گستاخانہ پوسٹ :مقدمہ درج نہ کرنے پربھارت میں ہنگامے‘ 4ہلاک‘ 110گرفتار

288

بنگلور(خبر ایجنسیاں)بھارتی شہر بنگلور میں گستاخانہ پوسٹ پرپولیس کی جانب داری اور مقدمہ درج نہ کرنے پر ہنگامے،پولیس کی نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ،4 افراد ہلاک،متعدد زخمی،110 سے زائد گرفتار۔تفصیلات کے مطابق بھارتی شہر بنگلور میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی سری ویناس مرتھی کے بھتیجے نوین نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی جس پر بنگلور کے مشرقی علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔مظاہرین نے مقامی تھانے سے رجوع کیا مگر پولیس نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا جس پر مظاہرین بپھر گئے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتعل افراد نے بنگلورو میں واقع کانگریس رہنما سری ویناس مرتھی کے گھر کو آگ لگادی جب کہ گھر کے قریب کھڑی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔پولیس کے مطابق ہنگاموں کے دوران 24 گاڑیوں اور تقریباً 200 موٹرسائیکلوں کو آگ لگائی گئی جب کہ پولیس نے مشتعل مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے چارافراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔بنگلور پولیس کا کہنا ہے کہ فیس بک پر توہین آمیز پوسٹ کرنے والے رکن اسمبلی کے بھتیجے کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ احتجاجی مظاہروں میں ملوث 110 افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔بنگلور پولیس کمشنر کے مطابق متاثرہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کردی ہے جس کے بعد صورتحال اب مکمل قابو میں ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس کی جانب سے حساس معاملے پر جانبداری کا مظاہرہ کرنے پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور مشتعل مظاہرین نے تھانے پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں 60 افسران و اہلکار زخمی ہوئے جبکہ وہاں موجود گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے رکن اسمبلی کے بھتیجے کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ایل ایم اے کے بھتیجے نے دعویٰ کیا کہ ان کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا اور انہوں نے کوئی قابل اعتراض مواد پوسٹ نہیں کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہنگامہ آرائی 5 گھنٹے تک جاری رہی جبکہ فیس بک سے گستاخانہ پوسٹ ہٹادی گئی۔خیال رہے کہ بنگلور بھارت کے سلیکون ویلی کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہاں کی 80 لاکھ آبادی میں بڑی تعداد میں مسلمان ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بھارت میں اس طرح کے فسادات نے جنم لیا بلکہ اس سے قبل بھی وہاں مذہبی فسادات رونما ہوچکے ہیں جس میں زیادہ تر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔بھارت میں 2014 میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد مسلم کش فسادات میں اضافہ ہوا ہے رواں سال فروری میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے جس میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی جبکہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔