سلیکٹڈ کی ترجیحات ترقی پسند سوچ رکھنے والوں سے متصادم ہے،فضل الرحمن

166

ڈیرہ اسماعیل خان (صباح نیوز) جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نظریاتی و جغرافیائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی خارجہ پالیسی کو ایک واضح سمت دینا ضروری ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نااہل سلیکٹڈ کی ترجیحات اور پسند و ناپسند ترقی کی سوچ رکھنے والوں کی حکمت عملی سے متصادم ہے‘ میڈیا پر سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کے بارے میں آئے روز نئی نئی موشگافیاں حکمرانوں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہیں جس سے دنیا کے ممالک اور خصوصاً ہمارے دوست ممالک میں بھی تشویش جنم لیتی ہے اور عوام بھی پریشان ہوتے ہیں‘ ہمارا ملک اقوام عالم اور مسلم امہ میں اپنی ایک شاندار شناخت رکھتا تھا جسے نااہل لاڈلہ اور اس کی ٹیم تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد
ممالک کے دوستانہ گروپس میں ردوبدل کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہاں کے ممالک اپنے عوام اور ریاست کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے دوستی اور تعلقات کی نئی گروپ بندیاں کی ہیں جبکہ ہمارے ملک پر مسلط کردہ نااہل سلیکٹڈ حکمران اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر اقوام عالم سے تعلقات اور دوستانہ مراسم کے قیام میں مصروف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے پہلے دن سے یہی موقف اختیار کیا تھا کہ اس لاڈلے کی ہمدردیاں اور پشت پناہی وہ ممالک اور قوتیں کررہی ہیں جو پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی مفادات کے یکسر مخالف ہیں جس کی تائید ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور حکومت میں نئے بجلی گھروں کی تعمیر اور سی پیک کی مد میں ملنے والے بجلی گھر کے قیام سے نیشنل گرڈ میں بجلی کی کمی کا اب کوئی مسئلہ نہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ بجلی کی ترسیل کا نظام اتنا پرانا اور کمزور ہے کہ وہ مطلوبہ لوڈ برداشت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا لہٰذا اب سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے لیے نئی ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب انتہائی ضروری ہے۔