یوم آزادی‘ مبارک باد مگر کس قیمت پر میاں منیر احمد

71

 

 

۱۴ اگست1947 سے14 اگست2020 کا سفر تلخ بھی اور شیریں بھی‘ آج پوری قوم74واں یوم آزادی منارہی ہے‘ یوم آزادی منانا ہمارا حق ہے‘ مگر یہ ہمیں ہماری ذمے داریوں سے فرار کا راستہ نہیں دکھاتا‘ آج یوم آزادی ہے‘ سڑکوں پر ہلہ گلہ ہوگا‘ پٹاخے چھوڑے جائیں گے‘ خوشی کا یہ منظر سب کو مبارک مگر اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ آج کوئی فیملی آزادی کے ساتھ سڑکوں پر گھوم پھر نہیں سکے گی‘ گھروں کی چھتوں پر قومی پرچم لہرایا جارہا ہے مگر علاقائیت اور لسانی تعصبات کے پرچم کیوں نہیں اتارے جارہے‘ برصغیر کے مسلمانوں نے مسلم لیگ کی قیادت میں یہ وطن حاصل کیا‘ ہندوستان کی تقسیم کے بعد یہ مسلم لیگ کہاں ہے؟ مسلم لیگ نے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں امن ہوگا‘ انصاف ہوگا‘ سماجی تحفظ ہوگا‘ اور روزگار ملے گا‘ ہر کوئی اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق پائے گا‘ یہ مسلم لیگ1956 تک تو ملک کا آئین ہی نہیں بناسکی‘ یہی مسلم لیگ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی موت کی وجوہات اور لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات ہی نہیں کر سکی‘ یہی مسلم لیگ دھڑوں میں بٹ کر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف ہی صدارتی الیکشن میں کھڑی ہوگئی‘ جب ملک ٹوٹا تو اس وقت ملک میں عوامی لیگ اور مسلم لیگ (کنونشن)‘ اور مسلم لیگ(کونسل) کے سیاسی جھگڑے تھے‘ قیام پاکستان کے بعد 41سال تک مسلم لیگ غیر فعال رہی‘ اور حصوں میں بٹی رہی‘ آج بھی متحدہ مسلم لیگ کے لیے کوشش جاری ہے مگر مسلم لیگ(ن) مسلم لیگ(ج) سے لے کر ہر دھڑا یہ سمجھتا ہے کہ وہی اصل مسلم لیگ ہے‘ مسلم لیگ تقسیم ہوئی تو ملک میں دیگر جماعتوں کے قیام کی راہ ہموار ہوئی‘ پہلے پیپلزپارٹی قائم ہوئی‘ پھر تحریک انصاف کی تشکیل ہوئی‘ دونوں جماعتوں کو افرادی قوت مسلم لیگ نے ہی فراہم کی‘ آج ہمیں ان تمام سیاسی جماعتوں سے بھی سوا ل کرنا جو اقتدار میں رہی ہیں کہ وہ ملک میں ہر شہری کے لیے انصاف کا فوری سستا نظام کیوں نہیں لاسکیں؟ وہ ملک کو اندرونی بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنے میں کیوں ناکام ہوئی ہیں؟ ان کے اقتدار کے باوجود ملک میں لسانیت کیوں ابھری‘ علاقائیت کیوں پروان چڑھی‘ نظام تعلیم کیوں یکساں نہیں ہوسکا‘ آخر کیا وجہ رہی کہ ہنری کسنجر نے صاحب زادہ یعقوب علی خان سے عمران خان سے متعلق کہا کہ وہ ہمارا بوائے ہے‘ صدر بش نے کہا کہ نظام تعلیم بدل دو اور ہم نے بدل دیا؟ پاکستان کی خاطر تکلیفیں برداشت کرنے والے ڈھاکا میں پھانسی پاگئے اور ہم خاموش رہے‘ جی ہاں یہ محض سوال نہیں بلکہ تاریخ ہے‘ اور تاریخ کبھی مسخ نہیں ہوتی‘ یہ رخ بدلتی ہے مگر اپنا وجود نہیں ختم کرتی‘ آج ایک بار پھر ہم دوراہے پر کھڑے ہیں‘ ہمیں کشمیر میں بھارت کے 5اگست کے ڈھائے جانے والے مظالم اور سانحے کا سامنا ہے‘ دسمبر1971‘ ہماری کمر پر تازیانے برسا رہا ہے‘ اس کے باوجود ہم یہ طے ہی نہیں کرسکے کہ سقوط ڈھاکا کیوں ہوا؟ علاقائیت اور لسانیت کے سامنے عدل‘ انصاف روزگار اور سماجی انصاف رکھ کر ہمیں مرہم کا بندوبست کرنا تھا مگر ہم نے کہا کہ گولی وہاں سے آئے جہاں پتہ بھی نہیں ہوگا‘ یہ کس نے کہا تھا؟ آج یوم حساب بھی ہے اور جائزہ لیں کہ ووٹ کس ڈبے میں ڈالا جاتا ہے اور نکلتا کس ڈبے سے ہے‘ اگر آج کی بات کریں‘ پاکستان شاید خارجہ پالیسی کی نئی سمت اختیار کرتا ہوا نظرآرہا ہے اور حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان اب اپنی آزادی کے 73سالہ تجربات کی روشنی میں خارجہ پالیسی کو ازسرِ نوتشکیل دینے کی خاطر عالمی دنیا سے روابط اور تعلقات کار بڑھانے کے لیے نئی سوچ اور کھلے ذہن کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے اور روایتی پالیسی سے ہٹ کر خارجہ پالیسی کو قدرے لبرل بنانے کا خواہشمند ہے تاکہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال میں تمام اقوام سے تعلقات میں توازن لایا جاسکے ماضی میں بے رحم تھپیڑے کھا کر ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے کہ خارجہ تعلقات میں کوئی مستقل دوست ہے نہ مستقل دشمن‘ہر ملک خارجہ تعلقات میں صرف اور صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور جب اس کے مفادات کو ذرہ برابر بھی زِک پہنچنے کا اندیشہ ہو وہ تعلقات کو ختم کرنے اور یوٹرن لینے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتا ‘ ماضی میں یہ ہوتا رہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی مسلم کو ایک کانٹا بھی چْبھے تو پاکستانی شہری اپنی استطاعت کے مطابق ردعمل کا اظہار ضرور کرتے ہیں ہمارے سادہ لوح عوام…… سب کچھ مانتے رہے اور ہر سیاسی جماعت کی ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑتے رہے‘ کشمیر پر ہمارا موقف تھا کہ یہ بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے‘ کشمیر کے معاملے پر پرویز مشرف کے فارمولے کو دیکھ لیں؟ یہ کیا ہے؟ بات بڑھتے بڑھتے 5 اگست تک آن پہنچی ہے ہماری خارجہ پالیسی قومی سوچ اور مفادات کے برعکس حکمرانوں کی ذاتی سوچ اور فکر و فلسفہ کی اسیر رہی ہے‘ جس کی وجہ سے ہمارے ہاں حکومت سازی کے عمل میں بیرونی مداخلت بہت زیادہ رہتی ہے‘ ہم کبھی سرد جنگ کے زمانے میں جیتے رہے‘ کبھی امریکا اور روس کے مابین تلخیوں میں رہے‘ کبھی غیر جانب دار تحریک میں رہے‘ کبھی دولت مشترکہ میں رہے اور کبھی نکلے‘ حالات جیسے بھی رہے‘ مسلم دنیا ہماری سفارت کاری میں پہلی ترجیح رہی ہمارے سیاسی و غیر سیاسی حکمرانوں کی آزادی ایک حد تک تو برداشت کی جاتی ہے‘ لیکن جیسے ہی یہ سیاسی اور غیر سیاسی حکمران سرخ لائن کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ڈِیپ سٹیٹ حرکت میں آتی ہے اور ایسے حکمرانوں کو رِنگ سے باہر کردیا جاتا ہے پرویز مشرف کے بعد یہ سوچ تقویت پکڑ چکی ہے کہ اب براہ راست اقتدار نہیں سنبھالا جائے گا بلکہ صرف اپنا اثر رکھا جائے گا جنرل اشفاق پرویز کیانی سے جنرل راحیل شریف اور اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک یہی سوچ نمایاں ہے ایک اور فیصلہ بھی کیا گیا کہ برادر دوست ملکوں کے اختلافات میں کسی ایک ملک کا ساتھ نہیں دیا جائے گا اور خاص طور پر کسی قسم کی عسکری مدد نہیں کی جائے گی۔ ایک اور فیصلہ بھی کیا گیا کہ پراکسیز کو بھی بتدریج سمیٹ دیا جائے گا اور داخلی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کیاجائے گایہ فیصلے جنرل اشفاق پرویز کیانی کے زمانے میں کیے گئے اور اب تک ان پالیسیوں میں تسلسل برقرار ہے۔باقی رہی سہی کسر ایف اے ٹی ایف نے پوری کردی نواز شریف کے زمانے میں یمن کے معاملے میں پہلی بار پالیسی شفٹ دیکھنے کو ملا جب پاکستان نے اپنی افواج یمن بھیجنے سے انکار کردیا اور پارلیمنٹ میں یہ معاملہ زیربحث آیا‘ گوادر پورٹ کو فعال کرنے کی کوشش کی تو تمام برادرملکوں نے اس تعمیر وترقی اور پاکستان کی لائف لائن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسے ایسے رخنے ڈالے کہ خدا کی پناہ‘ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا‘ اس میں کس کاکیا حصہ ہے یہ ہمیں سب معلوم ہے ایسا وقت بھی آیا کہ پاکستان کو براہ راست ایسے ممالک کو تنبیہ کرنا پڑی۔پھر دہشت گردی کے نیٹ ورک بھی پکڑے گئے اور دشمن ملک کے افسر دوست ملکوں کی سرزمین استعمال کرتے بھی پکڑے گئے اب چین کے ساتھ سی پیک کا میگا منصوبہ شروع ہوا‘ جو کسی کے خلاف نہیں ہے‘ لیکن اس کو بھی سبوتاژ کیا جارہا ہے بھارت اس کے لیے پیش پیش ہے مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں شب خون مارا اور 5اگست کا بڑا گھنائونا اقدام کر ڈالا یہ اقدام ایسے ہی نہیں ہوگیا کشمیر ہماری شہ رگ ہے جو 70 سال سے لہو لہان ہے اور اب اس کو ہمارے تن سے مکمل طور پر جدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔لیکن پاکستان اب اپنی لہولہان شہ رگ بچائے گا ہر ملک کی طرح ہمیں بھی اپنی سلامتی عزیز ہے‘ کوئی ہمارے لیے آ کر نہیں لڑے گا شاہ محمود قریشی نے یہی کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے کہیں گے کہ اگر او آئی سی کشمیر پر وزرائے خارجہ کا اجلاس نہیں بلاتی تو پھر خود وزیر اعظم سعودی عرب کی شمولیت یا بغیر شمولیت کے اجلاس بلائیں سفارت کاری اور ڈپلومیسی شیشہ گری جیسا نازک کام ہے۔موجودہ حکومت بیورو کریسی کے حوالے سے ایک انچ کے ہزارویں حصے کے برابر بھی تبدیلی نہیں لا سکی۔مدتوں سے یہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعظم کسی بڑے شکار پر ہاتھ مارتا ہے ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی پوسٹ کے لیے نوکر شاہی کے جن 4 بااثر نمائندوں کے نام الگ کیے گئے ہیں ان میں سرِ فہرست پھر پرنسپل سیکرٹری ہی کا نام ہے حکومت نوکر شاہی کے سامنے بے بس ہے اور بے اختیار‘مزے کی بات یہ ہے کہ جو معاونینِ خصوصی نوکر شاہی میں ریفارم لانے کے نام پر لائے گئے وہ بھی اسی کلاس اور اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیںاچھی حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسے انتظامات کریں کہ جب کبھی بین الاقوامی مارکیٹ میں ایسی صورت حال پید اہو جائے تو اپنے اندرونی وسائل کی وساطت سے بیرونی چیلنجز سے نمٹا جائے اور تیل کی قیمتیں اپنے عوام اور ملکی معیشت کے مفاد میں رکھیں۔