انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کےاہم نکات

326

قومی اسمبلی میں کثرت رائے منظور ہونے والے  انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020کےاہم نکات سامنے آگئے۔بل میں ممنوعہ اشخاص یا تنظیموں کیلئے کام کرنےوالوں کیخلاف سخت اقدامات شامل ہیں۔

بل کے مطابق کالعدم تنظیموں اور ان سےتعلق رکھنےوالوں کوقرض یامالی معاونت پرپابندی ہوگی،  بینک یامالی ادارہ ممنوعہ شخص کوکریڈٹ کارڈزجاری نہیں کرسکےگا۔

بل کے تحت پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ تصورہوں گے۔ دہشتگردی میں ملوث شخص کی سفری دستاویزات،اکاؤنٹس منجمدہوں گے، ایسے افراد کی رقم، جائیداد بغیر کسی نوٹس کےمنجمد اورضبط ہوگی۔

قانون پرعمل نہ کرانیوالےکو 5 سے 10 سال قید ہوگی اور  ایسے افراد کوڈھائی کروڑ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کثرت رائے سےمنظور کر لیا گیا جب کہ جماعت اسلامی اور بی این پی کے اخترمینگل نے بل کی مخالفت کی۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020، کمپنیات بل 2020 ، نشہ آوراشیاکی روک تھام سےمتعلق ترمیمی بل،دارالحکومت اسلام آباد ٹرسٹ اور شراکت داری محدود ذمہ داری ترمیمی بل 2020 پیش کیے جسے بحث کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

جماعت اسلامی کے مولانا اکبر چترالی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم عوام کے لیے نہیں بین الاقوامی دباؤ پر بل پاس کر رہے ہیں، بل منظوری کے بعد کون مخیر شخص مسجد بنائے گا پانی کے لیے منصوبے لگائے گا اچھا ہے حکومت نے اسلام آباد علاقہ جات  وقف املاک بل موخر کردیا۔

بی این پی کے اختر مینگل نے کہا کہ حکومت میں جب تھے تب بھی مشاورت نہیں کی جاتی تھی ہم نے کبھی اندرونی یا بیرونی دباؤ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور نہ کبھی کریں گے۔

افہام و تفہیم کے ساتھ پانچویں بل کی کثرت رائے سے منظور پر حکومت نے اپوزیشن جماعتوں جے یو آئی، مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور دیگر کا شکریہ ادا کیا۔