؤ میں منعقد ہوئے۔ پروگرام کے مطابق ان دونوں جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بھی ہونا تھا، جس کی صدارت محمد علی جناح کو کرنا تھی۔ اس اجلاس کو کام یاب بنانےاور اس کی تشہیر کے لیے مسلم لیگ کے آفس نےجو پوسٹر شایع کیے تھے ان میں محمد علی جناح کے نام کے آگے ’’مولانا‘‘ کا خطاب استعمال کیا گیا تھا۔جب کہ قائد اعظم ہلکے بادامی رنگ کا نہایت نفیس سوٹ زیب تن کیے ہوئے تھے جس میں وہ ’’مولانا‘‘ کے بجائے یورپ کے لارڈ نظر آرہےتھے۔ دورانِ استقبال کان پور کے اسٹیشن پر یہ بات مسلم لیگ کے تقریباً تمام راہ نماؤں نے محسوس کی۔ چناں چہ مسلم لیگ کے ایک راہ نما سید وزیر حسن نے قائد اعظم کو تجویز پیش کی کہ وہ شیروانی پہن کر اجلاس میں شرکت کریں تاکہ پوسٹر میں لکھے ہوئے خطاب ’’مولانا‘‘ کی وقعت رہ جائے۔
قائداعظم چوں کہ صاف گو اور اصولی انسان تھے لہٰذا انہوں نے کوئی ایسا لباس زیب تن کرنے سے انکار کردیا جس کے روایتی آداب سے وہ واقف نہیں تھے۔ قائداعظم کے انکار سے سب ہی شش وپنج میں پڑ گئے، لہٰذا فوری طور پر یہ تجویز پیش کی گئی کہ وہ سوٹ کے ساتھ ٹوپی زیب سر کرکے اجلاس میں شریک ہوں۔ قائداعظم نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی، چناںچہ فوری طور پر کان پور کے مچھلی بازار کی ایک دکان سے ایک درجن سے زاید مختلف اقسام کی ٹوپیاں لائی گئیں۔ان میں سے ایک ٹوپی،جو ترکی ٹوپی تھی، قائداعظم نے منتخب کرکے سرپر رکھ لی۔یہ پہلا موقع تھا کہ محمد علی جناح نے کسی عوامی اجتماع میں ایسی ٹوپی پہن کر شرکت کی جو اس زمانے میں مسلم تشخص کی علامت تصور کی جاتی تھی۔
صوبہ سندھ کے نام ور مسلم لیگی راہ نما، محمد ایوب کھوڑو نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اکتوبر 1928 میں مجھے پہلی مرتبہ محمد علی جناح سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جب وہ پیر صبغت اﷲ شاہ پگارا (پیر مردان شاہ پگارا کے والد)کے مقدمے میں خصوصی مجسٹریٹ کی عدالت، واقع سکھر، میں بہ حیثیت وکیلِ صفائی پیش ہونے کے لیے آئے تھے۔
اس دوران ان کا قیام سرکٹ ہاؤس سکھر میں تھا۔ مقدمے کی کارروائی سے جب وہ فارغ ہوئے تو سر عبداﷲ ہارون نے،جو کراچی سے سکھر آگئے تھے، خیرپور ہاؤس میں جناح کے اعزاز میں ظہرانہ ترتیب دیا جس میں سکھر کے معزز شہریوں کی بڑی تعداد بھی مدعو تھی۔ اس ظہرانے میں محمد علی جناح بہت جاذبِ نظر سیاہ اچکن، چوڑی دار سفید پاجامہ اورپمپ شوز، جس کا اس زمانے میں بہت رواج تھا، پہن کر شریک ہوئے تھے۔
1934 میں مسلم لیگ کی از سر نو صدارت قبول کرنے کے بعد ایک عرصے تک قائداعظم عموماً اچکن کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ ہی استعمال کرتے تھے۔ شاید اس کا ایک سبب یہ بھی ہو کہ کاٹھیاواڑ، خصوصاً جونا گڑھ، میں اس طرز کے پاجامے، اچکن کے ساتھ پہنے جاتے تھے اور یہ لباس ایک اعتبار سے قائد اعظم کا آبائی لباس تھا۔ اکتوبر1937میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس، منعقدہ لکھنؤ، میں بھی قائداعظم نے اسی لباس میں شرکت کی تھی۔ مرزا ابوالحسن اصفہانی نے لکھا ہے کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے قائداعظم جب لکھنؤ پہنچے تو آپ کا قیام راجا صاحب محمود آباد کی کوٹھی، محمود آباد ہاؤس میں تھا۔ پہلے دن کے اجلاس سے ایک گھنٹہ قبل نواب محمد اسماعیل خان بھی وہاں پہنچ گئے۔
وہ حسب معمول بالکل بے عیب لباس میں تھے اور ایک سیاہ سموری ٹوپی زیب سر کیے ہوئے تھے۔ قائداعظم نواب صاحب کی اس ٹوپی کی طرف متوجہ ہوئے اور نواب صاحب سے فرمایا:’’کیا آپ اسے تھوڑی دیر کے لیے مجھے دے سکتے ہیں‘‘۔ نواب صاحب نے ٹوپی اتار کر قائداعظم کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے زیب سر کرکے دیکھیے۔ قائداعظم نے اسے پہن لیا اور جب سب افراد نے تعریف کی تو ساتھ کے کمرے میں چلے گئے تاکہ آئینے میں دیکھ کر اس کی موزونیت کا اندازہ لگاسکیں۔ جب دو منٹ بعد قائداعظم برآمدے میں واپس آئے تو سب کی خواہش پر انہوں نے یہی ٹوپی پہن کر اجلاس میں شرکت کرنےکا فیصلہ کرلیا۔ مرزا ابوالحسن اصفہانی نے لکھا ہے: ’’اجلاس میں قا ئد اعظم کو ٹوپی اور اچکن میں دیکھ کر عوام کے چہرے کھل اٹھے اور انہوں نے ایسے فلک شگاف نعرے بلند کیے جن کی گونج آج بھی مجھے سنائی دیتی ہے‘‘۔
قائداعظم کے پرائیویٹ سیکریٹری مطلوب الحسن سید کا بیان ہے کہ قائد اعظم1937کے بعد مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے طالب علموں سے بہت زیادہ مانوس ہوگئے تھے اور اکثر علی گڑھ جاتے رہتے تھے۔ ابتدامیں آپ نے علی گڑھ کٹ شیروانی پہنی۔یہ شیروانیاں علی گڑھ ہی کےایک درزی کے پاس سے سِل کر آتی تھیں۔ وہ انگریزی لباس میں ہوتے یا شیروانی میں، ان کی شخصیت ہر لباس میں پروقار اور جاذب نظر ہوتی تھی۔ آپ بیش تر ریشم کا یا سوتی لباس زیب تن کرتے تھے۔ آپ کے لباس کا ستھرا پن دراصل آپ کی باطنی صفائی کا بھی آئینہ دار تھا۔ بیگم جہاں آراء شاہ نواز نے لکھا ہے کہ قائداعظم نہایت بے عیب لباس زیب تن کرتے تھے۔
سر اکبر حیدری کی صاحب زادی اور جسٹس بدرالدین طیب جی کے صاحبزادے حاتم بھائی طیب جی کی اہلیہ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا:’’لباس کے بارے میں تو بڑے بڑے خوش لباسوں نے یہ کہا کہ جس سلیقے سے قائد اعظم لباس زیب تن کرتے تھے کسی اور کو نہیں دیکھا۔ نہایت صاف شفاف اور بے شکن لباس پہنتے ۔ اگر کبھی سوٹ کے بجائے Combination پہنتے تو اس کا بھی انتخاب نہایت احتیاط اور سلیقےسے کرتے تھے۔ غرض،ہر اعتبار و معیار سے قائداعظم انتہائی خوش لباس آدمی تھے‘‘۔
قائد اعظم کے گورنر جنرل بننے کے بعد،ان کے اے ڈی سی کی حیثیت سےخدمات انجام دینے والے ، گروپ کیپٹن عطاربانی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ قائداعظم ہر لباس میں خوش نما اور دیدہ زیب لگتے تھے۔ ایک دن آپ کے لیے ایک ٹاٹ کی طرح کا سفید کپڑا خریدا گیا جو دیکھنے میں بالکل معمولی لگتا تھا، ہم لوگوں نے سوچا اتنی بڑی شخصیت اور یہ کپڑا، مگر جب پہلی مرتبہ اس کپڑے کا سوٹ قائداعظم نے پہنا تو میں بیان نہیں کرسکتا کہ وہ کپڑا کتنا خوب صورت لگ رہا تھا۔
ایک انگریز صحافی اور ’’Indian Summar‘‘ نامی کتاب کے مصنف جیمز کیمرون نے قائداعظم کی نفاست پسندی کا ذاتی مشاہدہ اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ 1945 میں محمد علی جناح کا انٹرویو کرنے گیا۔ جناح نہایت شان دار سوٹ میں ملبوس تھے۔ سوٹ کی سلائی اور ایک ایک ٹانکے سے نفاست عیاں تھی۔ استری اس انداز سے ہوئی تھی کہ سوٹ کی ہر کریز تلوار کی طرح دھارلیے ہوئے تھے۔ اعلیٰ قسم کے لینن کے سوٹ میں ان کی آہنی شخصیت بڑی متاثرکن لگ رہی تھی۔گفتگو کاآغازہوئے ابھی شاید آدھا گھنٹہ ہوا تھا کہ اچانک قائداعظم خاموش ہوگئے اور ان کا چہرہ زرد ہوگیا۔
انہوں نے خود کلامی کے انداز میں معذرت چاہی اور اٹھ کر اندر گھر میں چلے گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ شاید ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے۔میں ابھی گومگوں کی کیفیت میں تھا کہ وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے اور پھر خود کلامی کے انداز میں معذرت کرتے ہوئے میرے مقابل بیٹھ گئے۔ انہوں نے میز پر رکھے ہوئے اپنے نوٹس اٹھائے اور پھر کہنے لگے:’’میں معذرت خواہ ہوں، اس تعطل کے لیے۔ میرے ملازم نے بے وقوفوں کی طرح میری قمیص کی آستینوں میں غلط کف لنکس لگادیے تھے۔بہ ہر حال کوئی بات نہیں، اب درست ہوگئے ہیں‘‘۔
پروفیسر شریف المجاہد نے لکھا ہے : ’’1937 کے بعد جناح نے مسلم لیگ کے اجلاسوں، کانفرنسوں اور عوامی اجتماعات میں اچکن اور تنگ پاجامہ پہن کر شرکت کرنا شروع کردی تھی، لیکن 1943 کے بعد پنجاب میں خضر حیات کے اعلان بغاوت سے انہوں نے اپنی تمام تر توجہ پنجاب اور سرحد کی طرف مبذول کردی۔ اسی دور میں انہوں نے نیچی شیروانی اور پنجابی شلوار کا استعمال شروع کیا۔ شاید اس خیال سے کہ وہ ان صوبوں کے عوام سے بہ اعتبار لباس بھی مماثلت اور قربت اختیار کرسکیں۔ اگست 1947 کے بعد پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے آپ نے آزادی کی تقریبات میں شیروانی، شلوار اور جناح کیپ پہن کر ہی شرکت کی۔‘‘
قائداعظم پیپرز میں ایک ایسا خط بھی موجود ہے جس میں قائداعظم نے مسلمانوں کے لباس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ بانکی پور، پٹنہ کے ایک شخص سمیع احمد کے خط کے جواب میں انہوں نے سری نگر، کشمیر سے 29مئی 1944 کو اپنے خط میں لکھا:’’ ہندوستان میں ایک لباس کا کوئی تصور نہیں ہے، حتیٰ کہ مسلمانوں کے ہاں بھی بلاشبہ لباس اپنی اہمیت رکھتا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ اسےبہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے لیے ایک ہی لباس ہو تو میرا خیال ہے کہ وہ لباس قومی علامت کے طور پر ظاہر ہوگا‘‘۔
قائد کی زندگی کے پانچ ادوار
قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی پانچ ادوار میں منقسم ہے۔ بیس سالہ پہلا دور 1876 سے1896 تک کا ہے، جب انہوں نے تعلیم پائی اور انگلستان میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ دس سال کا دوسرا دور 1896 سے لے کر 1906 تک کا ہے، جب انہوں نے مکمل یک سوئی اور محنت سے اپنی وکالت کا لوہا منوایا اور ان کی شہرت دور دور تک پہنچی۔ پھر دس سالہ تیسرا دور 1906 سے1916 تک کا ہے، جب وہ زیادہ تر کانگریس سے وابستہ رہے۔20سال پر محیط چوتھا دور1916سے 1936 تک کاہے،جب وہ کانگریس اور لیگ اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کرتے رہے۔
تقریباً گیارہ سالہ پانچواں دور1937سے لے کر 1948 تک کا ہے، جب انہوں نے وکالت چھوڑ کر تمام تر توجہ مسلمانانِ ہند کی قومی تنظیم اور پاکستان کے حصول و قیام کی جدوجہد پر صرف کیے۔ 15 اگست 1947 کو قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے اور اس کے تقریباً ایک سال بعد 71 سال 8 ماہ اور 18 دن کی عمر پاکر 11 ستمبر1948 کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ قائداعظم کی زندگی ہمیشہ کسی نہ کسی نصب العین کے حصول کے لیے مصروف کار رہی۔
قائداعظم نے چالیس برس (1896 سے1936 تک) وکالت کی اور ایسی شہرت اور نام وری پائی کہ پورے ہندوستان میں کسی نے اس وقت تک حاصل نہیں کی تھی۔ 1936-37 میں انہیں اندازہ ہونے لگا تھاکہ ان کی قوم انتہائی خطرات میں گھرتی جارہی ہے۔ 21 جون 1937 کو علامہ اقبال نے ان سے کہا: ’’ہندوستان میں صرف آپ ہی ایک ایسے مسلمان لیڈر ہوسکتے ہیں جو اپنی قوم کو اس طوفان سے، جو ان پر آنے والا ہے، بچاسکتا ہے۔ اس لیے قوم کو حق ہے کہ وہ آپ سے رہنمائی کی امید رکھے۔‘‘ جناح اس سے تقریباً چار سال قبل، جب مسلمان راہ نماوں نے انہیں لندن میں تار ارسال کیا تھا، قوم کے اس حق اور اپنے فرض کا بخوبی اندازہ کرچکے تھے۔
کیریکٹرسرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کا انوکھا انداز
قائد اعظم محمد علی جناح کو بمبئی میں قانون کی پریکٹس شروع کرنے کے لیے کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کی ضرورت تھی ۔ شہر میں کوئی مجسٹریٹ واقف نہیں تھا، چناں چہ ایک روز صبح صبح وہ ایک انگریز مجسٹریٹ کی کوٹھی پر گئے اور اپنے نام، ایم اے جناح، بار ایٹ لا کی چِٹ اندر بھیج دی- مجسٹریٹ نے نام سے متاثر ہو کر انہیں اندر بلا لیا-
قائد اعظم نےاندر جاتے ہی سوال کیا:’’میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘مجسٹریٹ نے جواب دیا:مجھے آپ بےحد شریف آدمی معلوم ہوتے ہیں‘‘۔ اس پر قائد اعظم نے ایک کاغذ آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’’جناب عالی، یہ الفاظ اس پر لکھ دیجیے۔ دراصل مجھے قانون کی پریکٹس شروع کرنے کے لیے کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے‘‘۔
مسٹر جناح اور قائد اعظم ۔ایک جسم ،دو انسان
مسٹر جناح اورقائد اعظم ،ایک جسم میں دو انسان کی مانند تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کی تشکیل اور اس کےلیے اصول و قوانین وضح کرنا تھا جس کی وجہ سے ان کے اندر کا انسان عام طور پر باہر نہیں نکل پاتا تھا ۔
ممتاز حسن نے، جو قائد اعظم کے بہت قریب رہ کر ان کی مصروفیات کا مطالعہ بھی کرتے تھے، قائد اعظم اور مسٹر جناح کے درمیان ایک بڑا فرق محسوس کیا تھا ۔
ایک انسان کے دو روپ دیکھ کر وہ لکھتے ہیں:’’اکثر اوقات قائداعظم کی شخصیت، محمد علی جناح کی ذاتی زندگی پر چھائی رہتی تھی۔ اس ایک ہی شخص میں موجود دو شخصیتوں کا احساس جس قدر مجھے 1948ءکی آخری ملاقات کے دوران ہوا ، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔قائد نے مجھے ایک سرکاری کام کےلیےبلایاتھا۔جب تک سرکاری کاغذات ان کے سامنے رہے، انہوں نے مجھ سے محض اسی معاملے پر گفتگو کی۔ میری تجویز پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ایک سوال کے بعد دوسرا ، دوسرے کے بعد تیسرا ، غرض یہ کہ سوالات کی بو چھاڑ کردی۔ آخر جب پورے طور پر مطمئن ہوگئے تو کاغذات پر دست خط فرمائے‘‘۔
’’پھر قائد کے چہرے پر فی الفور تبسم نمودار ہوا اور انہوں نے اس ملاقات میں پہلی بار میرا مزاج پوچھا۔ پھر ہنس ہنس کر باتیں کیں اور بڑی شفقت سے رخصت کیا ‘‘۔
’’مجھے محسوس ہوا کہ میں نے ایک ہی ملاقات میں قائداعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان کو بھی دیکھا اور ان سے بہت ہی مختلف ایک اور انسان یعنی مسٹر محمد علی جناح کو بھی ، جو اپنے جونیئرز اور پرانے مداحوں سے اس قدر محبت سے پیش آتا تھا‘‘۔
’’ البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی ذاتی زندگی ان کی سیاسی زندگی میں چھپ گئی تھی اور محمد علی جناح مشکل ہی سے قائداعظم کے اندر سے باہر آتے تھے۔ شدید مصروفیت ، صحت کی خرابی ، کام کے دباؤ اور ایک بہت بڑی ذمے داری کہ انہیں جلد سے جلد اپنا مشن، یعنی مسلمانوں کے لیے الگ وطن حاصل کرنا ہے ، انہیں سیروتفریح ، ہنسی مذاق یا زندگی کے لطیف پہلوؤں میں دل چسپی نہیں لینے دیتی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قائداعظم نے ایک بڑے مقصد کے لیے اپنی ہر خوشی قربان کردی تھی‘‘۔