بھارتی ریاست ہندو عورتوں کو حق وراثت دینے پر مجبور

167

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ہندو عورت کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام ہندو خواتین کو والدین کی وراثت کا حق دار قرار دیا ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے والد اس قانون کے نفاذ سے قبل ہی وفات پا چکے ہوں تو اس صورت میں بھی یہی قانون لاگو ہوگا۔ عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ارون مشرا نے فیصلے میں کہا کہ بیٹی ہمیشہ بیٹی رہتی ہے، جب کہ بیٹا اس وقت تک بیٹا رہتا ہے جب تک اس کی شادی نہ ہو جائے۔ باپ زندہ ہو یا نہ ہو، بیٹی تا عمر اپنے باپ کی وراثت کی حق دار ہوگی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مختلف بھارتی عدالتوں نے قانون کی اپنی اپنی تشریح کے مطابق الگ الگ فیصلے سنائے تھے، جس کی وضاحت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے ملک کی تمام عدالتوں کو حکم دیا ہے کہ اس حوالے سے وضاحت ہو چکی ہے، لہٰذا جن مقدمات میں تاخیر ہوئی ہے، انہیں جلد سماعت کرکے آیندہ 6 ماہ کے اندر فیصلہ سنا دیا جائے۔ عدالتی بینچ نے کہا کہ قانون کے تحت بیٹیوں کو حق وراثت ملے گا، لہٰذا انہیں اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ ہندو مذہب میں عورت کو ہمیشہ ہی سے عزت اور حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، جس کی وجہ ان کے ہاں خواتین کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جانا ہے۔