مریم نواز کی نیب پیشی پر تصادم‘ درجنوں زخمی‘ 50گرفتار۔نیب اور سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج

162
لاہور: مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر لیگی کارکنان پولیس پر پتھرائو کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز کی نیب پیشی پر ن لیگی کارکنان اور پولیس میں تصادم ہوا جس میں پولیس اہلکار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے‘ پولیس نے لیگی کارکنان سمیت50 افراد کوگرفتار کرلیا۔ نیب اور سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج کرلیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کوہنگامہ آرائی کے باعث مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز کی غیر قانونی اراضی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) پیشی منسوخ ہوگئی۔ مریم نواز جاتی امرا سے ریلی کی شکل میں نیب آفس لاہور پہنچیں۔ اس موقع پر رانا ثنا، پرویز رشید، طلال چودھری، ودیگر رہنما اور کارکنان کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ موجود تھی۔ لیگی کارکنوں نے رکاوٹیں ہٹاکر نیب دفتر جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں آگے جانے سے روکا جس پر لیگی کارکن بپھر گئے‘ انہوں پولیس پر پتھرائو کیا اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ پولیس نے لیگی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی بھاری شیلنگ کی، واٹر کینن استعمال کیا، لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں کئی کارکن زخمی ہوگئے۔ پتھرائو سے نیب بلڈنگ کو نقصان پہنچا جبکہ مریم نواز کی گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ مریم نواز نے پولیس پر اپنی گاڑی پر حملہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔نیب نے حالات کی خرابی کی وجہ سے مریم نواز کی پیشی منسوخ کردی جس کے باعث مریم نواز نیب دفتر سے واپس روانہ ہوگئیں۔ نیب کے مطابق شرپسند عناصر کی جانب سے جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کے باعث پیشی منسوخ ہوگئی اور نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ مریم نواز کے واپس جانے کے بعد پولیس نے علاقے میں موجود لیگی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ پولیس نے50 سے زاید لیگی کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے سابقہ ایم پی اے مرزا جاوید کی وڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنی گاڑی میں پتھر رکھوا رہے ہیں۔ نیب آفس پیشی کے وقت مریم نواز کے قافلے میں شامل گاڑیوں کا ریکارڈ پنجاب حکومت نے طلب کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ مقصد ان گاڑیوں کے مالکان کے خلاف مقدمات کا اندراج کرانا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی سینئر نائب صدر مریم نواز شریف نے نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا‘ جھوٹے الزامات کا جواب دینے آئی ہوں‘ حوصلہ نہیں تو سوچ سمجھ کر بلانا چاہیے تھا‘ پولیس نے پتھرائو کر کے میری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا ہے اور یہ ایک بلٹ پروف گاڑی ہے جس کا شیشہ توڑ دیا ہے‘ اگر مسلم لیگ (ن)، میاںمحمد نواز شریف اور مریم نواز سے اتنا ڈرتے ہیں تو پھر آپ مریم نواز کو بلاتے کیوں ہو‘ اگر بلاتے ہو تو حوصلہ رکھو ۔ مریم نواز نے کہا کہ پارٹی کا ایک ہی بیانیہ ہے‘ ووٹ کو عزت دو‘ نوازشریف کے بیانیے کی قیمت 4 سال سے ادا کر رہے ہیں مگر پیچھے نہیں ہٹے‘ میاں نواز شریف نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے‘ نیب کا کردار بہت گھناؤنا ہے اور انتقامی کارروائیوں کے بعد نیب اب خود ایک مطلوب ادارہ بن گیا ہے‘میرے لیے بولنا آسان ہے اور خاموش رہنا مشکل ہے‘ کبھی ہم نے بول کر انہیں ایکسپوزکیا‘ کبھی خاموش رہ کر انہیں ایکسپوز کیا‘ عمران خان کو پہلے آنے کا شوق تھا‘ اب جانے کا خوف ہے‘ جعلی کیس بنا کر پہلے بھی کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی اب کچھ حاصل ہوگا ۔ انہو ںنے کہا کہ جس طرح پر امن اور نہتے کارکنان پر پتھر برسائے گئے‘ اسپرے کیا گیا‘ آنسو گیس پھینکی گئی‘ اس سے متعدد کارکنان زخمی ہوئے‘ میں اس کی بھرپور مذمت کرتی ہوں اور جو کارکنان میرے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے جبر کا سامنا کرتے ہوئے وہاں کھڑے رہے انہیں سلام پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے‘ عمران خان کو اقتدار میں آنے کا بہت شوق تھا‘ عمران خان کو اب جانے کا خوف ہے‘ عمران خان جتنے ظلم کرچکے ہیں‘ انہیں اب اپنے انجام سے خوف آتا ہے۔