لبنان ،احتجاج میں شدت ،صدر سے بھی استعفے کا مطالبہ

112
بیروت: لبنان میں حکومت مخالف مظاہرین جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں وزیراعظم اور ان کی پوری کابینہ کے استعفے کے بعد بھی مظاہروں کا سلسلہ رک نہ سکااور شہریوں نے صدر میشال عون اور پارلیمان کی سیاسی جماعتوں کی بھی سبکدوشی کا مطالبہ کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بیروت میں حکومت کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد مظاہرین نے پارلیمان کی طرف مارچ شروع کردیا۔ مشتعل شہری بڑی تعداد میں دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے اور صدر و ارکان پارلیمان سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ادھر پولیس اور فوج نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی بے دریغ شیلنگ کی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور انہیںقابو کرنے کے لیے سیکورٹی اہل کاروں کی اضافی نفری طلب کرلی گئی ہے۔ دوسری جانب فرانس نے لبنان کے انتظامی معاملات میں مداخلت شروع کردی۔ وزارت خارجہ نے حسان دیاب کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ پیرس حکومت کی پہلی ترجیح لبنا ن میں جلد از جلد نئی حکومت تشکیل ہے۔ اگر بیروت نے ضروری اصلاحات نہ اپنائیں تو ملک تباہی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ اصلاحات کے بارے میں لبنانی عوام کے مطالبات پر غور کیا جانا چاہیے۔