حق گوئی اور بے باکی کا روشن ستارہ

302

علم وعمل کا ایک ٹھاٹے مارتا سمندر، قوس وقزح کے تمام رنگوں سے ہم آہنگ، جس کے جسم کی رگوں میں دوڑتا ہوا انقلابی لہو جو عشق مصطفی کی مستی سے سرشار، اللہ کی واحدنیت پر کامل اور پختہ یقین، اللہ کے سوا کسی کی نہ ماننے والا اور اس رب العالمین کی کبریائی کو بلند کرنے اور اس کا پرچار کرنے والا،محبتوں کا سفیر،جس کے دامن میں پھول ہی پھول،امن اخوت بھائی چارگی کے پیغام کو عام کرنے کی جستجو۔ وہ سب کا دوست اور امت کا غم خوار، وہ دن کا زاہد اور رات عابد۔ جس نے ہمیشہ حق اور سچ کا کلمہ بلند کیا، طاغوت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلاخوف وخطر انہیں للکارا اور پوری امت کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔ وہ کبھی کسی طالع آزما کے رعب اور دبدبے میں نہیں آیا۔ علم وعمل کا ایسا سمندر کہ بڑے بڑے عالم دین مفسرین اور مفکرین عش عش کر اٹھتے۔ سیاست کے میدان میں ایک ایسا شہسوار اور ایسا چمکتا ہوا ستارہ جس نے حق کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دیانت داری کو اپنا سلوگن اور پہچان بنائی۔ سید منورحسن جن کو پلٹ کر جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنے میں کمال حاصل تھا وہ اصل معنوں میں اقبال کے شاہین تھے اور ان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ منورحسن نے عمل کی دنیا میں لوگوں کو اپنی جانب راغب کیا اور انہیں دین کا صحیح راستہ دکھایا۔ سید منور حسن سے قربت رکھنے والے افراد بھی بڑے قیمتی ہیں۔ جنہوں نے سید کی صحبت اختیار کی ان کی قربت میں رہ کر ان شخصیت کو قریب سے دیکھا، وہ ان محفلوں سے سیراب ہوکر عمل کی دنیا میں پھیل جاتے اور سیدی افکار کا پرچار کرتے۔ سید منورحسن ایک کامیاب وکامران شخص تھے۔ انہیں اللہ پاک نے بے انتہا خوبیوں سے نوازا تھا وہ لوگوں کے دلوں کو جیتنے کا ہنر جانتے تھے جو بات بھی کرتے دلیل وشواہد کے ساتھ کرتے۔ جذبات میں عقل وشعور کا دامن نہیں چھوڑتے۔ الفاظ کے چنائو میں ان کو جو کمال مہارت حاصل تھی کہ اردو زبان بھی ان پر عش عش کرتی۔ الفاظ کا اتنا ذخیرہ کا عقل حیران رہ جاتی۔ سید کی تقریر ایک سماں باندھ دیتی تھی۔ سیاست، حالات حاضرہ، عالمی سیاست، مذہب، قانون کون سا موضوع ہے جو ان کی دسترس میں نہ تھا۔ سید منورحسن کا عالمی سطح پر بھی بڑا مقام تھا۔ عالمی اسلامی تحریکیں انہیں اپنا مربی اور تحریکی قائد تسلیم کرتی تھیں اور عالمی اسلامی تحریکوں حماس، اخوان المسلمین، حزب المجاہدین اور افغانستان کی تمام جہادی تنظیموں کے علاوہ جہاد کشمیر میں شریک تمام جہادی گروپوں سے ان کے گہرے روابط تھے۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں ان کے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے اور وہ برملا انہیں مجاہد قرار دیتے اور افغان جنگ کو امریکا کی جنگ قرار دیتے تھے۔ عالمی سطح پر طاغوتی قوتوں کے سامنے برسرپیکار سید منور حسن کا اصل ہدف دنیا بھر کے مسلمانوں اسلام دشمن قوتوں کا ظلم اور جبر، ناروا سلوک اور بے انصافی تھا۔ انہوں نے استعماری قوتوںکی چالوں کو اچھی طرح پہچان لیا تھا انہوں نے استعمار کی ہر سازش کو بے نقاب ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے ہر دائرے میں اس کا پیچھا بھی کیا۔
جہاد افغانستان کے علاوہ شام، فلسطین، کشمیر، عراق کے مسئلہ پر انہیں مکمل دسترس حاصل تھی۔ CTBT اور گو امریکا گو مہم نے دشمنوں کے اوسان خطا کر دیے تھے گو کہ ان مہمات پر ناقدین نے ان کا بڑا تمسخر بھی اڑیا لیکن سید اپنے قول وفعل میں سچے اور کھرے ثابت ہوئے انہوں نے ان قوتوں اور ان کے آلہ کاروں کو ناکوں چنے چبوا دیے اور وہ اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے اور حق پر ڈٹے رہے اور ساری دنیا کہ سامنے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مظالم اور ان کی بے انصافیوں کو دلیری کے ساتھ بیان کرتے۔ قومی اتحاد کی تحریک میں سید منور حسن کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی اور کراچی کی گلی کوچوں میں ’’صبح منور شام منور، روشن تیرا نام منور‘‘ کے نعروں کی گونج ابھی تک سنائی دیتی ہے۔ قومی اتحاد کے اس الیکشن میں سید منورحسن پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ کراچی میں جب ایم کیو ایم کا توتی بولتا تھا اور بڑے بڑے سورما جو آج ٹرٹراتے پھر رہے ہیں وہ سب چوہوں کی طرح بلوں میں دبکے پڑے تھے۔ سید منور حسن وہ شخص تھے جو نہ صرف کہ گھن گرج کے ساتھ الطاف حسین کی فسطانیت پر برسے بلکہ وہ تن تنہا ایم کیو ایم کے مرکزنائن زیرو بھی گئے اور الطاف حسین کو متنبہ کیا کہ وہ کراچی دشمنی اور کراچی کے نوجوانوں کی قتل وغارت گری سے باز آجائیں ورنہ وہ جلد نشان عبرت بن جائیں گے۔ سید منورحسن کی اس جرأت مندی ودلیری پر ہر شخص حیران تھا۔ منورحسن الطاف حسین کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے اہل کراچی کو جرأت، بہادری، استقامت اور عزیمت کے ساتھ زندہ رہنے کا راستہ دکھایا۔ آج منور حسن کی ہر بات سچ ثابت ہورہی ہے۔ لسانیت اور نفرت کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست پانی کے بلبلے کی مانند ہوتی ہے جو چند سیکنڈ کے بعد ہی خودبخود ختم ہوجاتی ہیں۔ الطاف حسین کو اہل کراچی نے جس محبت وعقیدت سے نوازا اس کی ماضی میںکوئی نظیر نہیں ملتی لیکن آج الطاف حسین کا نشہ ہرن ہوچکا ہے اور ان کی سیاست بھی ملیا میٹ ہوچکی ہے۔
دسمبر میں مجھے اکیڈمی میں سید صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے منور صاحب سے سوال کیا کہ آج پاکستان کے امور خارجہ ودیگر حکومتی ادارے کھلم کھلا وہی بات دہرا رہے ہیں جو بات کل آپ کہہ رہے تھے اور افغانستان کی جنگ کو آج پاکستان کی حکومت اور فوجی ادارے امریکا کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میری ہی زندگی میں حکمرانوں اور ہمارے اداروں کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اس جنگ کو امریکا کی جنگ قرار دیں۔ میں نے جب ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہا تو ایک کہرام مچ گیا تھا۔ اپنے پرائے سب لعن طعن کرنے لگے۔ ٹی وی اینکرز آستینیںچڑھا چڑھا کر منہ کو آرہے تھے۔ منصورہ میں ایک حساس ادارے کے بڑے ذمے دار نے آکر مجھ سے بات کی اور مجھ سے کہا کہ آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ یہ بیان آپ نے نہیں دیا۔ میں نے انہیں صاف الفاظ میں کہا کہ یہ بیان میں نے ہی دیا ہے اور اس کے ایک ایک حروف پر میں قائم ہوں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے ادارے میری اس بات اور موقوف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کوئی ان کے سامنے غلط بات نہیں کرسکتا تھا۔ انہوں نے اپنی امارت کے دور میں دبنگ طریقے سے امارت کے فرائض سر انجام دیے۔ قاضی حسین احمد کے ساتھ طویل عرصے تک قیم کی ذمے داری ادا کی اور اطاعت اور فرماں برداری کی مثالیں قائم کی۔ نظریاتی تحریکیوں میں سید منورحسن کا کردار مثالی ہے اور اس طرح کی شخصیات تحریکوں میں آکسیجن کا کردار ادا کرتی ہیں۔
آج پاکستان ہی کیا دنیا کہ کسی بھی خطے میں اس طرح کی بلندوبالا شخصیت کا وجود نہیں ہے۔ نظریاتی تحریکوں کے لیے سید منورحسن کوہ ہمالیہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج دنیا ان کے غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ منور حسن عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بڑے بے چین رہتے اور ہر فورم پر ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھاتے۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور ایک اللہ کی کبریائی کو بلند کیا وہ ایک اللہ ہی کی بڑائی بیان کرتے تھے اور اس کی جانب سب کو بلاتے تھے۔ دنیا کے سارے زمینی خدائوںکے سامنے وہ کھلم کھلا علم بغاوت بلند کرتے اور ان کی خدائی سے انکار کرتے تھے۔ عشق مصطفی سے سرشار مدینے کے نظام کو عملی طور پر نافذکرنے کا عزم کرنے والے سید منور حسن آج ہم میں نہیں رہے ہیں۔ لیکن ان کا پاکیزہ اور نیک مشن زندہ اور تابندہ ہے۔ جب تک ہماری گردنوں پر یہ سر موجود ہیں سید ابوالاعلی مودودیؒ، میاں طفیل محمدؒؒ، قاضی حسین احمدؒ اور سید منورحسنؒ کا مشن جاری رہے گا ملک کا ذرہ ذرہ قرآن وسنت کے پیغام سے منور ہوگا۔ سید منور حسن تو ہمیشہ کہتے تھے کہ حق کو تو آنا ہی آنا ہے چاہے کوئی عزت کے ساتھ قبول کرے یا پھر ذلت کے ساتھ، ضرورت اس امر کی ہے کہ طاغوت کے خلاف کشمکش اور جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے اور عوام کو طاغوت کے شکنجہ سے ملت اسلامیہ کو نجات دلائی جائے۔ سید منور حسن کا قافلہ پرعزم بہادر اور جرات مند لوگوںکا قافلہ ہے۔ اس قافلے کو رکنا نہیں اور نہ ہی تھمنا ہے اس قافلہ کو اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہنا ہے۔