شکاگو میں کھلے عام لوٹ مار100 سے زائد گرفتار،13 پولیس اہلکار زخمی

126
شکاگو میں لوٹ مار کے بعد کاروباری مراکز میں سامان بکھرا پڑا ہے، پولیس اہلکار ایک شخص کو گرفتار اور شواہد جمع کررہے ہیں

شکاگو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو کی پولیس نے 100سے زائد جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر بھر میں جرائم بڑھتے جارہے ہیں اور شہری غیر محفوظ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شہر کے متمول علاقے میں خریداری کے مرکز اور دیگر علاقوں میں لوٹ مار، بد امنی اور توڑ پھوڑ کی روک تھام کے دوران 13 پولیس افسر زخمی ہوئے۔ پولیس سربراہ ڈیوڈ براؤن کا کہنا تھا کہ واقعات کا جارج فلوئیڈکی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ایک منظم مجرمانہ سرگرمی تھی۔ براؤن کا کہنا ہے کہ آیندہ ہدایات تک شہر بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہے گی۔ شکاگو کی میئر لوری لائٹ فٹ کا کہنا تھا کہ جرائم کے واقعات شہر پر حملے کے مترادف ہیںاور حراست میں لیے گئے افراد کو لوٹ مار، امن عامہ میں خلل اور پولیس کے خلاف مار پیٹ کے الزامات کے تحت کڑی سزا دی جائے گی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جن دکانوں اور کاروباری مراکز میں لوٹ مار ہوئی وہ 25مئی کو منیا پولس میں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران بند کر دیے گئے تھے اور حال ہی میں دوبارہ کھلے تھے۔ میگنی فی سینٹ مائل نامی علاقہ شکاگو میں سیاحوں کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ وہاں بد امنی اس وقت شروع ہوئی، جب دیواروں اور دکانوں کے شٹروں پر پولیس مخالف نعرے لکھے ملے۔ بعد ازاں جرائم پیشہ افراد نے شہر میں ایک بینک کو لوٹا اور سڑکوں پر اے ٹی ایم مشینیں پھینک دیں۔ کئی دکانوں کے تالے توڑ کر سڑکوں پر ٹیلی وژن سیٹ اور الیکٹرانکس کے دیگر سامان کے ڈبے پارکنگ لاٹوں میں ڈال دیے گئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وارداتیں بہت منظم کاروائی تھی۔