بیروت دھماکے: لبنان مظاہروں کی لپیٹ میں

272

بیروت دھماکوں کے بعد سے لبنان بھر میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کرگئے۔

عوامی دباؤ کے پیش نظر لبنان کے وزیر اطلاعات استعفیٰ دے چکے ہیں ، بیروت میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہےجبکہ  ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں، گزشتہ روز مظاہرین نے وزارت داخلہ سمیت متعدد حکومتی دفاتر پر قبضہ کرلیا تھا۔ کئی مظاہرین نے ملکی پارلیمان کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

Two Lebanese ministers resign amid protests after deadly Beirut ...

دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اب بیروت میں  زخمی ہونے والے مظاہرین کی تعداد 238 ہوگئی ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

یاد رہے کہ لبنان میں ترکی جانب سے امدادی سامان روانہ کیا گیا جسے ترکی کے نائب صدر فوات اوکتائے اور وزیرخارجہ میولوت چاوش اوغلو کےکر بیروت پہنچے ۔ترکی کی جانب سے امدادی سامان ملنے پر لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ترک صدر طیب اردان کے حق میں نعرے اور صدارتی وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔

World donors demand change before money to rebuild Beirut | World ...

 اس سے قبل وزیر اعظم حسن دیاب نے ہفتے کی شام اپنے خطاب میں پارلیمانی انتخابات وقت سے پہلے کرانے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ بیروت میں دھماکوں کے بعد لبنان  کے لوگوں میں شدیدغم و غصہ پایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ بیروت دھماکوں کے نتیجے میں 135 افراد جاں بحق ، 5 سے زائد زخمی ہوئے  جبکہ 2 لاکھ سے زائد لوگ بےگھر ہیں۔