وفاق اور سندھ کا بچکانہ رویہ

251

سندھ اور بلوچستان آج کل بارش سے بری طرح متاثر ہیں۔ آخری اطلاعات تک چار سو دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ تین دن سے رابطہ سڑکیں بحال نہیں ہوسکیں۔ کئی پل ٹوٹ چکے ہیں۔ کوسٹل ہائی وے کا وہ پل بھی ٹوٹ گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مضبوط اداروں نے مضبوطی کے ساتھ بنایا تھا۔ لیکن قدرتی آفات کا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے۔ پل ٹوٹ گیا آدھا ٹرک لٹکا ہوا سب نے دیکھا۔ لیکن کمال تو سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات نے کاچھو میں سیلابی ریلا آنے کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔شاہ صاحب صرف سیہون اور کاچھو تو سندھ کا نام نہیں۔ سندھ کا نام تو سندھ ہے اور این ڈی ایم اے نے اس طوفانی بارش کی پیشگی اطلاع کردی تھی۔ محکمے صرف طوفانی بارش کی اطلاع دیتے ہیں جبکہ اس مرتبہ تو کہا گیا تھا کہ نالے بھرنے سے شہروں کے ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ یہ کہنا چاہتے تھے کہ انہیں نالوں کے نام سے اطلاع دی جاتی۔ اور سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کی انتظامیہ تین چار روز قبل ملنے والی اطلاع کے بعد طوفان کو روک لیتی۔ پانی کو کاچھو میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ اصل بات حکومت سندھ کی بری طرح ناکامی ہے جس کی وجہ سے نالے صاف نہیں ہوسکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نالوں کی صفائی میں ہاتھ کی صفائی دکھانے کے بڑے مواقع ہوتے ہیں۔ اس کام میں اوپر سے کھانے کا کام شروع ہوتا ہے اور نیچے پہنچتے پہنچتے مشینری نالوں تک پہنچانے ہی کے فنڈز رہ جاتے ہیں پھر ان کی تصویریں چھپتی ہیں لوگ خوش ہوجاتے ہیں جہاں پانی نہیں آیا وہ سمجھتے ہیں کہ نالہ صاف ہوگیا اور جہاں پانی آگیا وہ سمجھ جاتے ہیں کہ نالہ نہیں ہاتھ صاف کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی برہمی تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی والے مسلسل حکومت سندھ پر تنقید کررہے ہیں۔ اس لیے وزیراعلیٰ نے سیہون کے دورے کے موقع پر کہا کہ کراچی کہیں جارہا ہے نہ سندھ حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔ یہاں تو وہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے آئے تھے کراچی کے بارے میں خبر کہاں سے آگئی۔وزیراعلیٰ صاحب خطرہ تو سندھ کے عوام کو ہے۔ پورا سندھ بارش کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے آپ کو بھی حکومت کی پڑی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کو بھی۔ صرف وزیراعلیٰ سندھ شدید بارش اور تباہ کاریوں میں سندھ حکومت اور اختیارات و سازشوں کی بات نہیں کررہے بلکہ صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ اور سعید غنی نے بھی اسی قسم کی بات کی ہے۔ دونوں نے بڑی محنت سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ کراچی پر سندھ حکومت کا نہیں وفاق کا کنٹرول ہے۔ دونوں وزراء نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کراچی کا 70 فیصد حصہ وفاقی اداروں کے زیر انتظام ہے۔ ان میں سول ایوی ایشن، ریلوے، کے پی ٹی اور کنٹونمنٹ بورڈز شامل ہیں۔ شاید ڈی ایچ اے کو بھی کنٹونمنٹ میں شامل سمجھا گیا ہوگا۔ بحریہ ٹائون کا ذکر گول کردیا گیا کہ یہ کس کے زیر انتظام ہے۔ بہرحال صوبائی وزراء کے اس انکشاف کا مقصد یہ تھا کہ کراچی میں ساری ذمے داری ہماری نہیں ہے بلکہ وفاق اپنی ذمے داری ادا کرے۔ اب وفاق یہ ذمے داری اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے تو جھگڑا کس بات کا۔ دونوں وزراء نے یہی کہا ہے کہ کراچی کے 70 فیصد علاقے وفاقی اداروں کے کنٹرول میں ہونے کے باوجود ہم نے ہر علاقے میں پانی کی نکاسی کا کام کیا ہے۔ دونوں وزرا نے نالوں پر تجاوزات کے حوالے سے کہا کہ اس پر تجاوزات ہماری حکومت سے پہلے قائم ہوئی تھیں۔ لیکن کب؟ مراد علی شاہ سے پہلے مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ اس سے قبل قائم علی شاہ۔ ایک مدت کے لیے ارباب رحیم اور مہر اور اس سے قبل بھی پی پی پی ، جناب سعید غنی صاحب اور ناصر شاہ صاحب تجاوزات قائم ہونے کے بعد آپ کی تین حکومتیں آئیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے کہ پی پی سے پہلے تجاوزات قائم ہوئیں۔ تو پی پی کی تین حکومتوں میں کبھی نالوں پر تجاوزات پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ جو رویہ وفاقی حکومت کا ہے وہی رویہ سندھ حکومت کا ہے۔ یعنی بچکانہ ہے۔ حکومتوں کا یہ رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور سندھ حکومت ایک دوسرے پر الزامات لگارہے ہیں اور نقصان عوام اٹھارہے ہیں۔ سعید غنی صاحب اور ناصر شاہ صاحب کو آج پتا چلا کہ کراچی کے 70 فیصد علاقے وفاقی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ یہ بات پہلے کیوں پتا نہیں چلی۔