نالے صاف۔ پانی کھڑا ہے

192

چار روز قبل کراچی کے نالے 95 فیصد صاف ہو چکے تھے۔ یہی سرکاری اطلاع تھی لیکن شہر کا حال یہ ہے کہ پورے شہر میں جگہ جگہ پانی بدھ کے روز بھی کھڑا تھا۔ سیوریج کے پانی کے علاوہ برسات کا پانی بھی اس میں شامل ہے۔ کچھ مقامات پر پانی ازخود نشیب کی طرف چلا گیا کہیں چھوٹے موٹے گٹر ٹھیک کر دیے۔ کہیں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ کام کر دیا لیکن وہ 95 فیصد صفائی کہاں گئی۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے تو بدھ کو بھی این ڈی ایم اے اور حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ نالے صاف کریں۔ اس بات کا کیا کیا جائے کہ نالے بارش شروع ہونے کے بعد صاف نہیں کیے جاتے بلکہ یہ کام بارش کے سیزن سے کم ازکم دو ماہ قبل ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اب اگرچہ ادارے حقیقتاً بھی نالے صاف کردیں تو اب تو اصل بارش ختم ہو گئی۔ ایک آدھ اور لہر آئے گی۔ پھر اگلے سال تک بھرپور کچرا پہنچے گا۔ گٹر اور نالے پھر بند ہوں گے، پھر شہر ڈوبے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک شہر پر مافیاز مسلط ہیں۔ اگر پاکستان کے چیف جسٹس نے نوٹس لیا ہے اور وہ اس پر مسلسل توجہ دیں تو مافیاز کا صفایا ممکن ہے جو کراچی بچانے کے لیے اولین شرط ہے۔ اس کے بغیر تو یہ چکر یوں ہی چلتا رہے گا۔وفاق کے اٹارنی جنرل کوئی دور کی کوڑی لائے ہیں کراچی کو بچانے کے آپشن کی بات کر رہے ہیں۔ وفاق اور سندھ میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کی روشنی میں تو وفاقی حکومت کوئی معقول تجویز نہیں لائے گی صرف اقتدار پر قبضے اور اختیارات والی ہی ہوگی۔