پارٹی میں دھڑے بندی نہیں،شاہد خاقان۔معافی مانگنا ہوگی،جاوید لطیف

197

اسلام آباد (صباح نیوز/آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی میں کوئی دھڑے نہیں‘ ہماری جماعت اس بیانیہ پر قائم ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق حکومت ہو اور جس کی ذمے داری ہے اس کے پاس اختیار بھی ہو‘ عوام کی رائے کا احترام ہو اور ووٹ کی عزت ہو‘ یہی ہمارا بیانیہ ہے‘ پارٹی کے لیڈر میاں محمد شہباز شریف ہیں‘ وہی اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کا فیصلہ کریں گے‘ مشاورت سب سے ہو گی اور اے پی سی اپنے وقت پر ہو گی کیونکہ اے پی سی آج کی ضرورت ہے اس میں کوئی2 رائے نہیں۔ اتوار کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے
کہا کہ مولانا فصل الرحمن کے تحفظات ہیں‘ سیاست میں ہمیشہ اختلاف رہتا ہے اور اس اختلاف کو مل بیٹھ کر ہی دور کیا جاتا ہے‘ اگر آپ اس ملک کو صحیح معنوں میں جمہوریت نہیں دیں گے تو پاکستان ترقی نہیں کرسکتا‘ جب یہ چیز حاصل ہو جائے گی تو پھر ملک ترقی کرے گا‘ ملک میںکوئی الیکشن بھی شفاف نہیں ہوا‘جمہوریت کا سفر دیکھیں‘ خلائی مخلوق ہمارے بیانیہ میں شامل نہیں۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے حکومت گرانے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ اے پی سی میں حکومت گرانے کا وقت اور طریقہ کار طے کیا جائے گا‘ شاہد خاقان عباسی موقف تبدیل کرنے پر قوم اور اداروں سے معافی مانگیں۔ اتوار کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا 2 بیانیے والا چکر ہے‘ اگر ان کا پہلا بیان غلط تھا تو وہ اداروں اور قوم سے معافی مانگیں ‘انسان کو اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے‘ مشکلات سے گھبرا کر موقف میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے ۔جاوید لطیف نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں موجود کچھ لوگ چور دروازے سے حکومت گرانا چاہتے ہیں لیکن یہ اداروں اور ریاست کے مفاد میں نہیں ہوگا البتہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے طور پر تحریک انصاف کی حکومت گرانے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ مسلم لیگ (ن) اپنا فیصلہ متحدہ اپوزیشن کے سامنے رکھے گی ‘ آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت گرانے کا وقت اور طریقہ کار طے کیا جائے گا ۔